الطاف حسین کے بھارتی چینل کو انٹرویو پر تشویش، جلد جواب دیا جائے گا، ترجمان دفتر خارجہ

اپ ڈیٹ 21 نومبر 2019

ای میل

ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں مختلف امور پر بات کی—فائل فوٹو: اے ایف پی
ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں مختلف امور پر بات کی—فائل فوٹو: اے ایف پی

دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کی جانب سے بھارتی ٹی وی چینل کو انٹرویو دینے پر تشویش کا اظہار کردیا۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ڈاکٹر محمد فیصل نے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے بھارتی چینل کو انٹرویو کے معاملے پر کہا کہ اس کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس پر تفصیلی جواب دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو زیرگردش تھی، جس میں بانی ایم کیو ایم بھارتی ٹی وی ریپبلک کے میزبان ارناب گھوسوامی کو انٹرویو دے رہے تھے۔

اس انٹرویو میں الطاف حسین نے آغاز میں بھارتی حکومت اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے لیے سیاسی پناہ کی درخواست کی۔

ساتھ ہی ایم کیو ایم کے بانی نے پاکستان اور ریاستی کے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی بھی کی تھی۔

مزید پڑھیں: الطاف حسین کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے سیاسی پناہ کی درخواست

یہی نہیں بلکہ الطاف حسین نے اپنے انٹرویو میں مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھی متنازع بات کی جبکہ اپنے بیان میں انہوں نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے خلاف الزامات کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

پاکستان کی ناروے میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کی مذمت

دوسری جانب ریڈیو پاکستان نے رپورٹ کیا کہ ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے ناروے کے ایک شہر میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے واقعے پر مذمت کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ مسلمان دوسرے مذاہب کا احترام کرتے ہیں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو بھی مسلمانوں کے جذبات و احساسات کا احترام کرنا چاہیے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں یہ رپورٹس آئی تھیں کہ ناروے میں اسلام مخالف تنظیم کی ریلی کے دوران ایک شخص نے قرآن پاک کی مبینہ طور پر بے حرمتی کی کوشش کی تھی۔

'بھارت مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ و موبائل سروس بحال کرے'

ادھر بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ بھارتی حکومت فوری طور پر مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بحال کرے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کرے۔

ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور پابندیاں عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری جنرل کو خط ارسال کیا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادنہ کمیشن قائم کیا جائے جو وہاں کے حالات جانچ سکے۔

ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت غیر قانونی جبری حراستوں اور گرفتاریوں کے حوالے سے اعداد و شمار موجود نہیں، بھارت نے بھی اس ضمن میں ایف آئی آر درج کرنا اور اعداد و شمار میڈیا کے سامنے لانے کا سلسلہ بند کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں شٹ ڈاؤن سے 1 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے، تجارتی تنظیم

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں خوراک کی قلت ہے، ہم اس معاملے کو بار بار اٹھا رہے ہیں کہ وہاں سے پابندیاں ختم کی جائیں۔

خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کا خاتمہ کردیا تھا، ساتھ ہی وہاں کرفیو، لاک ڈاؤن کردیا تھا۔

اس لاک ڈاؤن کو 100 روز سے زائد ہوچکے ہیں جبکہ وادی میں مواصلاتی رابطے بھی منقطع ہے، جس کی وجہ سے کشمیری محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

'کرنل (ر) حبیب ظاہر کا موت کا سرٹیفکیٹ بظاہر جعلی'

ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان نے لاپتہ ہونے والے پاک فوج کے سابق کرنل حبیب ظاہر کے حوالے سے کہا کہ ان کی موت کا سرٹیفکیٹ دیکھا ہے جو بظاہر جعلی نظر آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرنل حبیب کے اہل خانہ اور حکومت پاکستان ان کے حوالے سے پریشان ہیں۔

واضح رہے کہ اپریل 2017 میں پاک فوج کے سابق لیفٹیننٹ کرنل محمد حبیب ظاہر نیپال سے لاپتہ ہوگئے تھے جس کی دفتر خارجہ نے بھی تصدیق کی تھی۔

کرنل حبیب 6 اپریل 2017 سے نیپال کے ضلع روپان دیہی میں واقع بدھ مت کے پیروکاروں کے مقدس ترین مقام لمبینی سے لاپتہ ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں: سابق کرنل کی گمشدگی: ’حکومت حبیب ظاہر کی واپسی تک سکون کا سانس نہیں لےگی‘

ادھر اپنی بریفنگ میں ڈاکٹر محمد فیصل نے افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات پر سرد مہری کے حوالے سے کہا کہ اس بارے میں اطلاع نہیں ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

'بھارت سے خیر کی توقع نہیں'

بریفنگ کے دوران ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ ہمیں بھارت سے کسی خیر کی توقع نہیں ہے، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ سیاچن کے حوالے سے میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے سیاچن پر زبردستی قبضہ کیا تھا، یہ ایک متنازع علاقہ ہے، بھارت اسے سیاحت کے لیے کیسے کھول سکتا ہے۔

'کرتارپور آنے والے یاتریوں کیلئے رکاوٹیں پیدا کرنے کی اطلاعات'

پاکستان کی مقبوضہ فلسطین میں غیر قانونی آباد کاری پر موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور اطلاعات ہیں کہ کرتار پور آنے کے لیے یاتریوں کے لیے بھارت کی جانب سے رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کرتارپور راہداری سے متعلق کہا کہ اطلاعات ہیں کہ بھارت سے یاتریوں کی آمد میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تاریخ ساز کرتارپور راہداری کے افتتاح کے مناظر

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی رکاوٹ نہیں، روزانہ 5 ہزار سکھ یاتریوں کی کرتارپور آنے کی گنجائش ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے سکھوں کے مذہبی پیشوا بابا گرونانک کے 550 ویں جنم دن کے موقع پر 9 نومبر کو کرتارپور راہداری کا افتتاح کیا تھا۔

اس افتتاحی تقریب میں پاکستانی شخصیات کے علاوہ بھارت کے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ، سابق کرکٹر اور سیاست دان نوجوت سنگھ سدھو، اداکار سنی دیول و دیگر شریک ہوئے تھے۔

سعودی عرب حادثے میں 12 پاکستانیوں کی اموات کی تصدیق

ڈاکٹر محمد فیصل نے گزشتہ ماہ سعودی عرب میں مدینہ منورہ کے قریب بس حادثے میں 12 پاکستانیوں کی موت کی بھی تصدیق کی اور بتایا کہ ڈی این اے و دیگر کارروائی کے بعد اس کی تصدیق ہوسکی۔

خیال رہے کہ 16 اور 17 اکتوبر کے درمیان سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ کے قریب بس حادثے کے نتیجے میں 35 زائرین جاں بحق اور 4 زخمی ہوگئے تھے۔

مدینہ پولیس کے ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ کہ حادثہ مدینہ منورہ سے 170 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع حجرہ روڈ پر اس وقت پیش آیا جب نجی بس مسافروں کو لے کر جارہی تھی کہ راستے میں ایک لوڈر سے ٹکرا گئی۔

دیگر امور پر بریفنگ

علاوہ ازیں بریفنگ کے دوران ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ گلگت بلتستان کو حقوق دینے کی بات ہے تاہم اسے کبھی بھی صوبہ بنانے کا منصوبہ نہیں بنایا گیا۔

مزید پڑھیں: ملکہ نیدرلینڈز کا 25 نومبر سے تین روزہ دورہ پاکستان

دوران بریفنگ ڈاکٹر محمد فیصل نے ہالینڈ کی ملکہ کے دورہ پاکستان کے بارے میں بتایا کہ وہ 25 سے 27 نومبر تک پاکستان کا دورہ کریں گی۔

ساتھ ہی انہوں نے سری لنکا کے نو منتخب صدر کو بھی مبارک باد دی اور کہا کہ امید ہے کہ ان کے دور اقتدار میں پاکستان اور سری لنکا کے تعلقات بہتر ہوں گے۔