امریکا آئندہ برس 15 تجارتی وفود پاکستان بھیجے گا، ایلس ویلز

اپ ڈیٹ 28 نومبر 2019

ای میل

امریکی محکمہ تجارت نے پاکستان کے حوالے سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
امریکی محکمہ تجارت نے پاکستان کے حوالے سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

واشنگٹن: امریکا، پاکستان کے ساتھ تجارت میں اضافہ کرنے کے حوالے سے مواقع کا جائزہ لینے کے لیے آئندہ برس 15 تجارتی وفود اسلام آباد بھیجے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی معاون سیکریٹری ایلس ویلز نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک میں ایک دستاویز پڑھی تھی جس میں زیادہ تر بات پاک چین اقتصاری راہداری (سی پیک) منصوبے پر کی گئی تھی لیکن اس میں پاکستان اور امریکا کی تجارت کو فروغ دینے کے لیے متعدد تجاویز بھی شامل تھیں۔

مذکورہ دستاویز امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع کردی گئی جس کے مطابق امریکی محکمہ تجارت نے پاکستان کے حوالے سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے جس کے تحت آئندہ برس 15 تجارتی وفود پاکستان بھجوانے کا منصوبہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سی پیک، پاکستان پر قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کرے گا، امریکا کا انتباہ

دستاویز میں لکھا گیا کہ ایک مرتبہ جب توسیع شدہ مالی تعاون کی ترقی (ڈی ایف سی) کا آغاز ہوجائے گا تو ’پاکستان بڑے مفادات کا حامل ملک بن جائے گا‘۔

دستاویز کے مطابق ڈی ایف سی میں سرمایہ کاری کا حجم اوورسیز پرائیویٹ کارپوریشن (او پی آئی سی) سے دوگنے سے بھی زیادہ ہوگی اور یہ 29 ارب ڈالر سے بڑھ کر 60 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی، خیال رہے کہ او پی آئی سی امریکی ادارہ ہے جو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے نجی سرمایے کو متحرک کرتا ہے۔

دستاویز میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سرمایہ دوگنا ہونے سے اعلیٰ میعار کے منصوبوں میں سرمایہ کاری ہوگی اور اس سے مالیاتی استحکام طویل عرصے تک برقرار رہے گا۔

پاکستان پر اضافی امریکی وسائل سے اضافہ اٹھانے فائدہ اٹھانے کے لیے زور دیتے ہوئے ایلس ویلز نے اسلام آباد کو یاد دہانی کروائی کہ حقیقی مستحکم ترقی ایک طویل عمل ہے مختصر مدت کی دوڑ نہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان سی پیک کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنے میں خودمختار ہے، امریکا

انہوں نے کہا کہ اس کے لیے رگولیٹری فریم ورک، قانون کی مضبوط حکمرانی، مالی صحت اور تجارتی ماحول کی موثر ترقی کی ضرورت ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے دورہ امریکا کے موقع پر امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات کے فروغ اور سرمایہ کاری تعلقات کے حوالے سے بہت پر جوش تھے اور دونوں ممالک اس کو عملی جامہ پہنانے کی سخت کوششیں کررہی ہیں۔

دستاویز میں امریکا اور پاکستان کے مابین موجود کچھ تجارتی روابط کا بھی ذکر کیا گیا مثلاْ امریکی کمپنی ایکسلریٹ پاکستان کے پہلے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) ٹرمینل میں ری گیسیفکیشن کے پانی میں تیرتے ہوئے ذخیرے کو اپ گریڈ کرنے کے لیے 30 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہے۔

اسی طرح ایگزون موبائل ایل این جی کی نئی فراہمی تک رسائی کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرنے کے لیے کام کررہی ہے اس کے علاوہ پیپسی کو، اوبر اور پراکٹر اینڈ گیمبل کی جانب سے پاکستان میں کی جانے والی سرمایہ کاری کا بھی ذکر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سی پیک سے متعلق امریکا کے خدشات سے متفق نہیں، فردوس عاشق اعوان

دستاویز میں کہا گیا کہ امریکی کمپنیاں اعلیٰ میعار اور ٹیکنالوجی فراہم کررہی ہیں اور پاکستانی رہنما اکثر پاکستانی کمپنیوں کو سراہتے ہیں۔

اس کے ساتھ امریکا نے پاکستان میں کچھ بہت معتبر اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کرنے می بھی مدد کی، جن میں لمز، آئی بی اے، جے پی ایم چی اور نسٹ میں سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز برائے انرجی بھی شامل ہے۔

ایلس ویلز کا دستاویز میں مزید کہنا تھا کہ ’یہ بات واضح ہے کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان ڈیولپمنٹ اشتراک بنیادی طور پر گرانٹس (امداد) پر مشتمل ہے قرضوں پر نہیں جو اس سمت کی جانب اشارہ کرتے ہیں جو ہمارا تصور ہے'۔