تینوں شعبوں میں خراب کارکردگی کے سبب شکست ہوئی، اظہر

02 دسمبر 2019

ای میل

اظہر علی نے بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ میں خراب کارکردگی کو آسٹریلیا کے خلاف شکست کی وجہ قرار دیا— فائل فوٹو: اے ایف پی
اظہر علی نے بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ میں خراب کارکردگی کو آسٹریلیا کے خلاف شکست کی وجہ قرار دیا— فائل فوٹو: اے ایف پی

قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی نے بابر اعظم کی عمدہ بیٹنگ کو دورہ آسٹریلیا میں پاکستانی ٹیم کے لیے مثبت پہلو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام شعبوں میں خراب کارکردگی کے سبب آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

آسٹریلیا نے پاکستان کو بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں آؤٹ کلاس کرتے ہوئے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 0-2 کلین سوئپ کیا۔

مزید پڑھیں: پاکستانی ٹیم ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں کھاتا کھولنے میں ناکام

پاکستان کی سیریز میں ابتر کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کو دونوں میچوں میں اننگز کی شکست کا سامنا کرنا پڑا اور دونوں میچ چوتھے ہی دن اختتام پذیر ہو گئے۔

دورے میں پاکستان کی کارکردگی تمام ہی شعبوں میں انتہائی خراب رہی لیکن نوجوان بلے باز بابر اعظم نے ون ڈے اور ٹی20 کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں بھی عمدہ کارکردگی سے شائقین کرکٹ کے دل جیت لیے۔

دورہ آسٹریلیا سے قبل کھیل کے سب سے طویل فارمیٹ بابر اعظم کی کارکردگی واجبی تھی لیکن وارم اپ میچ میں سنچری کے ساتھ اپنے خطرناک عزائم کا اظہار کرنے والے بابر اعظم نے پہلے میچ میں سنچری اور دوسرے میچ میں 97رنز کی اننگز کھیل کر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔

قومی ٹیم کے کپتان اظہر علی نے بابر اعظم کی ٹیسٹ کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کو دورے کا مثبت پہلو قرار دیتے ہوئے کہا کہ بابر اعظم نے ایک بہترین ٹیسٹ بلے باز کی حیثیت سے بھی اپنی صلاحیتوں کو منوا لیا ہے، محدود اوورز کی کرکٹ میں تو ان کی کارکردگی شاندار تھی ہی لیکن اب ٹیسٹ کرکٹ میں بھی ان کے اعدادوشمار بہتر ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آسٹریلین سرزمین پر لگاتار 5واں کلین سوئپ اور نیا عالمی ریکارڈ

ان کا کہنا تھا کہ جب ایک مضبوط باؤلنگ اٹیک کے خلاف سخت کنڈیشنز اور مشکل حالات میں رنز اسکور کرتے ہیں تو اس سے آپ کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے، بابر نے پورے سال بہت اچھی کارکردگی دکھائی اور امید ہے کہ وہ آنے والے ٹیسٹ میچوں میں بھی اپنی کارکردگی برقرار رکھیں گے۔

اظہر علی نے دورے میں محمد رضوان کی بھی وکٹ کیپر کے ساتھ ساتھ بلے سے بھی متاثر کن کارکردگی سراہا اور کہا کہ رضوان ایک عرصے سے ڈومیسٹک میں کارکردگی دکھا رہے تھے، پھر دبئی میں اے ٹیم کے لیے بھی ان کی پرفارمنس بہت اچھی رہی جبکہ آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے میچوں میں بھی انہوں نے سنچریاں اسکور کیں، وہ کافی عرصے سے قومی ٹیم میں موقع ملنے کے منتظر تھے کیونکہ سرفراز بھی بہت اچھی کارکردگی دکھا رہے تھے لہٰذا وکٹ کیپنگ کے شعبے میں ہمارے پاس بہت اچھا مقابلہ ہے۔

قومی ٹیم کی کارکردگی اس ٹیسٹ سیریز میں تمام ہی شعبوں میں خراب رہی لیکن کپتان نے ناکامی کا ذمے دار ناتجربہ کار باؤلنگ اٹیک کی ناقص کارکردگی کو قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کی اے اور انڈر19 ٹیم کے زیادہ سے زیادہ غیرملکی دوروں پر زور دیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کو اننگز اور 48رنز سے شکست، آسٹریلیا کا کلین سوئپ

اظہر علی نے کہا کہ ہمارے لیے یہ سیریز بہت مایوس کن رہی، ہم توقعات پر پورا نہ اتر سکے کیونکہ ہماری ٹیم نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل تھی، یہ وہ بہترین ٹیم تھی جسے ہم منتخب کر سکتے تھے خصوصاً باؤلنگ میں ہمارے پاس وسائل محدود تھے، آسٹریلیا میں ہمیں ایک خاص طرح کے باؤلرز کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ڈومیسٹک اسٹرکچر میں اس طرح کے باؤلرز موجود نہیں کیونکہ جب آپ کوکابورا گیند سے باؤلنگ کرتے ہیں تو آپ کو اضافی رفتار کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس سے قبل میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے اظہر علی نے آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں کلین سوئپ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ٹیسٹ میچوں میں ہم تینوں شعبوں میں اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے لیکن اس دورے میں چند مثبت پہلو رہے اور ہمیں سیکھنے کا موقع ملا۔