انڈر-19 ٹیم کو بھارت سے شکست،‘10 لاکھ والے آئیں گے تو ایسی کوچنگ ہوگی’

اپ ڈیٹ 08 فروری 2020

ای میل

شعیب اختر نے کہا کہ اعجاز احمد کو پورے اختیارات دیے جائیں تو وہ کچھ کر سکیں گے — فائل/فوٹو:ڈان
شعیب اختر نے کہا کہ اعجاز احمد کو پورے اختیارات دیے جائیں تو وہ کچھ کر سکیں گے — فائل/فوٹو:ڈان

کرکٹ کی تاریخ کے تیز ترین باؤلر شعیب اختر نے انڈر-19 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں بھارت کے ہاتھوں قومی ٹیم کی شکست کی وجہ خراب کوچنگ کو قرار دے دیا۔

شعیب اختر نے اپنے یوٹیوب چینل میں انڈر-19 ٹیم ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان اور بھارت کے مقابلے پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے کھلاڑیوں میں سنجیدگی کا فقدان تھا جبکہ حریف ٹیم کے لڑکوں نے اچھا کھیلا جس پر انہیں مبارک باد دینی چاہیے۔

بھارتی انڈر-19 ٹیم کے کھلاڑیوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘بھارتی ٹیم میں مجھے سب سے اچھی چیز لگی کہ وہ بہت میچور تھے، سوچیے وہ کیوں میچور تھے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘وہ میچور اس لیے تھے کہ ان کا کوچ میچور ہے، انڈر-19 کوچنگ کے لیے کس کو لانا ہے، بھارت کا مڈل آرڈر کا سب سے بڑا بلے باز راہول ڈریورڈ ہے، ڈریوڈ کو 5 کروڑ دو گے تو وہ آئے گا جب بڑے آدمی کو لاؤ گے تو بڑے پیسے بھی دینے پڑیں گے’۔

شعیب اختر کا کہنا تھا کہ ‘یہاں پر یونس خان نوکری مانگنے گیا، انہیں نوکری کی پیش کش بھی کی پھر ان سے بارگینگ کر رہے ہیں کہ 15 لاکھ نہیں 13 لاکھ لے لیں، اس نے کہا کہ بھاگو یہاں سے، آپ تو اپنے اسٹارز سے اس طرح کا سلوک کرتے ہیں’۔

مزید پڑھیں:انڈر19 ورلڈ کپ سیمی فائنل، پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں 10وکٹوں سےشکست

انہوں نے کہا کہ ‘پھر کہتے ہیں رضاکارانہ طور پر آجاؤ، ہم تیار ہیں، اگر میں، محمد یوسف یا یونس خان یہاں کھڑے ہوتے تو دیکھتے کہ یہ لڑکے کیسے بھاگتے، بڑے کام کے لیے بڑے بندے کو لانا پڑے گا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں نوکری مانگ رہا ہوں’۔

سابق اسپیڈ اسٹار نے کہا کہ ‘ہماری ٹیم امیچور لگ رہی تھی اور ان کی ٹیم لگ رہی تھی بھارت کی سینئر ٹیم کھیل رہی ہے، کیونکہ 5 سال سے ایک بندہ کوچ ہے راہول ڈریوڈ، سارے اختیارات ان کے پاس ہیں، اکیڈمی ان کے پاس ہے اور انہوں نے کہا کہ کوئی لڑکا دوسری مرتبہ ورلڈ کپ نہیں کھیلے گا’۔

شعیب اختر کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے کئی لڑکے ایسے ہیں جو دوسری مرتبہ ورلڈ کپ کھیل رہے ہیں بس خانہ پوری کر رہے ہیں، راؤ افتخار کون ہے اور فیلڈنگ کوچ کون ہیں آپ ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے’۔

کوچ کو وقت دینے پر زور دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘اعجاز احمد تین برس نظر نہیں آئے لیکن ایک دم کوچ بنا کر پیش کردیا، اب ان کو لے کر آئے ہیں تو انہیں پورے اختیارات دیں تاکہ وہ کچھ کریں اور ان سے مطالبات کریں اور انہیں میچ بھی دیں’۔

پاکستان کی انڈر-19 ٹیم کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہماری ٹیم کو میچ نہیں ملتے جبکہ بھارتی ٹیم نے 30 سے زائد میچ کھیلے اور بنگلہ دیش کے لڑکوں نے بھی 30 کے قریب میچ دیکھے۔

شعیب اختر نے کہا کہ ‘مانا کی بی سی سی آئی کے پاس بہت پیسہ ہے لیکن بنگلہ دیش کی ٹیم بھی دیکھیے وہ بھی ہمارے جتنے ہیں، وہاں کوچز اور تنخواہیں دیکھو، کون آئے گا دس لاکھ پر کوچنگ کرنے کے لیے جو 10 لاکھ والے آئیں گے تو یہی ہوگا آپ دیکھیں گے’۔

یاد رہے کہ پاکستان انڈر-19 ٹیم کو ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں بھارت کی ٹیم سے 10 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جہاں بھارتی اوپنرز جیسوال اور سیکسینا نے زبردست بیٹنگ کا مظاہرہ کیا تھا۔