بیرون ملک جانے کا معاملہ، مریم نواز کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

اپ ڈیٹ 10 فروری 2020

ای میل

مریم نواز نے اپنا نام ای سی ایل سے نکلوانے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی
مریم نواز نے اپنا نام ای سی ایل سے نکلوانے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی

لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی بیرون ملک جانے کی اجازت کے لیے دائر کردہ درخواستوں پر سماعت کے لیے مقرر کردی۔

عدالت عالیہ کا نیا دو رکنی بینچ مریم نواز کی درخواست پر 18 فروری کو سماعت کرے گا۔

مذکورہ بینچ کی سربراہی جسٹس علی باقر نجفی کریں گے جبکہ مریم نواز کی دو درخواستوں پر سماعت ہوگی۔

واضح رہے کہ مریم نواز کی جانب سے بیرون ملک جانے کے لیے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے اور پاسپورٹ کی واپسی کے لیے درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

مزید پڑھیں: مریم نواز کی بیرون ملک جانے کی درخواست پر سماعت کرنے والا بینچ تحلیل

یاد رہے کہ اس سے قبل مریم نواز کی درخواستوں پر سماعت جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں بینچ کر رہا تھا تاہم وہ بینچ تحلیل ہوگیا تھا جس کے بعد جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ مذکورہ معاملے پر سماعت کر رہا تھا۔

تاہم گزشتہ دنوں مذکورہ دو رکنی بینچ بھی تحلیل ہوگیا تھا جس کے بعد دوبارہ جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں جسٹس طارق سلیم شیخ پر مشتمل 2 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

مریم نواز کی درخواست

خیال رہے کہ ہفتہ 7 دسمبر کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکلوانے اور 6 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

مریم نواز نے امجد پرویز ایڈووکیٹ کے توسط سے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس میں وزارت داخلہ، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین اور ڈی جی نیب لاہور کو فریق بنایا گیا تھا۔

درخواست میں مریم نواز کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا تھا کہ العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے باوجود بیمار والدہ کو چھوڑ کر بیرون ملک سے والد کے ساتھ واپس آئی لیکن میرا مؤقف سنے بغیر ہی نام ای سی ایل میں شامل کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت پنجاب نواز شریف کی طبی رپورٹس سے غیر مطمئن

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ای سی ایل میں نام شامل کرنے کا میمورنڈرم غیر قانونی اور آئین کی خلاف ورزی ہے جبکہ نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا میمورنڈم اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔

مریم نواز نے مؤقف اپنایا تھا کہ والدہ کی وفات کے بعد والد نواز شریف کی دیکھ بھال وہ ہی کرتی رہی ہیں اور وہ بیماری میں مجھ پر ہی انحصار کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں مریم نواز نے پاسپورٹ واپس لینے کے لیے بھی لاہور ہائی کورٹ میں متفرق درخواست دائر کی تھی۔