زلمے خلیل زاد کی ملا برادر سمیت طالبان کی سینئر قیادت سے ملاقات

اپ ڈیٹ 11 فروری 2020

ای میل

زلمے خلیل زاد رواں ماہ کے اوائل میں کابل پہنچے تھے—فوٹو:بشکریہ خامہ پریس
زلمے خلیل زاد رواں ماہ کے اوائل میں کابل پہنچے تھے—فوٹو:بشکریہ خامہ پریس

افغانستان کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے ملا برادر اور طالبان کے سیاسی امور کے نائب سربراہ سے قطر میں ملاقات کی۔

افغانستان کی نیوز ایجنسی 'خاما' کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ‘ملا محمد فاضل، ملا خیراللہ خیرخوا اور مولوی امیر خان متقی سمیت طالبان کی دیگر سینئر قیادت ملاقات میں موجود تھی’۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی نمائندے سے ملاقات کے دوران قطر کے وزیرخارجہ بھی موجود تھے۔

سہیل شاہین کے مطابق اجلاس کے شرکا نے امن عمل سمیت مستقبل میں لیے جانے والے اہم اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

خیال رہے کہ امریکا اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان 2018 میں براہ راست مذاکرات شروع ہوگئے تھے اور اب تک امن مذاکرات کے 11 دور ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی نمائندہ خصوصی امن مذاکرات کے لیے کابل پہنچ گئے

قطر میں امریکی نمائندے سے ملاقات کے حوالے سے ٹویٹر میں اپنے بیان میں طالبان ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ‘گزشتہ شام کو امارت اسلامی افغانستان کے نائب سیاسی امور ملا برادر اخوند، ملا محمد فضل، ملا خیراللہ خیرخوا اور مولوی امیر خان متقی کی قطر کے وزیرخارجہ اور زلمے خلیل زاد سے ملاقات ہوئی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘مذاکرات کے نتائج اور اس کے بعد کارروائیوں کے حوالے سے چند اہم امور پر بات کی گئی’۔

یاد رہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد امن مذاکرات اور معاہدوں کے لیے 2 فروری کو کابل پہنچے تھے جہاں انہوں نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی تھی۔

افغان صدارتی محل سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکی نمائندے نے اشرف غنی کو بتایا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوئی مگر وہ طالبان سے تنازع کو کم کرنے کے حوالے سے اتفاق رائے پر پہنچ جائیں گے، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔

مزید پڑھیں:اگر امریکا نے طالبان سے جلد معاہدہ نہ کیا تو تاریخی موقع ضائع ہوسکتا ہے، وزیر خارجہ

زلمے خلیل زاد نے دورہ افغانستان سے قبل پاکستان کا دورہ کیا تھا اور اس دوران انہوں نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت متعدد حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔

پاکستان میں امریکی حکام کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا تھا کہ 'زلمے خلیل زاد نے تشدد کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا جس کے ذریعے امریکا-طالبان معاہدے، انٹرا افغان مذاکرات اور دیرپا امن کے لیے جامع اور مستقل جنگ بندی کی راہیں کھلیں گی'۔

امریکی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ زلمے خلیل زاد طالبان کو حملے کم کرنے کے لیے معاہدے پر پاکستان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے آئے تھے جو 18 سال سے افغانستان میں جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے امن معاہدے کی جانب پہلا قدم ہے۔

پاکستان کے وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے طالبان کے ساتھ فوری امن معاہدے کی حمایت کی ہے اور تشدد کو کم کرنے کی واشنگٹن کے مطالبے کو دوہرایا ہے تاہم افغان فوج اور اس کے امریکی اتحادیوں کی جانب سے تشدد نے تشویش پیدا کردی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان تقریباً ایک سال سے جاری مذاکرات ستمبر 2019 میں اپنے حتمی مراحل میں داخل ہوگئے تھے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کی جانب سے مبینہ تشدد کو جواز بناتے ہوئے اس عمل کو 'مردہ' قرار دے دیا تھا۔

گزشتہ ماہ طالبان ذرائع کا کہنا تھا کہ انہوں نے 7 سے 10 روز کے مختصر سیز فائر کی پیشکش کی ہے تاکہ معاہدہ کیا جاسکے تاہم اس پیشکش کی تفصیلات کے حوالے سے دونوں جانب سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں:امریکا کے طالبان سے مذاکرات بحال، قطر میں مذاکرات کا پہلا دور

امریکا اور سی آئی اے کے تربیت یافتہ افغانستان کے خصوصی فورسز کی بمباری، جس میں کئی شہری بھی جاں بحق ہوئے، پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور چند افغان حکام کی جانب سے مسلسل تنقید کی جاتی رہی ہے جس کے نتیجے میں افغانستان کے انٹیلی جنس سربراہ کو بھی برطرف کیا گیا تھا۔

2018 کے بعد امریکی فضائی حملوں میں اضافے سے تنازع میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی سینیٹرل کمانڈ کے اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں امریکی ایئر فورس نے 7 ہزار 423 بم افغانستان میں گرائے جبکہ 2018 میں 7 ہزار 362 بم گرائے گئے تھے۔

2017 میں امریکا نے جنگ زدہ علاقے میں 4 ہزار 361 جبکہ 2017 میں ایک ہزار 337 بم گرائے تھے۔