’ریکوڈک کے سونے‘ سے متعلق وزیراعظم کے بیان پر تحریک التوا جمع

اپ ڈیٹ 14 فروری 2020

ای میل

نیشنل پارٹی کے سینیٹر میر کبیر نے سینیٹ سیکریٹریٹ میں مذکورہ تحریک جمع کروائی — فائل فوٹو: اے پی  پی
نیشنل پارٹی کے سینیٹر میر کبیر نے سینیٹ سیکریٹریٹ میں مذکورہ تحریک جمع کروائی — فائل فوٹو: اے پی پی

سینیٹ سیکریٹریٹ میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ریکوڈک کا سونا بیچ کر غیر ملکی قرضہ اتارنے کے بیان پر تحریک التوا جمع کرادی گئی۔

نیشنل پارٹی کے سینیٹر میر کبیر نے سینیٹ سیکریٹریٹ میں مذکورہ تحریک التوا جمع کروائی اور کہا کہ وزیراعظم کے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریکوڈک، بلوچستان کے عوام کی ملکیت ہے اور وفاقی حکومت کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ ریکوڈک کے ذخائر بیچ کر ملک کا قرضہ اتاریں۔

مزید پڑھیں: ریکوڈک پر لگنے والے جرمانے کا ذمہ دار کون؟

میر کبیر نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر سینیٹ میں بحث کرائی جائے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں ریکوڈک منصوبے پر ماہرین تیزی سے کام کر رہے ہیں اور وہاں سے سونے کے جو ذخائر نکلیں گے اور اس سے غیر ملکی قرضے اتاریں گے۔

فضل الرحمٰن کو گرفتار کرنے کی دعوت دیتا ہوں، مولانا عبدالغفور حیدری

علاوہ ازیں چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہونے والے سینیٹ اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ چند روز پہلے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو آرٹیکل 6 کے تحت گرفتار کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا کہ وزیراعظم نے بھی کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن پر آرٹیکل 6 لاگو ہوتا ہے، اگر وزیراعظم یہ بات کرتے ہیں تو پھر آرٹیکل 6 لاگو ہونا چاہیے، رکاوٹ کیا ہے؟

مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ یہ تاریخی اقدام بھی اٹھائیں، ماضی میں اس طرح کے مقدمات بنے، پرویز مشرف نے ہمارے اوپر بغاوت کے مقدمات بنائے تھے، آج پرویز مشرف کہاں ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ ہوش میں نہیں ہیں، مولانا فضل الرحمٰن سے متعلق لب کشائی ملک اور قوم کی خدمت نہیں، مولانا فضل الرحمٰن کو گرفتار کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمٰن پر آرٹیکل 6 کا مقدمہ ہونا چاہیے، عمران خان

مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ فضل الرحمٰن کو گرفتار کر کے تو دیکھیں، تجربہ تو کر کے دیکھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیکل 62 کے ذیلی شق انتخاب میں حصہ لینے سے متعلق واضح ہے، چیلنج کرتا ہوں کہ وزیراعظم الیکشن لڑنے کے اہل نہیں۔

مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ وزیراعظم آئین کے معیار پر پورا نہیں اترتے، وہ جعلی الیکشن کے ذریعے آئے ہیں اگر وزیراعظم آرٹیکل 62 پر پورا اترتے ہیں تو میں استعفیٰ دے دیتا ہوں۔

سینیٹ اجلاس میں مولانا عبدالغفور حیدری کی تقریر پر حکومتی ارکان کی جانب سے اعتراض کیا گیا۔

فضل الرحمٰن بتائیں انہیں کیا یقین دہانی کرائی گئی، شبلی فراز

بعدازاں سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز نے مولانا عبدالغفور حیدری کے بیان کے جواب میں کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے دھرنے سے متعلق ایک معاہدے کی بات کی تھی، بتایا جائے کہ انہیں کیا یقین دہانی کرائی گئی تھی، کیا بات ہوئی تھی اور کس نے کرائی تھی؟

انہوں نے کہا کہ آپ اس بات کو ہوا دے رہے ہیں کہ غیر جمہوری طریقے سے حکومتیں بنتی ہیں، اس معاملے پر وضاحت ضرور بنتی ہے۔

شبلی فراز نے کہا کہ آرٹیکل 6 کی بات اس ایوان میں نہیں ہوئی یہ بات جہاں ہوئی ہے وہاں اس معاملے کو اٹھایا جائے۔

ڈیجیٹل میڈیا قوانین پر احتجاج

سینیٹ اجلاس میں سینیٹر روبینہ خالد نے ڈیجیٹل میڈیا سے متعلق نئے قوانین کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ سینیٹ کمیٹی میں نئے رولز پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ وزارت کی جانب سے وعدہ کیا گیا تھا کہ رولز کمیٹی میں پیش کیے جائیں گے، کہا گیا تھا کہ قوانین کابینہ میں لے جانے سے قبل کمیٹی کو بھی آگاہ کیا جائے گا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

روبینہ خالد نے کہا کہ ہم اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے پر احتجاج کرتے ہیں۔

آٹے کے بحران پر تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا مطالبہ

سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن نے آٹے اور چینی کے بحران پر تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا مطالبہ کیا جس پر چیئرمین سینیٹ نے تحقیقاتی رپورٹ پیر (17 فروری) کو ایوان میں پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

اپوزیشن رہنما راجا ظفر الحق نے کہا کہ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، گندم اور چینی میں جو گڑبڑ ہوئی اس پر کہا گیا کہ مافیا کو نہیں چھوڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے حکومت کو اس معاملے پر رپورٹ دے دی ہے، رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے۔

راجا ظفر الحق نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کا جہاں تک معاملہ ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے حکومت ایسے طریقے سے چل رہی ہے کہ آرٹیکل 6 کی بات پہلے ایک وزیر اور پھر وزیراعظم نے بھی بات کی۔

ان کا کہا کہ یہ کوئی آزادانہ رائے نہیں ہوتی جو کہا جاتا ہے اس کے مطابق کارروائیاں شروع ہوجاتی ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہداللہ نے کہا کہ ایف آئی اے نے آٹے کے بحران کی تحقیقات کی ہیں، اپنے بندے نہ ہوتے تو تحقیقاتی رپورٹ باہر آ چکی ہوتی۔

مزید پڑھیں: عمران خان کے استعفیٰ کی یقین دہانی پر دھرنا ختم کیا، مولانا فضل الرحمٰن

ان کا کہنا تھا کبھی ادویات، کبھی آٹا اور کبھی چینی کی واردات ہو رہی ہے، اس معاملے سے مہنگائی ہوئی ہے۔

مشاہداللہ نے کہا کہ وزیر خزانہ بھی ایسا لگایا ہوا ہے جو عجیب بیانات دیتے ہیں ٹماٹر 3 سو روپے کلو تھے انہوں نے کہا 17 روپے کلو ہیں، مہنگائی اور وزیر خزانہ میں فرق اتنا ہے، جتنا 3 سو اور 17 روپے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے جو بیان آیا اس پر کسی اور نے کوئی بیان نہیں دیا، آئی ایم ایف نے ہمیں لوٹا ہے، ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔

خواتین کے حقوق جائیداد کے نفاذ کا بل منظور

سینیٹ نے خواتین کے حقوق جائیداد کے نفاذ کا بل منظور کر لیا۔

بل کے مطابق جائیداد کے حق سے محروم کوئی خاتون محتسب کے پاس شکایت دائر کرے گی، محتسب شکایت کا جائزہ لے گا اور مزید تحقیقات کے لیے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے سپرد کرے گا۔

ڈپٹی کمشنر 15 روز کے اندر رپورٹ محتسب کو جمع کرائے گا، محتسب شکایت موصول ہونے کے 60 دن کے اندر سماعت کرے گا اور فیصلہ سنائے گا۔

بل میں کہا گیا ہے کہ اگرخاتون کو غیر قانونی طور پر جائیداد کی ملکیت سے محروم کیا گیا تو ملکیت خاتون کے حوالے کروانے کے لیے ڈی سی کو ہدایت دی جائے گی۔

محتسب متعلقہ پولیس اسٹیشن کو احکامات پر عملدرآمد کرانے کی ہدایت دے گا جبکہ اگر معاملے کی زیادہ تحقیقات کی ضرورت ہوگی تو محتسب ریفرنس بنا کر اسے سول کورٹ میں دائر کرے گا۔

بل کے مطابق اگر خاتون کی جائیداد پر ملکیت کے حوالے سے معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے تو وہ محتسب میں شکایت درج کرے گی، محتسب خاتون کی ملکیت کے معاملے پر خود بھی کارروئی کا آغاز کرنے کا اختیار رکھتا ہے چاہے معاملہ عدالت میں التوا ہو۔

محتسب معاملے پر رپورٹ عدالت کو پیش کرے گا جس میں عدالتی کارروائی کو ختم کرنے یا روکنے کی سفارش کی جائے گی۔ بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ خواتین کو دھوکہ دہی اور جعل سازی کے ذریعے جائیداد کی ملکیت سے محروم کیا جاتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ خاتون کے جائیداد کی ملکیت کے حق کو تحفظ دیا جائے۔