صحافی عزیز میمن کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، اسپیکر قومی اسمبلی

19 فروری 2020

ای میل

اسپیکر اسد قیصر سے وزیرداخلہ اعجاز شاہ نے ملاقات کی—فوٹو:پی آئی ڈی
اسپیکر اسد قیصر سے وزیرداخلہ اعجاز شاہ نے ملاقات کی—فوٹو:پی آئی ڈی

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے وفاقی وزیر داخلہ برگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کو نو شہرو فیروز میں سینئر صحافی عزیز میمن کی پراسرار ہلاکت کی غیرجانب دار تحقیقات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قاتلوں کو کیفردار تک پہنچایا جائے۔

وفاقی وزیرداخلہ برگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے ملاقات کی اور اس دوران صحافی عزیز میمن کے قتل کی تحقیقات سمیت ملک کی مجموعی صورت حال پر گفتگو کی گئی۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے سینئر عزیز میمن کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ عزیز میمن کا بہیمانہ قتل آزادی صحافت پر کاری ضرب ہے۔

انہوں نے سینئر صحافی کے قتل کی فوری تحقیقات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی عمل میں غیر جانب داری اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔

مزید پڑھیں:سندھ کے ضلع نوشہروفیروز میں صحافی کی پراسرار ہلاکت

اس قیصر نے وفاقی وزیر داخلہ سے کہا کہ صحافیوں کو پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں حائل مشکلات کو حل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور عزیز میمن کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی جائے۔

وزیرداخلہ برگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ صحافی عزیز میمن کا قتل انتہائی شرم ناک اور قابل مذمت فعل ہے، قتل کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ عزیز میمن کے قتل میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جائے گا۔

اعجاز شاہ نے کہا کہ موجودہ حکومت آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے اور صحافی برادری کو فرائض سر انجام دینے کے لیے ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سندھی نیوز چینل ’کے ٹی این‘ اور اخبار ’کاوش‘ سے وابستہ سینئر صحافی عزیز میمن کی لاش اتوار کی سہ پہر نوشہرو فیروز کے نواحی شہر محراب پور کی ایک نہر سے برآمد ہوئی تھی۔

عزیز میمن کے بھائی حافظ میمن نے مقامی میڈیا سے بات چیت کے دوران بتایا کہ ان کے بھائی صبح اپنے کیمرامین اویس قریشی کے ساتھ محراب پور کے قریبی گاؤں میں رپورٹنگ کا کہہ کر گھر سے نکلے تھے تاہم سہ پہر کو ان کی لاش کی اطلاع ملی۔

یہ بھی پڑھیں:صحافی کا قتل: اسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں جے آئی ٹی کا مطالبہ

محراب پور پولیس تھانے کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) عظیم راجپر نے مقامی میڈیا کو تصدیق کی کہ صحافی عزیز میمن کی لاش ایک نہر سے برآمد ہوئی۔

ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ عزیز میمن کے گلے میں الیکٹرک تار تھی، تاہم فوری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ ان کی ہلاکت کیسے ہوئی۔

وزیر اعلیٰ سندھ نےواقعے کا نوٹس لیتے ہوئے نوشہروفیروز پولیس سے جلد رپورٹ طلب کیا تھا اور صحافی کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔

گزشتہ روز صحافیوں نے عزیز میمن کے قتل کی تحقیقات کے لیے قومی اسمبلی کے اسپیکر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا تھا۔

انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے ان سے مذاکرات کیے جس کے حوالے سے انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ صحافیوں نے عزیز میمن کے قتل کی تحقیقات کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

شیریں مزاری نے نے صحافیوں کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت صحافیوں کے مطالبے کی حمایت کرتی ہے۔

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھی صحافیوں کے مطالبے کی حمایت کی اور کہا کہ عزیز میمن نے پی پی پی پر دھمکیاں دینے کا الزام عائد کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ‘یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اس کو سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہیے’۔

ایوان میں بحث کے بعد اسپیکر نے کہا تھا کہ وہ وزارت قانون سے مشاورت کے بعد اس معاملے پر فیصلہ کریں گے۔