کورونا وائرس: کوئٹہ میں قرنطینہ کیے گئے زائرین کا احتجاج

اپ ڈیٹ 15 مارچ 2020

ای میل

قرنطینہ میں موجود زائرین نے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں گھر جانے کی اجازت دی جائے — فوٹو: اے ایف پی
قرنطینہ میں موجود زائرین نے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں گھر جانے کی اجازت دی جائے — فوٹو: اے ایف پی

کوئٹہ میں قرنطینہ کیے گئے ایران سے آنے والے متعدد زائرین نے نقل و حرکت پر پابندی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کوئٹہ، کراچی شاہراہ بلاک کردی۔

واضح رہے کہ کوئٹہ کے مضافات میں میاں غنڈی کے علاقے میں قرنطینہ سینٹر قائم ہیں جہاں متعدد زائرین کو کورونا وائرس کی اسکریننگ کے لیے قرنطینہ کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ایران میں کورونا وائرس کے کیسز، بلوچستان کے سرحدی اضلاع میں ایمرجنسی نافذ

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق زائرین نے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں گھر جانے کی اجازت دی جائے۔

مظاہرین نے کوئٹہ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی لیکن سیکیورٹی فورسز نے ان کا راستہ روک لیا تاہم یہ احتجاج تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہا۔

ذرائع کے مطابق میاں غنڈی میں لگ بھگ 500 زائرین کو قرنطینہ سینٹر میں رکھا گیا، جن کا تعلق کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر اضلاع سے ہے۔

احتجاج کرنے والے زائرین نے کہا کہ ہم نے قرنطینہ کی مدت پوری کرلی اور اب ہمیں گھر جانے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

مقامی انتظامیہ کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد مظاہرین قرنطینہ سینٹر کی طرف لوٹ گئے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ، اسلام آباد اور بلوچستان میں کورونا کے نئے کیسز، ملک میں مجموعی تعداد 33 ہوگئی

مقامی انتظامیہ نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ کورونا وائرس کی اسکریننگ کے بعد انہیں گھر جانے دیا جائے گا۔

دریں اثنا احتیاطی اقدامات کے طور پر بلوچستان حکومت نے ایک ماہ کی مدت کے لیے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کردی ہے جس کے مطابق 10 یا زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد ہوگئی۔

بلوچستان حکومت کے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق 10 یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع، دھرنے اور جلوس/ریلیوں، عوامی مقامات، بازاروں، ہوٹلوں/ریسٹورنٹ اور شادی کی تقریبات پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ اگر اسکریننگ ٹیسٹ سے بچنے کی کوشش کی گئی تو ایران اور افغانستان سے واپس آنے والے زائرین اور تاجروں کے خلاف صوبائی حکومت سخت کارروائی کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ 5 ہزار زائرین اور تاجروں بشمول تقریباً 4 ہزار 400 افراد شامل ہیں جنہوں نے ہمسایہ ممالک میں کورونا وائرس سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس سے ایران میں 2 افراد ہلاک، مجموعی تعداد 2100 سے متجاوز

واضح رہے کہ گزشتہ روز تک پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے اور سندھ و بلوچستان میں 2، 2 نئے کیسز کے علاوہ اسلام آباد میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا جس کے بعد ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد 33 ہوگئی تھی۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے صوبے میں کورونا وائرس کے مزید 2 کیسز کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز صوبہ سندھ میں سامنے آئے ہیں، جس کے بعد بلوچستان کے مریضوں کی تعداد ہے۔


پاکستان میں کورونا وائرس

پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا۔

  • 26 فروری کو ہی معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مجموعی طور پر 2 کیسز کی تصدیق کی۔

  • 29 فروری کو ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مزید 2 کیسز کی تصدیق کی، جس سے اس وقت تعداد 4 ہوگئی تھی۔ 3 مارچ کو معاون خصوصی نے کورونا کے پانچویں کیس کی تصدیق کی۔

  • 6 مارچ کو کراچی میں کورونا وائرس کا ایک اور کیس سامنے آیا، جس سے تعداد 6 ہوئی۔

  • 8 مارچ کو شہر قائد میں ہی ایک اور کورونا وائرس کا کیس سامنے آیا۔

  • 9 مارچ کو ملک میں ایک ہی وقت میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے 9 کیسز کی تصدیق کی گئی تھی۔

  • 10 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے 3 کیسز سامنے آئے تھے جن میں سے دو کا تعلق صوبہ سندھ اور ایک کا بلوچستان سے تھا، جس کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد 19 جبکہ سندھ میں تعداد 15 ہوگئی تھی۔

بعد ازاں سندھ حکومت کی جانب سے یہ تصحیح کی گئی تھی 'غلط فہمی' کے باعث ایک مریض کا 2 مرتبہ اندراج ہونے کے باعث غلطی سے تعداد 15 بتائی گئی تھی تاہم اصل تعداد 14 ہے، اس تصحیح کے بعد ملک میں کورونا کیسز کی تعداد 10 مارچ تک 18 ریکارڈ کی گئی۔

  • 11 مارچ کو اسکردو میں ایک 14 سالہ لڑکے میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی، جس کے بعد مجموعی تعداد 19 تک پہنچی تھی۔

  • 12 مارچ کو گلگت بلتستان کے ضلع اسکردو میں ہی ایک اور کیس سامنے آیا تھا جس کے بعد ملک میں کورونا کے کیسز کی تعداد 20 تک جاپہنچی تھی۔

  • 13 مارچ کو اسلام آباد سے کراچی آنے والے 52 سالہ شخص میں کورونا کی تصدیق کے بعد تعداد 21 ہوئی تھی، بعدازاں اسی روز ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران تفتان میں مزید 7 کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ پاکستان میں مجموعی طور پر کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 28 ہوگئی۔

  • 14 مارچ کو سندھ و بلوچستان میں 2، 2 نئے کیسز کے علاوہ اسلام آباد میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا جس کے بعد ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد 33 ہوگئی۔

کورونا وائرس ہے کیا؟

کورونا وائرس کو جراثیموں کی ایک نسل Coronaviridae کا حصہ قرار دیا جاتا ہے اور مائیکرو اسکوپ میں یہ نوکدار رنگز جیسا نظر آتا ہے، اور نوکدار ہونے کی وجہ سے ہی اسے کورونا کا نام دیا گیا ہے جو اس کے وائرل انویلپ کے ارگرد ایک ہالہ سے بنادیتے ہیں۔

کورونا وائرسز میں آر این اے کی ایک لڑی ہوتی ہے اور وہ اس وقت تک اپنی تعداد نہیں بڑھاسکتے جب تک زندہ خلیات میں داخل ہوکر اس کے افعال پر کنٹرول حاصل نہیں کرلیتے، اس کے نوکدار حصے ہی خلیات میں داخل ہونے میں مدد فرہم کرتے ہیں بالکل ایسے جیسے کسی دھماکا خیز مواد سے دروازے کو اڑا کر اندر جانے کا راستہ بنایا جائے۔

ایک بار داخل ہونے کے بعد یہ خلیے کو ایک وائرس فیکٹری میں تبدیل کردیتے ہیں اور مالیکیولر زنجیر کو مزید وائرسز بنانے کے لیے استعمال کرنے لگتے ہیں اور پھر انہیں دیگر مقامات پر منتقل کرنے لگتے ہیں، یعنی یہ وائرس دیگر خلیات کو متاثر کرتا ہے اور یہی سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔

عموماً اس طرح کے وائرسز جانوروں میں پائے جاتے ہیں، جن میں مویشی، پالتو جانور، جنگلی حیات جیسے چمگادڑ میں دریافت ہوا ہے اور جب یہ انسانوں میں منتقل ہوتا ہے تو بخار، سانس کے نظام کے امراض اور پھیپھڑوں میں ورم کا باعث بنتا ہے۔

ایسے افراد جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے یعنی بزرگ یا ایچ آئی وی/ایڈز کے مریض وغیرہ، ان میں یہ وائرسز نظام تنفس کے سنگین امراض کا باعث بنتے ہیں۔

نوٹ: کورونا وائرس سے متعلق مزید خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔