لیبیا و لاؤس میں پہلے کورونا کیسز کی تصدیق، یمن و منگولیا اب بھی محفوظ

اپ ڈیٹ 25 مارچ 2020

ای میل

یمن میں تاحال کوئی کیس سامنے نہیں آیا—فوٹو: رائٹرز
یمن میں تاحال کوئی کیس سامنے نہیں آیا—فوٹو: رائٹرز

خانہ جنگی، قحط سالی، بھوک اور کئی بیماریوں کے شکار ملک لیبیا میں بھی کورونا وائرس پہنچ گیا اور حکومت نے 25 مارچ کو پہلے کیس کی تصدیق کی۔

لیبیا کے ساتھ زمینی سرحدیں رکھنے والے ممالک مصر، الجزائر، سوڈان اور چاڈ میں کورونا کے کیسز ڈیڑھ ماہ قبل ہی رپورٹ ہو چکے تھے اور وہاں تیزی سے کورونا کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔

لیبیا نے بھی عالمی وبا کے تیزی سے پھیلنے کے بعد حفاظتی انتظامات کرتے ہوئے پہلے سے ہی تعلیمی اداروں اور کاروباری مارکیٹیوں کو بند کردیا تھا جب کہ دیگر بھی کئی حفاظتی انتظامات کر رکھے تھے۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ عالمی برادری کی جانب سے تصدیق شدہ لیبیا کی حکومت نے 25 مارچ کو ملک میں پہلے کورونا وائرس کیس کی تصدیق کی۔

وزیر صحت نے کورونا کے پہلے مریض کے حوالے سے بتایا کہ متاثرہ شخص سعودی عرب سے حال ہی میں ملک پہنچا تھا اور مریض تیونس کے راستے ملک میں داخل ہوا۔

لیبیا کے وزیر صحت کا کہنا تھا کہ متاثرہ 73 سالہ مریض کو قرنطینہ منتقل کرکے ان کا علاج کیا جا رہا ہے اور دیگر مشکوک مریضوں کے ٹیسٹ کرنے کے بھی خاطر خواہ انتظامات کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خانہ جنگی و بیماریوں کے شکار ممالک یمن و لیبیا کورونا سے اب تک محفوظ

جہاں لیبیا نے اب پہلے کیس کی تصدیق کی ہے، وہیں خانہ جنگی کے شکار ملک شام نے بھی تین دن قبل ہی پہلے کورونا کیس کی تصدیق کی تھی اور تاحال وہاں ایک ہی کیس سامنے آیا ہے۔

لیبیا کی طرح جنوب مشرقی ایشیائی ملک لاؤس نے بھی ملک میں پہلے کورونا کیسز کی تصدیق کردی۔

لاؤس کے پڑوسی ممالک چین، تھائی لینڈ, ویتنام و کمبوڈیا میں بھی 3 سے ڈھائی ماہ قبل ہی کورونا کیس سامنے آ چکے تھے۔

دی اسٹریٹ ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ لاؤس کی حکومت نے 24 مارچ کی شب کو ایک ساتھ ملک میں 2 کورونا کیسز کی تصدیق کی۔

رپورٹ کے مطابق حکومت نے تصدیق کی کہ 28 سالہ مرد ہوٹل ملازم اور 36 سالہ ٹوئر گائیڈ خاتون میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی اور دونوں کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: میانمار و تیمور میں کورونا کیس رپورٹ، لاؤس و منگولیا اب بھی محفوظ

ادھر خانہ جنگی کے شکار ملک یمن میں 25 مارچ کی شام تک کوئی بھی کورونا کا کیس سامنے نہیں آیا تھا جب کہ یمن کے پڑوسی ممالک سعودی عرب اور عمان میں پہلے ہی کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

یمن میں موجود عالمی ادارہ صحت نے اگرچہ کورونا وائرس کے وہاں پہنچنے سے قبل اٹھائے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا تاہم ساتھ ہی عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ یمن کا صحت کا نظام اتنا مضبوط نہیں کہ وہ کورونا جیسی وبا کا مقابلہ کر سکے۔

تاہم یمن کی حکومت اور عالمی ادارہ صحت نے دیگر عالمی اداروں کے اشتراک سے پیشگی اقدامات اٹھانا شروع کیے ہیں جب کہ حفاظتی انتظامات کے تحت پہلے ہی کاروباری اداروں کو جزوی طور پر بند کردیا گیا ہے۔

یمن کی طرح چین، روس اور قازقستان جیسے ممالک کے ساتھ زمینی سرحدیں رکھنے والے ملک منگولیا میں بھی 25 مارچ کی شام تک کورونا کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا۔