اپوزیشن کا وائرس کی روک تھام کیلئے وسیع البنیاد حکمت عملی کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 30 مارچ 2020

ای میل

شہباز شریف نے مطالبہ کیا کہ عوام کو روزانہ کی بنیاد پر اسکرین کیے جانے والے مریضوں کی تعداد سے آگاہ کیا جائے —فائل فوٹو: اے پی
شہباز شریف نے مطالبہ کیا کہ عوام کو روزانہ کی بنیاد پر اسکرین کیے جانے والے مریضوں کی تعداد سے آگاہ کیا جائے —فائل فوٹو: اے پی

لاہور: ملک کی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے وفاقی حکومت سے ملک میں عالمی وبا 'کورونا وائرس' کے پھیلاؤ کا صحیح اندازہ لگانے کے لیے مفت ٹیسٹ کی سہولت میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کردیا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ ’عوام کو اس مرض سے محفوظ کرنے کے لیے کورونا وائرس کی نگرانی اور روک تھام سب سے اہم ہے‘۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے حکام پر زور دیا کہ کووِڈ-19 کے مریضوں کو فوری طور پر جنرل ہسپتالوں سے دیگر مقامات پر منتقل کیا جائے۔

اس کے ساتھ انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ شادی ہالوں، اسکولز، کالجز اور مساجد کو بطور قرنطینہ مراکز استعمال کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: پاکستان میں ایک دن میں 4 ہلاکتیں، مجموعی تعداد 16 ہوگئی

شہباز شریف نے مطالبہ کیا کہ روزانہ کی بنیاد پر اسکرین کیے جانے والے مریضوں کی تعداد سے عوام کو آگاہ کیا جائے کیوں کہ حقائق کو ’چھپانے‘ کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

لاہور کے میو ہسپتال میں ایک بزرگ مریض کے ساتھ مبینہ طور پر ناروا سلوک رکھنے جانے کی رپورٹ کے حوالے سے انہوں نے مطالبہ کیا کہ طبی عملے کی تربیت کی جائے تا کہ اس قسم کے کیسز کو صحیح طریقے سے سنبھالا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ تربیتی مواد میں مریضوں کی دیکھ بھال، علاج، مشینوں کے استعمال اور ٹیسٹنگ کی معلومات شامل ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ شہباز شریف نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکمراں جماعت کے صدر کی حیثیت سے ان دونوں علاقوں کے حکمرانوں کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے میٹنگ کی، جس میں مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکریٹری احسن اقبال، خواجہ آصف، مریم اورنگزیب اور دیگر پارٹی عہدیدار بھی شریک تھے۔

مزید پڑھیں: ووہان میں پاکستانی طلبہ انخلا نہ کیے جانے پر شکر گزار ہیں، ڈاکٹر ظفر

اس موقع پر آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجا فاروق حیدر اور گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ حافظ الرحمٰن نے کووڈ 19 سے نمٹنے کے لیے اپنی ضروریات کے بارے میں آگاہ کیا۔

وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ انہیں 50 وینٹی لیٹر، 15 پورٹ ایبل ایکسرے مشینز، ذاتی تحفظ کے آلات اور ہینڈ سینیٹائزر ایک ساتھ درکار ہیں جبکہ گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ نے گلگلت، اسکردو اور دیامر میں ٹیسٹنگ لیبارٹریوں، علاقے کے لیے گندم کا کوٹہ اور وینٹی لیٹرز اور حفاظتی اشیا کی درخواست کی۔

دوسری جانب پی پی پی نے بھی وبا کے پھیلاؤ کے حوالے سے ایک جامع حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے پنجاب کی کم از کم ایک فیصد آبادی کے ٹیسٹ کروانے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: احتیاطی تدابیر سے ہی وبا پر قابو پاسکتے ہیں، ظفر مرزا

یہ مطالبہ پیپلزپارٹی کی ایگزیکٹو کونسل پنجاب کے اجلاس میں کیا گیا جو صوبائی صدر قمر الزمان کائرہ کی سربراہی میں ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ انہوں نے پنجاب میں صوبائی حکومت کے اس نظام کو بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا جسے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے معطل کردیا تھا جبکہ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اسے ریلیف کی اشیا کی فراہمی کے کاموں میں استعمال کیا جائے۔