احساس ریلیف پروگرام شروع، بینکوں کے باہر لوگوں کا ہجوم

اپ ڈیٹ 10 اپريل 2020

ای میل

انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح پورا عمل مکمل ہونے میں 3 سے 4 ہفتوں کا وقت لگ سکتا ہے—فوٹو: ٹوئٹر
انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح پورا عمل مکمل ہونے میں 3 سے 4 ہفتوں کا وقت لگ سکتا ہے—فوٹو: ٹوئٹر

وزیراعظم عمران خان نے 144 ارب روپے کا احساس ریلیف پروگرام شروع کردیا اور اس سلسلے میں 50 ارب روپے بینکوں کو بھی فراہم کردیے گئے تاکہ وہ کورونا وائرس کی وجہ سے لگائے گئے لاک ڈاؤن سے متاثر یومیہ اجرت اور مستحق خاندان میں 4 ماہ کا مجموعی وظیفہ 12 ہزار روپے تقسیم کرسکیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق رقم کی تقسیم کے پہلے روز ایک کروڑ 20 لاکھ میں سے 40 لاکھ لوگوں کو نامزد بینکوں حبیب بینک لمیٹڈ اور بینک الفلاح کی 17 سو برانچوں سے رقم وصول کرنے کے لیے ٹیکسٹ میسجز (ایس ایم ایس) موصول ہوئے جبکہ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے 3 ہزار کیمپس بھی تشکیل دیے گئے۔

مزیدپڑھیں: حکومت کے احساس پروگرام سے مخالفین کو فائدہ پہنچ رہا ہے، پی ٹی آئی اراکین کی تنقید

احساس پروگرام کی نگراں اور وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے ڈان کو بتایا کہ مجھے نہیں معلوم کہ پہلے دن (جمعرات) کتنے لوگوں نے بینک سے رقم وصول کی لیکن اس حوالے سے بینکوں کی جانب سے تمام اعداد و شمار آج (جمعہ تک) فراہم کردیے جائیں گے۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ اگرچہ حکومت نے ڈھائی ہفتوں میں نقد تقسیم کے عمل کو مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن اس میں طوالت ہوسکتی ہے کیونکہ یہ عمل لوگوں پر منحصر ہے کہ کب تک وہ بینکوں سے نقد رقم نکالیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح پورا عمل مکمل ہونے میں 3 سے 4 ہفتوں کا وقت لگ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم احساس پروگرام کے تحت مستحقین کو کیش گرانٹ کی فراہمی کا آغاز

بینکوں کی 17 سو برانچز ان افراد کے لیے ناکافی ہیں اور بینکوں کے باہر انتشار جیسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے سے متعلق کچھ صوبوں کے تحفظات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر اعظم کی معاون خصوصی نے کہا کہ لوگوں کو بینک کے باہر ایک ساتھ جمع ہونے سے روکنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں، وائرس سے بچاؤ جیسے ماسک، ہاتھ دھونا، مخصوص فاصلے پر بیٹھنے کے لیے کرسیاں لگانے اور جگہ جراثم کش کرنے جیسی سہولیات مہیا کی جارہی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ متعلقہ علاقے یا بینک میں موجود تمام مستحق افراد میں سے صرف 20 فیصد کو نقد ادائیگی کے لیے بلایا جارہا ہے تاکہ ایک جگہ رش نہ ہوسکے۔

علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے بینکوں کے علاوہ ملک بھر میں 3 ہزار کیمپس تشکیل دیے گئے ہیں اور ہر کیمپ میں متعدد بوتھ ہیں مثال کے طور پر ایک اسکول کو کیمپ میں بدل دیا گیا جہاں 10 بوتھ سے نقدرقم وصول کی جا سکے گی۔

اس سے قبل وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ غریبوں کے لیے رمضان پیکیج کے طور پر ڈھائی ارب روپے کی رقم یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کو دی گئی تاکہ وہ صارفین کو 19 اشیا پر سبسڈیز فراہم کرسکیں۔

مزیدپڑھیں: حکومت کا رمضان المبارک کیلئے ڈھائی ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان

یو ایس سی کے منیجنگ ڈائریکٹر عمر لودھی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں کی توجہ عام لوگوں خصوصاً معاشرے کے غریب اور مستحق طبقات کو ریلیف فراہم کرنے پر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت اس مشکل کے دوران عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ حکومت صوبائی حکومتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے ملک میں وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے زیادہ سے زیادہ اقدامات کررہی ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ اس سے قبل رمضان ریلیف پیکیج کے تحت 5 اشیا پر سبسڈی دی جارہی تھی لیکن اب 19 اشیا رعایتی نرخوں پر یوٹیلیٹی اسٹورز پر دستیاب ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ 2 ارب 20 کروڑ روپے کے پیکیج کو ضرورت کے مطابق 7 ارب روپے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغان مہاجرین کے لیے بھی ریلیف پیکیج تیار کیا جائے، وزیراعظم

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ معاشرے کے کمزور طبقات کی دیکھ بھال کے لیے وزیر اعظم کا کورونا ویلفیئر فنڈ شروع کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی سربراہی میں قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاسوں میں حکومتی پالیسیوں کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جارہا ہے اور جب ضروری سمجھا جائے گا تو امدادی تدابیر میں ردوبدل کیا جاسکتا ہے۔