میگھن مارکل کی جانب سے برطانوی اخبار کے خلاف دائر مقدمے کا آغاز

اپ ڈیٹ 27 اپريل 2020

ای میل

میگھن مارکل نے اکتوبر میں برطانوی اخبار پر مقدمہ دائر کیا تھا—فوٹو: اے پی
میگھن مارکل نے اکتوبر میں برطانوی اخبار پر مقدمہ دائر کیا تھا—فوٹو: اے پی

شاہی حیثیت چھوڑنے والے برطانوی شہزادے ہیری کی اہلیہ میگھن مارکل کی جانب سے برطانوی اخبار کے خلاف دائر مقدمے کی کارروائی کا آغاز ہوگیا۔

ڈچز آف سسیکس اور سابق اداکارہ 33 سالہ میگھن مارکل نے معروف برطانوی اخبار ڈیلی میل کی ویب سائٹ میل آن دی سنڈے پر اکتوبر 2019 میں مقدمہ دائر کیا تھا۔

میگھن مارکل نے اخبار کے خلاف اپنے والد کو لکھے گئے ایک پرانے خط کو توڑ مروڑ کر اسے غلط انداز میں شائع کرنے پر مقدمہ دائر کیا تھا۔

میگھن مارکل نے دی میل آن سنڈے پر مقدمہ دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ویب سائٹ کی جانب سے شائع کردہ خط جعلی ہے اور یہ کہ مذکورہ خط ان کی جانب سے والد کو لکھا جانے والا خط نہیں۔

رائٹرز کے مطابق میگھن مارکل نے برطانوی اخبار پر والد کے خط کو غلط انداز میں پیش کرنے پر مقدمہ دائر کیا تھا جب کہ اہلیہ کی جانب سے والد کو بھیجے گئے خط کو غلط انداز میں شائع کرنے پر شہزادہ ہیری نے بھی برطانوی اخبار پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔

میل آن سنڈے نے جس خط کو شائع کیا تھا وہ خط دراصل 2018 میں میگھن مارکل نے اپنے والد کو لکھا تھا اور ویب سائٹ نے اسی خط کے متن کو توڑ مروڑ کرکے اور جملوں کو آگے پیچھے کرکے شائع کیا تھا۔

شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل نے مئی 2018 میں شادی کی تھی—فوٹو: رائٹرز
شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل نے مئی 2018 میں شادی کی تھی—فوٹو: رائٹرز

والد کے نام لکھے گئے خط کو غلط انداز میں شائع کرنے پر میگھن مارکل نے اکتوبر 2019 میں ڈیلی میل اور اس کی ذیلی ویب سائٹ میل آن سنڈے پر برطانیہ کے ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ 2018 کے تحت مقدمہ دائر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: میگھن مارکل کا برطانوی میڈیا کے خلاف مقدمہ

بعد ازاں شہزادہ ہیری نے بھی دیگر دو معروف برطانوی اخبارات دی مرر اور دی سن پر 2011 کے فون ہیکنگ کیس میں مقدمہ کردیا تھا، تاہم تاحال ان کے اس مقدمے کی سماعت کا آغاز نہیں ہوا۔

ابتدائی طور پر ڈیلی میل اور میل آن سنڈے نے میگھن مارکل کے الزامات کو مسترد کیا تھا، جس کے بعد 24 اپریل سے دونوں کے مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق میگھن مارکل کی جانب سے برطانوی اخبار کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کی سماعت لندن ہائی کورٹ میں 24 اپریل کو ہوئی جس میں برطانوی اخبار کے وکلا سمیت میگھن مارکل کے وکلا نے دلائل دیے۔

شہزادہ ہیری نے بھی برطانوی اخباروں کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے—فوٹو: اے پی
شہزادہ ہیری نے بھی برطانوی اخباروں کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے—فوٹو: اے پی

سماعت کے دوران میگھن مارکل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ویب سائٹ نے ایک بیٹی کی جانب سے اپنے والد کو لکھے گئے ذاتی خط کو دنیا کے سامنے غلط انداز میں پیش کیا۔

میگھن مارکل کے وکیل نے اخبار پر یہ الزام بھی لگایا کہ اخبار نے ڈرا دھمکا کر میگھن مارکل کے والد کا انٹرویو لیا اور پھر ان کے انٹرویو کو توڑ مروڑ کر انتہائی غلط انداز میں بھی پیش کیا۔

مزید پڑھیں: شہزادہ ہیری اور میگھن کا نشریاتی اداروں کو معلومات نہ دینے کا اعلان

تاہم سماعت کے دوران اخبار کے وکیل نے میگھن مارکل کے وکیل کے الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ میگھن مارکل اخبار پر الزام لگا کر اپنے اور اہل خانہ کے درمیان تنازعات کو خبروں میں لانا چاہتی ہے۔

اخبار کے وکیل نے میگھن مارکل کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو جھوٹا قرار دیا اور ساتھ ہی ان پر دیگر سنگین الزامات بھی لگائے۔

مذکورہ سماعت مقدمے کی ابتدائی سماعت تھی اور مقدمے کے باضابطہ ٹرائل کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا تاہم خیال ہے کہ چند ہفتوں میں میگھن مارکل اور برطانوی اخبار کے مقدمے کے ٹرائل کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

میگھن مارکل کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے کی ابتدائی سماعت ایک ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب کہ انہوں نے اور ان کے شوہر نے ایک ہفتہ قبل ہی ڈیلی میل، دی سن، دی مرر اور دی ایکسپریس نامی برطانوی میڈیا ہاؤسز کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

شاہی جوڑے کے مطابق اب وہ کسی طرح کی بھی معلومات مذکورہ چاروں برطانوی نشریاتی اداروں کو فراہم نہیں کریں گے اور نہ ہی وہ ان چاروں اداروں کی کسی درخواست پر انہیں کوئی وضاحت یا تردید کریں گے۔

خیال رہے کہ شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل نے مارچ کے آغاز میں باضابطہ طور پر شاہی حیثیت کو چھوڑ دیا تھا، انہوں نے شاہی حیثیت سے دستبرداری کا اعلان جنوری 2020 میں کیا تھا۔

شاہی حیثیت چھوڑنے کے بعد ابتدائی طور پر شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کینیڈا منتقل ہوگئے تھے، تاہم بعد ازاں وہ امریکا منتقل ہوگئے تھے۔