وٹامن ڈی کی کمی کووڈ 19 کے مریضوں میں ہلاکت کا خطرہ بڑھاتی ہے، تحقیق

مئ 02 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

وٹامن ڈی کی کمی ممکنہ طور پر نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے موت کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

کوئی ایلزبتھ ہاسپٹل فاؤنڈیشن اور ایسٹ اینگیلا یونیوروسٹی کی اس تحقیق کے نتائئج سے اس خیال کو تقویت ملی ہے کہ وٹامن ڈی اور کورونا وائرس کی شدت کے درمیان تعلق موجود ہے۔

اس تحقیق میں یورپ بھر میں اموات کی بلند شرح کا تعلق وٹامن ڈی کی کمی سے جوڑا گیا ہے۔

اس سے قبل یورپ بھر میں 20 ممالک کے شہریوں میں اوسط وٹامن ڈی کی شرح کا ڈیٹا جاری کیا گیا تھا اور اس تحقیق میں اس ڈیٹا کا موازنہ ان ممالک میں کووڈ 19 سے ہونے والی اموات سے کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق نتائج سے عندیہ ملتا ہےک ہ وٹامن ڈی کی کمی اور اموات کی تعداد میں نمایاں تعلق موجود ہے کیونکہ جن ممالک میں اس بیماری سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں، وہاں کے شہریوں میں وٹامن کی شرح بھی سب کم تھی۔

محققین کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 سے سب سے زیادہ متاثرہ گروہ وہ ہے جس میں وٹامن ڈی کی بھی سب سے زیادہ کمی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ آن لائن جاری کیے گئے ہیں تو اس حوالے سے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت باقی ہے۔

اس سے قبل رواں ہفتے ہی آئرلینڈ لے ٹرینینٹی کالج کی ایک تحقیق میں بھی اسی طرح کے نتائج ظاہر کیے گئے تھے۔

ٹرینیٹی کالج کی تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی ایسا کردار ادا کرسکتا ہے جو نظام تنفس کے انفیکشنز کی روک تھام، اینٹی بائیوٹک کی ضرورت کو کم جبکہ امراض کے خلاف مدافعتی نظام کے ردعمل کو بہتر بناتا ہے۔

اس تحقیق میں دنیا کے مختلف حصوں میں کووڈ 19 سے ہونے والی اموات اور وٹامن ڈی کی سطح کو دیکھا گیا۔

انہوں نے دریافت کیا کہ کچھ ممالک جیسے آسٹریلیا میں کووڈ 19 سے اموات کی شرح کم ہے جبکہ وہ ممالک جہاں کے شہریوں میں وٹامن ڈی کی کمی کا مسئلہ زیادہ ہے، وہاں کووڈ 19 کے مریضوں میں سنگین قسم کا ورم والا ردعمل سامنے آیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ وٹامن ڈی کی کمی سورج کی روشنی میں کم گھومنے، عمر میں اضافے، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، موٹاپے جیسے عناصر کا نتیجہ ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں کووڈ 19 کی شدت میں اضافے کا خطرہ بڑھتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ایسے ممالک جہاں سورج کی روشنی زیادہ ہوتی ہے وہاں اموات کی شرح نسبتاً کم ہے جبکہ وہ ممالک جہاں موسم سرما اور بہار میں سورج کی روشنی سے زیادہ وٹامن ڈی حاصل نہیں ہوتا، ان میں اموات کی شرح زیادہ ہے، جیسے اٹلی اور اسپین، جہاں کے شہریوں میں وٹامن ڈی کی کمی کا مسئلہ عام ہے۔

تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی ورم کے خلاف اس ردعمل کو ریگولیٹ اور دبانے کے لیے ضروری ہے جو کووڈ 19 میں سنگین نتائج میں کردار ادا کرتا ہے اور وینٹی لیٹر اور اموات کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی فوری ضرورت ہے تاکہ وٹامن ڈی اور کووڈ 19 کی شدت کے درمیان تعلق کو ثابت کیا جاسکے جبکہ دنیا بھر میں حکومتوں کو اس وٹامن کے سپلیمنٹس کے استعمال پر زور دینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ غذا (جیسے مچھلی، پنیر، انڈے کی زردی اور کلیجی)اور سپلیمنٹ کے ذریعے بھی دوران خون میں وٹامن ڈی کی سطح کو بڑھایا جاسکتا ہے، جبکہ یہ وٹامن ہڈیوں، مسلز اور مدافعتی نظام کی صحت کے لیے مفدی ہے اور اس مدافعتی ردعمل کی ششدت کو کم کرسکتا ہے جو کووڈ 19 کی پیچیدگیوں کو بڑھا دیتا ہے۔