کورونا وائرس، بھارت میں اسمارٹ فونز کمپنیوں کی پروڈکشن شروع

09 مئ 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

سام سنگ، شیاؤمی، ویوو اور اوپو سمیت دیگر اسمارٹ فونز کمپنیوں کو ایک بار پھر بھارت میں ڈیوائسز کی تیاری اور اسمبلنگ شروع کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

مارچ میں نئے نوول کورونا وائرس کی وبا کے دوران ملک گیر لاک ڈاؤن کے نتیجے میں اسمارٹ فونز کمپنیوں کی پروڈکشن اور پلانٹس بند کردیئے گئے تھے۔

اب ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ انہیں بھارت میں مصنوعات کی تیاری کے آپریشرنز شروع کرنے کی اجازت مل گئی ہے تاہم افرادی قوت میں کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

مرکزی حکومت کی جانب سے مئی کے شروع میں ہی اجازت دے دی گئی تھی مگر ریاستی حکومتوں کی جانب سے اب اجازت نامے جاری کیے جارہے ہیں۔

اسمارٹ فونز کمپنیوں کو کام کرنے کی اجازت اس وقت دی گئی ہے جب بھارت میں لاک ڈاؤن کو تیسری بار 2 ہفتوں کے لیے توسیع دی گئی ہے تاہم کچھ پابندیوں کو نرم کیا گیا ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو بحال کیا جاسکے۔

اس ہفتے کے شروع میں حکومت کی جانب سے ای کامرس کمپنیوں اور رائیڈ شیئرنگ سروسز کو بھی محفوظ علاقوں میں شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

بھارت کے 733 اضلاع میں سے 82 فیصد علاقوں کو ایسے محفوظ گرین اور اورنج زونز قرار دیا گیا ہے جہاں کورونا وائرس کا اثر بہت زیادہ نہیں۔

شیاؤمی نے جمعے کو بھارت میں اپنا نیا فلیگ شپ فون می 10 متعارف کرایا تھا اور مئی کے شروع میں کمپنی نے کہا تھا کہ اس کے پاس اب اسٹاک میں اتنے ہی فون رہ گئے ہیں جو 3 ہفتے کی طلب کے لیے کافی ہیں۔

شیاؤمی بھارت میں سب سے زیادہ فونز فروخت کرنے والی کمپنی ہے اور اس کے مقامی حکام کا کہنا تھا کہ اس کی شراکت دار کمپنی فوکس کون کے آندھرا پردیش میں پلانٹ میں کام شروع کیا جارہا ہے۔

ایپل کی شراکت دار کمپنی وسٹرن نے بھی بنگلور میں آئی فون کی محدود پیمانے پر تیاری شروع کردی ہے۔

بھارت میں فونز کی فروخت کے لحاظ سے دوسری بڑی کمپنی ویوو نے بتایا کہ کمپنی کی جانب سے 30 فیصد پروڈکشن شروع کی جارہی ہے۔

ویوو کی طرح اوپو کی جانب سے بھی گریٹر نوئیڈا کے پلانت میں 3 ہزار ملازمین کے ساتھ کام شروع کیا جارہا ہے جبکہ سام سنگ جس نے دنیا کی سب سے بڑی اسمارٹ فون فیکٹری 2018 میں بھارت میں تیار کی تھی، وہ بھی پروڈکشن شروع کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔

سام سنگ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ جمعرات سے فیکٹری میں محدود پیمانے پر کام شروع کیا گیا جسے بتدریج بڑھایا جائے گا، ملازمین کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور ہر طرح کے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔

کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں اپریل کے مہینے میں بھارت میں اسمارٹ فونز کی فروخت ختم ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں وہاں رواں سال فونز کی فروخت گزشتہ سال کے مقابلے میں 10 فیصد کم رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔