خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس تین ماہ کیلئے نافذ

اپ ڈیٹ 19 مئ 2020

ای میل

آرڈیننس کے تحت عوام کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور قرنطینہ سے بھاگنے پر سزا اور جرمانہ بھی عائد کردیا گیا — فائل فوٹو: ڈان
آرڈیننس کے تحت عوام کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور قرنطینہ سے بھاگنے پر سزا اور جرمانہ بھی عائد کردیا گیا — فائل فوٹو: ڈان

خیبر پختونخوا میں وبائی امراض پر قابو پانے کے لیے ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس تین ماہ کے لیے نافذ کردیا گیا ہے جس کے تحت عوام کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور قرنطینہ سے بھاگنے پر سزا اور جرمانہ بھی عائد کردیا گیا ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے خیبرپختونخوا ایپیڈیمک کنٹرول اینڈ ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس 2020 پر دستخط کر دیے ہیں جہاں اس آرڈیننس کا مقصد کورونا وائرس کی وبا کے دوران صوبے کے عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: ہفتہ، اتوار کاروبار بند رکھنے کا حکومتی فیصلہ کالعدم، ملک بھر میں شاپنگ سینٹرز کھولنے کا حکم

آرڈیننس میں کہا گیا کہ اس وبا کے دوران عوام کی صحت اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے حوالے سے کچھ قوانین کی ترمیم انتہائی ضروری ہو گئی تھی اور صورتحال اس بات کی متقاضی تھی کہ فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔

آرڈیننس کے تحت وائرس سے متاثرہ افراد کو آئسولیشن میں رکھنے، وبا کی صورت میں اجتماعات پر پابندی، اسکریننگ کے فرائض سر انجام دینے، خیبر پختونخوا کے اندر یا باہر سفر پر پابندی کے اختیارات، بیماری کی صورت میں خاندان کے سربراہ، ہیلتھ ورکر، تعلیمی ادارے کے سربراہ، پبلک ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس، ہوٹلز کے انچارج کو قوانین کا پابند کیا گیا۔

آرڈیننس میں وبا کی صورت میں عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لیے چند اقدامات کو قانونی تحفظ دیا گیا ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں کچھ سزائیں اور جرمانے بھی تجویز کیے گئے ہیں۔

اس سلسلے میں آرڈیننس میں کہا گیا کہ 6 ہزار سے زائد فیس وصول کرنے والے تعلیمی ادارے فیسوں میں 20 فیصد رعایت دینے کے پابند ہوں گے جبکہ 6 ہزار تک فیس وصول کرنے والے والے اسکول 10فیصد رعایت دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: پاکستان میں متاثرین کی تعداد 43 ہزار سے متجاوز، اموات 924 ہوگئیں

حکومت نے واضح کیا کہ اسکولوں کی فیس میں جو رعایت دی گئی ہے یہ کسی بھی حال میں ناقابل واپسی ہو گی اور اسکول اس کی ادائیگی کا دعویٰ نہیں کر سکے گا جبکہ اسکول آئندہ تین ماہ تک فیسوں میں سالانہ اضافہ بھی نہیں کر سکیں گے۔

خیبر پختونخوا حکومت نے خصوصی طور پر کرائے کے گھر میں رہنے والے افراد کو تحفظ فراہم کیا ہے جس کے تحت کوئی بھی مالک مکان اپنے کرایہ دار کو کرائے کی عدم ادائیگی کی صورت میں 3 ماہ تک بے دخل نہیں کر سکے گا۔

تاہم اگر مالک مکان کوئی بیوہ، یتیم، معذور یا کوئی بزرگ شہری ہو تو اس پر اس قانون پر اطلاق نہیں ہو گا۔

حکومت نے پانی کے بل میں بھی فلیٹ اور مکانوں کے رہائشیوں کو بل میں 100 فیصد تک رعایت دی گئی ہے اور 80 گز کے مکان اور فلیٹ میں رہنے والوں کو پانی کا بل ادا نہیں کرنا ہو گا۔

مزید پڑھیں: کورونا سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، وزیر اطلاعات

اس کے علاوہ ملازمت پیشہ افراد کو بھی خصوصی تحفظ دیتے ہوئے تمام اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ وبا کے دوران اداروں کی بندش اور ملازمین کے غیرحاضر ہونے سمیت دیگر وجوہات کی وجہ سے کسی بھی ملازم کو نوکری سے نہیں نکال سکیں گے۔

حکومت نے کسی بھی شخص یا ادارے کی جانب سے ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں سخت سزائیں بھی تجویز کی ہیں۔

اگر کسی شخص نے پہلی مرتبہ اس جرم کا ارتکاب کیا اور اس پر جرم ثابت ہو گیا تو اسے زیادہ سے زیادہ دو ماہ جیل یا 50 ہزار روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔

جرم کے دوبارہ ارتکاب کی صورت میں زیادہ سے زیادہ چھ ماہ قید یا ایک لاکھ روہے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: مسلمان مساجد آباد کریں، نماز عید بھی احتیاطی تدابیر کے ساتھ ادا کریں، مفتی تقی عثمانی

اگر کسی کارپوریٹ ادارے یا کمپنی کی جانب سے حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی تو پہلی مرتبہ جرم کے ارتکاب پر ان پر کم از کم 50 ہزار اور زیادہ سے زیادہ دو لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

کارپوریٹ اداروں اور جرم کے دوبارہ ارتکاب کی صورت میں کم از کم ایک لاکھ روپے اور زیادہ سے زیادہ تین لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔

اگر کسی شخص کو قرنطینہ کیا جاتا ہے اور وہ وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے تو مذکورہ شخص کو گرفتار کر کے زبردستی قرنطینہ میں رکھا جائے گا اور 50 ہزار روپے تک جرمانہ بھی کیا جائے گا۔

موجودہ ایمر جنسی صورتحال کے پیش نظر صوبے میں لوکل گورنمنٹ الیکشن مؤخر کر دیے گئے ہیں البتہ حالات بہتر ہونے کی صورت میں کسی بھی وقت کرائے جا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: انتہائی معمولی بیماری بھی کورونا کی ممکنہ علامت قرار

صوبائی حکومت کے مطابق ایمرجنسی جاری رہنے کی صورت میں آرڈیننس کی مدت میں توسیع بھی ہو سکتی ہے۔

وزیر قانون خیبر پختونخوا سلطان محمد خان نے ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک ہم نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت کام کررہے تھے اور ایک پرانا ایپیڈمک ایکٹ بھی تھا لیکن زیادہ مضبوط نہیں تھا جس کو مدنظر رکھتے ہوئے آرڈیننس کی ضرورت محسوس کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ وبا کی صورتحال میں خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس نہ ہونے کی وجہ سے ہم نے اپنا آرڈننس منظور کر لیا۔

وزیر قانون نے واضح کیا کہ ایپیڈیمک آرڈیننس کے تحت اب انتظامیہ کی تمام کارروائیوں کو قانونی تحفظ دے رہے ہیں اور ایکٹ کے ذریعے سماجی فاصلے اور دیگر تمام احکامات کو واضح کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'ایک تعلق کو بچانے کے لیے زندگی کے 8 سال تباہ کردیے'

سلطان محمد خان نے بتایا کہ اگر کسی گھر میں کوئی بھی شخص وبا سے متاثر ہے تو گھر کا سربراہ انتظامیہ کو آگاہ کرنے کا پابند ہے اور خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ اور سزا ہو گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی شخص کو کورونا وائرس کی وجہ سے آئسولیٹ کیا گیا ہو اور وہ اس کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا تو اس کو جرمانہ اور سزا دی جائے گی۔