سندھ ہائیکورٹ: اسکول فیس میں 20 فیصد کمی پر دیا گیا حکم امتناع ختم

اپ ڈیٹ 21 مئ 2020

ای میل

سندھ ہائیکورٹ میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی—فائل فوٹو: وکی میڈیا
سندھ ہائیکورٹ میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی—فائل فوٹو: وکی میڈیا

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے ماہ اپریل اور مئی کے لیے اسکول فیس میں طلبہ کو دی گئی 20 فیصد رعایت کے خلاف دیے گئے اپنے پہلے حکم امتناع کو ختم کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق صوبائی حکام کی جانب سے سندھ کووڈ 19 ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس نافذ کرنے کے بارے میں آگاہ کرنے کے بعد عدالت نے حکم امتناع واپس لیا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ نے ڈائریکٹریٹ آف انسپیکشن/ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشن کی جانب سے 28 اپریل کو جاری کردہ اس خصوصی حکم کو معطل کردیا تھا جس میں نجی اسکولوں کو کہا گیا تھا کہ 2 ماہ کے لیے طلبہ کو ٹیوشن فیس میں 20 فیصد رعایت دینا لازمی ہے۔

یہاں یہ مدنظر رہے کہ پرائیویٹ اسکولز کی جانب سے اسے چیلنج کرنے کے بعد یہ نیا حکم جاری کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ نے اسکول فیسوں میں 20 فیصد کٹوتی کا نیا نوٹیفیکشن معطل کردیا

ادھر جب یہ معاملہ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس ندیم اختر کی سربراہی میں قائم 2 رکنی بینچ کے سامنے آیا تو ایڈووکیٹ جنرل سلمان طالب الدین نے 18 مئی کو گیزیٹڈ ہونے والے سندھ کووڈ 19 ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس کی نقل کے ساتھ ایک بیان جمع کروایا جو ریکارڈ کا حصہ بنالیا گیا۔

چیف لا افسر کی جانب سے بتایا گیا کہ آرڈیننس میں 28 اپریل کے خصوصی آرڈر کی ان 3 شقوں کو کالعدم کردیا ہے جسے درخواست گزاروں کی جانب سے چیلنج کیا گیا تھا۔

اس دوران درخواست گزاروں کے وکیل کی جانب سے اعتراض کیا گیا کہ خصوصی حکم کی کچھ دیگر شقوں کے علاوہ انہوں نے اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ کے 27 اپریل کے جاری کردہ ایک اور نوٹیفکیشن پر بھی اعتراض کیا تھا جس میں سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن (ریگولیشنز اینڈ کنٹرول) رولز 2005 میں رولز 19 اے اور 19 ای شامل کرنے کا کہا گیا تھا تاکہ ڈائریکٹریٹ آف انسپیکشن/رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کو بااختیار بنایا جائے کہ وہ غیرمعمولی حالات میں اساتذہ اور دیگر اسٹاف کی فیس اور معاوضے میں کمی یا اضافے سمیت خصوصی حکم جاری کرے۔

انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ ان نکات کو بھی سنے۔

تاہم اس موقع پر بینچ کی جانب سے اپنے حکم میں کہا گیا کہ اس سے قبل پاس کردہ عبوری حکم میں توسیع کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ 28 اپریل 2020 کے خصوصی حکم کی شق (iv)، (iii)، (ii) آرڈیننس کے نفاذ کے تناظر میں اپنی حیثیت کھو چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائی کورٹ نے نوٹیفکیشن واپس لینے پر فیسوں میں کمی کی درخواست نمٹادی

دی ٹی وائی ایم ایس ایجوکیشن پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر نے عدالت عالیہ میں مذکورہ معاملے پر اپنی پہلی درخواست خارج ہونے کے بعد 20 فیصد رعایت سے متعلق 28 اپریل کے خصوصی حکم اور رجسٹریشن اتھارٹی کو خصوصی حکم دینے کے اختیارات سے متعلق موجودہ قوانین میں ترمیم کے حوالے سے 27 اپریل کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا۔

خیال رہے کہ ابتدائی طور پر ڈائریکٹریٹ آف انسپیکشن/رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشن نے یکم اپریل کو پرائیوٹ اسکولز کے لیے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا کہ کووڈ 19 کے تناظر میں اپریل اور مئی کی فیس میں کم از کم 20 فیصد رعایت فراہم کریں تاہم اس معاملے کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جبکہ 28 اپریل کا خصوصی حکم معطل کردیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ کورونا وائرس کے باعث درپیش صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے محکمہ تعلیم سندھ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کر کے تمام نجی اسکولوں کو ماہ اپریل اور مئی کی فیسوں میں 20 فیصد کمی کی ہدایت کی تھی۔

اعلامیے میں ہدایات کی گئی تھیں کہ صوبے کے تمام نجی اسکولوں کو لازمی طور پر ماہ اپریل اور مئی کی ٹیوشن فیس میں 20 فیصد کمی کرنا ہو گی۔

صوبائی حکومت نے نجی اسکولوں کی جانب سے ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں والدین کی جانب سے شکایات کے لیے ایک خصوصی شکایتی سیل بھی تشکیل دیا تھا۔

محکمہ تعلیم کی جانب سے یہ تنبیہ بھی کی گئی تھی کہ اگر نجی تعلیمی اداروں نے ہدایات پر عمل نہ کیا تو ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

جس کے خلاف دی ٹائمز ایجوکیشن پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر نے ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن/رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹیٹیوشن، سندھ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔