بھارتی فوج کے محاصرے کے خلاف ڈٹے رہنے پر کشمیریوں کو سلام پیش کرتے ہیں، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 24 مئ, 2020

ای میل

وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو عیدالفطر کی مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا — فائل فوٹو: فیس بک
وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو عیدالفطر کی مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا — فائل فوٹو: فیس بک

وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو عیدالفطر کی مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری خصوصی پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی بربریت کا نہایت ہمت و جوان مردی سے سامنا کرنے اور غیرانسانی محاصرے کے دوران صبر و استقامت کا پہاڑ بن کر ڈٹے رہنے پر اہلِ کشمیر کو سلام پیش کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف کوئی مہم جوئی کی تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

ملتان میں عید کی نماز ادا کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور اس کے تحمل کی پالیسی کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا نیا ڈومیسائل قانون مسترد کردیا

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انہوں نے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے جنرل سیکریٹریز سے رابطہ کیا ہے اور ان کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی طرف دلائی ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ میں نے انہیں آگاہ کیا کہ بھارت، دنیا کی توجہ اپنی اندرونی صورتحال سے ہٹانے کے لیے پاکستان کے خلاف جعلی (فالس فلیگ) آپریشن کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے کورونا وائرس کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم میں اضافہ کردیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عالمی برادری کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کشمیروں اور اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کا نوٹس لینا چاہیے۔

واضح رہے کہ نئی دہلی نے یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے گزشتہ برس 5 اگست کو مقبوضہ جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: احتجاج کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر ڈومیسائل قانون میں ترمیم کردی

بعدازاں بھارت نے 31 اکتوبر کو مقبوضہ وادی کو باضابطہ طور پر 2 وفاقی اکائیوں میں تقسیم کردیا تھا۔

رواں ماہ مقبوضہ کشمیر کے حکام نے نوٹی فکیشن جاری کرتے ہوئے وفاقی اکائی میں سرکاری نوکریوں اور دیگر مراعات کے لیے ڈومیسائل سرٹفکیٹ حاصل کرنے کے لیے ضروری شرائط واضح کی تھیں جسے پاکستان نے مسترد کردیا تھا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’نیا ڈومیسائل قانون، غیر قانونی ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی قوانین بشمول جنیوا کنونشن اور پاکستان اور بھارت کے درمیان باہمی معاہدوں کی واضح خلاف ورزی ہے‘۔