مئی کے دوران پاکستان میں کورونا وائرس کے 54 ہزار کیسز، 11 سو اموات رپورٹ

اپ ڈیٹ 01 جون 2020

ای میل

اس دوران ایک دن میں سب سے زیادہ 2 ہزار 785 کیس بھی رپورٹ ہوئے—تصویر: اے پی
اس دوران ایک دن میں سب سے زیادہ 2 ہزار 785 کیس بھی رپورٹ ہوئے—تصویر: اے پی

اسلام آباد: پاکستان میں مئی کے مہینے میں 54 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس کا شکار بنے جبکہ 11 سو سے زائد زندگی کی بازی ہار گئے، اس کے علاوہ مثبت نتیجے والے ٹیسٹس کی شرح میں بھی خاصہ اضافہ ہوا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے 30 اپریل کو ملک میں 16 ہزار 817 مریضوں کی تصدیق کی تھی جو مئی کے اختتام تک 71 ہزار 68 تک پہنچ گئے جبکہ اس دوران ایک دن میں سب سے زیادہ 2 ہزار 785 کیس بھی رپورٹ ہوئے۔

این سی او سی کے مطابق 30 اپریل تک ملک میں وائرس کے سبب 385 اموات رپورٹ ہوئی تھیں جبکہ 16 ہزار 817 مریضوں میں سے سندھ میں 6 ہزار 53، پنجاب میں 6 ہزار 340، خیبر پختونخوا میں 2 ہزار 627، بلوچستان میں ایک ہزار 49، اسلام آباد میں 343، گلگت بلتستان میں 339 اور آزاد کشمیر میں 66 کیس سامنے آئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 71 ہزار 276 کورونا متاثرین، 26 ہزار سے زائد صحتیاب

تاہم صرف ایک ماہ کے عرصے کے دوران صورتحال یکسر تبدیل ہوچکی ہے۔

لہٰذا 31 مئی کے اختتام تک ملک میں کورونا وائرس کے 71 ہزار 68 کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز تھےجن میں سے سندھ میں 28 ہزار 245، پنجاب میں 25 ہزار 56، خیبرپختونخوا میں 10 ہزار 27، بلوچستان میں 4 ہزار 393، آزاد کمشیر میں 251، گلگلت بلتستان میں 678 اور اسلام آباد میں 2 ہزار 418 مریض سامنے آئے تھے۔

اس ضمن میں ہونے والے این سی او سی کے اجلاس میں ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ وزارت صحت صورتحال پر قابو پانے کے لیے سرکاری ہسپتالوں کے ریٹائرڈ ڈاکٹروں، ینگ ڈاکٹروں، ہاؤس جاب کرنے والے ڈاکٹروں اور میڈیکل کے سال آخر میں زیر تعلیم طالبعلموں کو متحرک کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ نئے ڈاکٹرز اور طبی عملہ واک اِن انٹرویو کے ذریعے بھرتی کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: حکومت کا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر’اجتماعی سزائیں‘ دینے پر غور

اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبوں کو کمیونٹی موبلائزیشن یقینی بنانے کے علاوہ 15 جون تک اپنے علاقوں میں کال سینٹر بنانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ سندھ اور بلوچستان حکومتیں متاثرہ علاقوں میں سخت لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بجائے گھر میں قرنطینہ کرنے کو ترجیح دے رہی ہیں۔

این سی او سی کے اجلاس میں وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز احمد شاہ، وزیر تحفظ خوراک فخر امام، وزیر اقتصادی امور خسرو بختیار اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف نے بھی شرکت کی۔