آئل کمپنیوں نے بیوروکریسی کو پیٹرول بحران کا ذمہ دار ٹھہرادیا

اپ ڈیٹ 15 جون 2020

ای میل

آئل کمپنیوں کی ایڈوائزری 
کونسل نے بیورو کریسی پر فیصلہ نہ کرنے کا الزام لگایا — فائل فوٹو:رائٹرز
آئل کمپنیوں کی ایڈوائزری کونسل نے بیورو کریسی پر فیصلہ نہ کرنے کا الزام لگایا — فائل فوٹو:رائٹرز

اسلام آباد: آئل کمپنیوں اور ریفائنریز نے بیوروکریسی کو ملک میں پیٹرول کی موجودہ قلت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ درآمد اور مقامی پیٹرول کی پیداوار میں اضافے سے متعلق فیصلہ نہ کرنے سے موجودہ صورتحال پیدا ہوئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق آئل کمپنیوں کی ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے کہا ہے کہ ‘ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹی معلومات کی مہم شدید تشویش کا باعث ہے‘۔

اس نے کہا کہ ’یہ افسوسناک ہے کہ گزشتہ 2 ہفتوں میں ڈاؤن اسٹریم پیٹرولیم سیکٹر کی طرف بہت زیادہ جھوٹی معلومات اور الزام تراشی کا کھیل دیکھا گیا ہے جو غیرضروری اور متضاد ہے‘۔

او سی اے سی نے کہا کہ ملک میں پیٹرول کی موجودہ قلت کی موروثی وجوہات پر نظرثانی اور اس کا جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے جس میں مارچ میں درآمدی پابندی بھی شامل ہے، وزارت توانائی کی جانب سے اپریل میں اس پابندی کو ختم کرنے اور درآمدات کے لیے منظوری میں تاخیر کی ہدایت کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پیٹرول کی قلت کی ذمہ داری وزارت توانائی پر ڈال دی

اس نے دعویٰ کیا ہے کہ وزارت طلب میں اضافے کا تعین کرنے میں ناکام رہی ہے کیونکہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن میں مئی سے نرمی کی گئی تھی اور صارفین کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی کی وجہ سے گاڑیوں کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس بات کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی ایک عام سپلائی چین 45 سے 60 دن تک ہوتی ہے جبکہ اپریل کی فروخت کے مقابلہ میں جون کی فروخت میں 82 فیصد کا اضافہ نمایاں ہے خاص طور پر جب پیٹرول کی درآمد پر بھاری انحصار ہوتا ہے جس کے ساتھ سپلائی کی مختلف پیچیدگیاں بھی جڑی ہیں جیسے بین الاقوامی سپلائرز / تاجروں کے ذریعے مناسب مقدار کا حصول، سمندری فریٹ مارکیٹ میں بڑی تعداد میں مصنوعات کیریئر (جہازوں) کی دستیابی، بندرگاہوں پر رکاوٹیں وغیرہ۔

اس نے دعویٰ کیا کہ ڈاؤن اسٹریم پیٹرولیم سیکٹر ملک کے ذمہ دار کارپوریٹ شہری ہے اور پاکستان میں توانائی کی سلامتی کو برقرار رکھنے میں اس کی بہت بڑی شراکت کے پیش نظر اسے احترام کے ساتھ برتاؤ کرنے کی ضرورت ہے۔

او سی اے سی نے مزید کہا کہ جون میں انہیں 17 روپے فی لیٹر کا نقصان ہورہا ہے جو ریفائنریز اور او ایم سی کے لیے پورے مہینے میں 18 روپے کا نقصان ہوگا‘۔

یہ بھی پڑھیں: اوگرا نے پیٹرولیم بحران کا ذمہ دار 6 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ٹھہرادیا

واضح رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد سے ملک بھر میں پیٹرول کی قلت پیدا ہو گئی تھی جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں تعطل کے باعث آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 24 گھنٹے میں جواب طلب کرلیا تھا۔

ترجمان اوگرا عمران غزنوی کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے شیل پاکستان لمیٹڈ، اٹک پیٹرولیم لمیٹڈ اور ٹوٹل پارکو پاکستان لمیٹڈ کو نوٹس جاری کیے تھے۔

وزیراعظم سٹیزن پورٹل پر ریٹیل آؤٹ لیٹس پر تیل کی فراہمی میں قلت کی شکایات پر اوگرا نے مزید 3 آئل مینوفیکچرنگ کمپنیز گیس اینڈ آئل، پوما اور ہیسکول کو بھی شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا تھا۔

بعد ازاں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ملک بھر میں پیٹرولیم کے بحران کی ذمہ داری 6 بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) پر عائد کی ہے اور ان پر 4 کروڑ روپے کا مجموعی جرمانہ عائد کردیا۔