بلوچستان نے ٹڈی دل سے متاثرہ علاقوں کے لیے پیکج کا مطالبہ کردیا

اپ ڈیٹ 16 جون 2020

ای میل

بلوچستان کے 31 اضلاع ٹڈی دل سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں کیونکہ اس نے کھڑی فصلوں اور پھلوں کے باغات کو تباہ کردیا ہے۔ فائل فوٹو:اے ایف پی
بلوچستان کے 31 اضلاع ٹڈی دل سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں کیونکہ اس نے کھڑی فصلوں اور پھلوں کے باغات کو تباہ کردیا ہے۔ فائل فوٹو:اے ایف پی

کوئٹہ: بلوچستان کے وزرا میر ضیا لانگو اور زمرک خان نے وفاقی حکومت سے اپنے وعدے پورے کرنے اور ٹڈی دل کے حملے سے متاثرہ اضلاع کے لیے خصوصی پیکیج کے اعلان کا مطالبہ کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے 31 اضلاع ٹڈی دل سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں کیونکہ انہوں نے کھڑی فصلوں اور پھلوں کے باغات کو تباہ کردیا ہے جس سے کاشتکاروں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فصلوں اور پھلوں کے باغات کے بڑے نقصان کی وجہ سے بلوچستان حکومت صوبے کے 31 متاثرہ اضلاع کو آفت زدہ قرار دینے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔

مزید پڑھیں: جاپان ٹڈی دل سے نمٹنے کیلئے پاکستان سے تعاون کرے گا

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے 80 فیصد لوگ زراعت کے شعبے پر انحصار کرتے ہیں اور ٹڈی دل نے ان کی معاشی حالت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹڈیوں کے حملوں سے فصلوں کو ہونے والے نقصان پر حکومت بلوچستان ایک سروے بھی کر رہی ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے صوبائی محکمہ زراعت کو ہدایت کی کہ وہ ٹڈی دل سے نمٹنے کے لیے صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ساتھ کام کریں۔

یہ بھی پڑھیں: 46 اضلاع میں 5 ہزار مربع کلومیٹر سے زائد علاقہ ٹڈیوں سے صاف کردیا گیا

اس موقع پر ضیا لانگو نے 10 ٹریکٹروں کی چابیاں صوبائی وزیر زراعت زمرک خان کے حوالے کیں اور بتایا کہ محکمہ زراعت کو کھیتوں میں اسپرے کرنے کے لیے ٹریکٹر فراہم کیے گئے ہیں۔

دونوں وزرا نے کہا کہ پی ڈی ایم اے ٹڈی دل سے متاثرہ لوگوں کے لیے اپنی مکمل مدد فراہم کرے گی۔

واضح رہے کہ جنوری کے آخر میں حکومت نے ٹڈی دل کو ایک قومی ایمرجنسی قرار دیا اور ٹڈی دل پر کنٹرول اور نگرانی کے لیے قومی ایکشن پلان اور ایک اعلی سطح کا قومی ٹڈی کنٹرول مرکز قائم کیا تھا۔

ٹڈی دل کی وجہ سے فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات سے پاکستان میں 30 لاکھ سے زیادہ افراد کو غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے جبکہ صورتحال سب سے زیادہ بلوچستان میں نازک ہے۔

ایک اندازے کے مطابق فصلوں کے نقصانات کے سبب لگ بھگ 34 ہزار گھرانوں کو ہنگامی طور پر معاش اور خوراک کی حفاظت سے متعلق امداد کی ضرورت ہوگی۔