پاکستان نے گلگت بلتستان میں انتخابات پر بھارتی بیان کو بے بنیاد قرار دے دیا

اپ ڈیٹ 03 جولائ 2020

ای میل

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت ریاستی دہشت گردی کی ایک اور زندہ مثال ہے —
فائل فوٹو: اے پی پی
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت ریاستی دہشت گردی کی ایک اور زندہ مثال ہے — فائل فوٹو: اے پی پی

پاکستان نے گلگت بلتستان میں انتخابات سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ امور کے ترجمان کے بیانات کو مسترد کردیا۔

دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے ایک جاری بیان میں کہا ہے کہ ’گلگت بلتستان کے انتخابات پر بھارت کی جانب سے تبصرہ بے بنیاد ہے’۔

مزیدپڑھیں: صدر مملکت کی گلگت بلتستان میں 18 اگست کو عام انتخابات کی منظوری

انہوں نے کہا کہ ’بھارتی حکومت، مقبوضہ جموں اور کشمیر میں بھارتی فورسز کے ذریعے جعلی انتخابات منعقد کرارہی ہے اور پورے خطے کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کردیا‘۔

دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ پاکستان نے اعادہ کیا کہ بھارت مقبوضہ جموں اور کشمیر کے کچھ حصوں پر غیرقانون طور پر قابض ہے۔

خیال رہے کہ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے یہ بیان بھارتی وزارت خارجہ امور کے ترجمان انوراگ سریواستو کے اس بیان کے رد عمل میں سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ گلگت بلتستان میں انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ اسلام آباد کی جانب سے بھارتی علاقوں پر غیر قانونی قبضے کی کوشش ہے۔

انہوں نے ایک آن لائن میڈیا بریفنگ کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تمام بھارتی علاقوں کو خالی کرے جو ان کے غیر قانونی قبضے میں ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں انتخابات کے انعقاد، نگران حکومت کی تشکیل کیلئے صدارتی حکم جاری

اس حوالے سے دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کا واحد حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد کے ذریعے ممکن ہے جس پر مکمل عملدرآمد کے تحت جمہوری طریقے سے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کرائی جائے جو کشمیریوں کا ناگزیر حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں انتخابات سے متعلق بھارتی حکام کے بے بنیاد الزامات کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پردہ نہیں ڈال سکتا ہے۔

عائشہ فاروقی نے کہا کہ ’بھارتی قابض افواج نے سخت قوانین کے تحت جو استثنیٰ حاصل کیا ہے ، وہ ریاستی دہشت گردی کی ایک اور زندہ مثال ہے جو بھارت کی جانب سے غیر مسلح کشمیریوں کے خلاف برپا کی جارہی ہے‘۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام مقبوضہ علاقوں کو خالی کردے، وادی میں کی جانے والی تمام غیر قانونی کارروائیوں کو روک دے، تمام سخت قوانین کو کالعدم قرار دے دے اور غیر جانبدار مبصرین اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی گروہوں کو کشمیریوں کی فلاح و بہبود کا اندازہ لگانے کے لیے خطے کا دورہ کرنے کی اجازت دیں تاکہ انہیں اپنے حق خودارادیت کا استعمال کرنے کی اجازت دی جاسکے۔

مزید پڑھیں: حکومت کو گلگت بلتستان میں الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت انتخابات کروانے کی اجازت

واضح رہے 30 اپریل کو سپریم کورٹ نے وفاق کو انتخابی ایکٹ 2017 کے تحت گلگت بلتستان میں انتخابات کرانے اور نگراں حکومت کے قیام کے لیے متعلقہ قانون میں ترمیم کی اجازت دی تھی۔

28 جون کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابی شیڈول کی منظوری دی۔

واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی 24 جون کو اپنی مدت پوری ہونے پر تحلیل ہوگئی اور قانون کے مطابق نئے ممبروں کے انتخاب کے لیے 60 دن میں انتخابات ہوں گے۔

وزارت امور کشمیر اور گلگت بلتستان کے مطابق رائے شماری رواں سال 18 اگست کو ہوگی۔