ایغور مسلمانوں کا معاملہ، امریکا نے چینی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کردیں

اپ ڈیٹ 10 جولائ 2020

ای میل

سنکیانگ میں 10 لاکھ سے زائد افراد زیرحراست ہیں—فوٹو:بشکریہ آئی سی آئی جے
سنکیانگ میں 10 لاکھ سے زائد افراد زیرحراست ہیں—فوٹو:بشکریہ آئی سی آئی جے

امریکا نے سنکیانگ میں مسلم اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی کے ذمہ داران چینی سیاست دانوں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کردیا۔

واضح رہے کہ چین پر ایغور مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف بڑے پیمانے پر نظر بندیوں، مذہبی ظلم و ستم اور زبردستی نس بندی کا الزام ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے چین میں کمیونسٹ پارٹی کے اہم رکن چن کونگوو اور 3 دیگر عہدیداروں پر سنکیانگ میں مسلم اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی کے الزامات پر پابندیاں عائد کیں۔

مزید پڑھیں: چین: ‘ایغور اقلیت کو حراستی کیمپوں میں قید رکھنا خوفناک ہے‘

خیال رہے کہ چین نے مغربی صوبے سنکیانگ میں مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کی بد سلوکی کی تردید کی ہے۔

اس ضمن میں ٹرمپ انتظامیہ نے چینی کمیونسٹ پارٹی کے بااثر سیاستدان چن کونگوو کے حوالے سے کہا کہ وہ اقلیتوں کے خلاف بیجنگ کی پالیسیوں میں برابر کے شریک رہے اور اس سے قبل تبت میں انچارج بھی تھے۔

خیال رہے کہ چن کونگوو امریکی پابندیوں کا نشانہ بننے والے اب تک کے اعلی عہدے دار ہیں۔

امریکی پابندیوں کا نشانہ بننے والے سنکیانگ پبلک سیکیورٹی بیورو کے ڈائرکٹر وانگ مننگن، سنکیانگ میں پارٹی کے سینئر ممبر ژو ہیلون اور سابق سیکیورٹی اہلکار ہوو لیوجن بھی شامل ہیں۔

امریکی پابندیوں کے بعد مذکورہ تمام افراد کے ساتھ مالی لین دین کرنا امریکا میں قابل جرم ہوگا اور امریکا میں ان کے اثاثے منجمد ہوجائیں گے۔

مزید پڑھیں: چین: مسلم علاقے میں سیکیورٹی کے نام پر ’ڈی این اے‘ منصوبہ

امریکا نے چین کے سابق سیکیورٹی اہلکار ہوو لیوجن پر ویزا پابندی عائد نہیں لیکن دیگر تمام نامزد افراد اور ان کے اہلخانہ پر ویزا کی پابندی عائد ہوگی۔

مجموعی طور پر سنکیانگ پبلک سیکیورٹی بیورو پر بھی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔

امریکا کے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکا خطے میں 'خوفناک اور منظم زیادتیوں' کے خلاف کارروائی کررہا ہے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ سی سی پی (چینی کمیونسٹ پارٹی) سنکیانگ میں ایغور سمیت دیگر اقلیتی گروپوں کے انسانی حقوق کی پامالی کی، ایسے میں امریکا محض دیکھتا نہیں رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا سنکیانگ میں ہونے والی زیادتیوں کا ذمہ دار سمجھے جانے والے دیگر نامعلوم کمیونسٹ پارٹی کے عہدیداروں پر بھی ویزا کی اضافی پابندیاں عائد کررہا ہے، ان کے اہل خانہ بھی پابندیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چین: سنکیانگ کے مسلمانوں کیلئے درجنوں ناموں پر پابندی

واضح رہے کہ چینی صوبے سنکیانگ کی آبادی ایک کڑور کے قریب ہے جن میں سے زیادہ تر مسلمان اقلیت ایغور سے تعلق رکھتے ہیں۔

ماضی میں اس خطے میں ایغور مسلمانوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہی ہیں اور چین اپنے مغربی صوبے سنکیانگ میں کشیدگی کا ذمہ دار علیحدگی پسند گروپ کو ٹھہراتا ہے۔

بیجنگ کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس نے اس علاقے میں معاشی ترقی کے لیے اقدامات کیے ہیں اور حکومت اقلیتوں کے حقوق میں مساوات برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔

دوسری جانب جلاوطن ورلڈ ایغور کانگریس گروپ کے ترجمان دلزات راگزت (Dilxat Raxit) نے ریڈیو فری ایشیا کو بتایا کہ 'چینی حکومت روایتی ایغور کلچر کو دبانے کے لیے مسلسل اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: چین: سنکیانگ میں روزے رکھنے پر پابندی

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ایغوروں کے ناموں کو محدود کرنے کی آڑ میں چینی حکومت سیاسی ظلم و ستم کر رہی ہے'، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ 'حکومت کو خدشہ ہے کہ اس طرح کے ناموں والے لوگ خطے میں چینی پالیسیوں کے دائرہ کار سے باہر ہوجائیں گے'۔

یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ چین کی مرکزی قانون سازی باڈی نے شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے 50 نکاتی قواعد کا اعلان کیا تھا۔

یاد رہے کہ ایغور قوم کی اکثریت معتدل اسلام پر عمل پیرا ہے تاہم ان میں کچھ لوگ سعودی عرب اور افغانستان میں نافذ اسلامی طریقہ کار پر کاربند ہیں جیسا کہ خواتین کا نقاب کرنا اور مردوں کا داڑھیاں رکھنا، جن کے خلاف حالیہ سالوں میں چینی سیکیورٹی فورسز نے کریک ڈاؤن بھی کیا۔

مزید پڑھیں: مسلم اکثریتی صوبے میں 'جدید تہذیب' کی ضرورت، چینی فوج

گزشتہ چند سالوں میں سنکیانگ میں ہونے والی کشیدگی کے باعث سیکٹروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ چینی حکومت کی جانب سے یہاں امن و امان کی خراب صورت حال کا ذمہ دار اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ مشرقی ترکستان کے نام سے ایک علیحدہ ریاست بنانے والوں کو قرار دیا جاتا ہے۔