کراچی کے 3 بڑے نالوں کی صفائی کا کام ایف ڈبلیو او کے سپرد

اپ ڈیٹ 31 جولائ 2020

ای میل

—فائل فوٹو: اے ایف پی
—فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی کے تین بڑے نالوں کی صفائی کا کام فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو تفویض کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

کراچی میں اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ حکومت اداروں کی مدد سے شہر کے نالوں پر قائم تجاوزات کو ختم کرے گی۔

وزیر اعظم عمران خان نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو کراچی میں برساتی نالوں کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی جائزہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر بلدیات سید نصیر شاہ، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل، چیف سیکریٹری ممتاز شاہ، کور5 کے بریگیڈیئر حسین مسعود، این ڈی ایم اے کے بریگیڈیئر حسین مسعود اور دیگر اہم عہدیداران نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: محکمہ موسمیات کی کراچی میں ایک بار پھر تیز بارشوں کی پیش گوئی

اجلاس سے جن 3 نالوں کی صفائی کا فیصلہ کیا گیا، اس میں ضلع وسطی کا گوجر نالہ اور ضلع کورنگی کا سی بی ایم نالہ بھی شامل ہے جسے اس کی اصلی حالت میں لایا جائے گا۔

ایف ڈبلیو او شاہراہ فیصل کے دونوں اطراف برساتی نالوں کی صفائی کے علاوہ ملحقہ چیک پوائنٹس جیسے ایف ٹی سی، نرسری، گلشنِ ظفر، ٹیپو سلطان روڈ، کارساز، ڈریگ روڈ، اسٹار گیٹ شامل ہیں۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام نالوں کا کچرا جام چکرو اور ٹی پی ون کے ڈمپ سائٹس پر منتقل کیا جائے گا۔

دوسری جانب محکمہ بلدیات فوج اور رینجرز کے تعاون سے نالوں پر قائم تجاوزات کو ختم کرے گی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کے ایم سی کے پاس 38 نالے ہیں اور یہ سب ورلڈ بینک پروجیکٹ 'سوئپ' کے تحت صاف کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کے ایم سی کے علاوہ ڈی ایم سی کے پاس 514 چھوٹے نالے ہیں اور وہ صفائی کے ذمہ دار ہیں جس کے لیے حکومت سندھ انہیں اضافی فنڈ فراہم کررہی ہے۔

مزیدپڑھیں: کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش، 6 افراد جاں بحق، بیشتر علاقوں سے بجلی غائب

علاوہ ازیں بتایا گیا کہ شہر میں کنٹونمنٹ اور کے ڈبلیو ایس بی کے کچھ نالے ہیں جس کے لیے حکومت سندھ کے ایم سی نالوں کی صفائی کے لیے فنڈز مہیا کرتی ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ لیاقت آباد اور شیر شاہ سوری روڈ جہاں نالے میں گرین لائن انفرا اسٹرکچر کے ستون تعمیر کیے گئے ہیں وہاں بارش کا پانی جمع ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ اورنگی نالے پر کشمیر کالونی اور گلستانِ جوہر پر تجاوزات کی وجہ سے نکاسی آب ممکن نہیں ہوسکا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ حالیہ مون سون میں ایک گھنٹے کے میں 63 سے 86 ملی میٹر بارش ہوئی جبکہ شہر کا موجودہ انفرا اسٹرکچر 30 منٹ میں 30 ملی میٹر تک بارش برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا تھا کہ رین ایمرجنسی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نالوں کی صفائی اور اس سے متعلق دیگر اخراجات کے لیے 46 کروڑ 30 لاکھ روپے جاری کیے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے این ڈی ایم اے کو کراچی میں برساتی نالوں کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی جائزہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کے اوائل سے ہی کراچی میں مون سون سیزن کا آغاز ہوا تھا اور شہر قائد میں کچھ گھنٹوں کی بارش نے انتظامی دعوؤں کی قلعی کھول دی تھی۔

بارش ہونے سے نہ صرف شہر کی اہم شاہراہوں اور نشیبی علاقے زیر آب آئے تھے بلکہ مختلف علاقوں میں گھروں میں بھی پانی جمع ہوگیا تھا جبکہ اس مون سون کے تیسرے اسپیل میں شہر کے کافی حصے نالے بپھرنے، گٹرا بلنے کے باعث زیر آب آگئے تھے۔

مزید پڑھیں: ملک میں مزید 801 افراد کورونا وائرس کا شکار، اموات 4 ہزار 762 ہوگئیں

اسی حوالے سے شہر قائد میں پانی کی نکاسی اور گندی سے متعلق سندھ ہائیکورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران عدالت عالیہ کے جج کی جانب سے سخت برہمی کا اظہار بھی کیا گیا تھا۔

جسٹس خادم حسین شیخ نے کہا تھا کہ کچرے کی وجہ سے برسات میں کراچی ڈوب گیا، کراچی کا ڈوبنا بڑا المیہ ہے، کسی کو احساس ہی نہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہر طرف غیر قانونی تعمیرات اور کچرا نہ اٹھانے کی وجہ سے کراچی ڈوب گیا، ہر ادارہ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتا ہے، کسی نے دیکھا کراچی میں گاڑیاں بارش کے پانی میں ڈوبی ہوئیں تھیں؟ لوگ گھروں سے اپنے بچوں کو نہیں نکال پا رہے تھے۔