5 اگست کے پیشِ نظر مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ

اپ ڈیٹ 04 اگست 2020

ای میل

پیر کی صبح شہر کی مرکزی شاہراہوں کو بند کرنے کے لیے نئی خاردار تاریں اور لوہے کی رکاوٹیں لگائی گئیں—تصویر: اے ایف پی
پیر کی صبح شہر کی مرکزی شاہراہوں کو بند کرنے کے لیے نئی خاردار تاریں اور لوہے کی رکاوٹیں لگائی گئیں—تصویر: اے ایف پی

نئی دہلی کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی نیم خودمختار حیثیت ختم کرنے کے جابرانہ اقدام کو ایک برس مکمل ہونے پر احتجاجی مظاہروں کے ڈر سے پوری وادی میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے مرکزی شہر سری نگر کے لیے 3 اگست کو جاری کردہ حکومتی ہدایت نامے میں کہا گیا کہ ’یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ ہوں گی اور 4 اور 5 اگست تک نافذ العمل رہیں گی'۔

اس ضمن میں ایک سینئر پولیس عہدیدار نے شناخت پوشیدہ رکھنے کی شرط پر خبررساں ادارے کو بتایا کہ ’کشمیر کے تمام اضلاع میں مکمل طور پر کرفیو نافذ رہے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: او آئی سی کمیشن کی مقبوضہ کشمیر میں نئے بھارتی قانون کی مذمت

مکمل کرفیو کا مطللب اس دوران صرف اور صرف خصوصی سرکاری پاس کے ذریعے نقل و حرکت ممکن ہے جو ضروری سروسز مثلاً پولیس اور طبی عملے کے لیے جاری کیے جاتے ہیں جبکہ باقی کشمیری عوام گھروں میں محصور رہیں گے۔

واضح رہے کہ بھارت نے پہلے ہی ہمالیائی خطے میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کی آڑ میں کاروباری سرگرمیاں اور عوام کی نقل و حرکت محدود کر رکھی ہے۔

اس نئے حکم نامے کے تحت وائرس کے سلسلے میں نافذ لاک ڈاؤن کو 8 اگست تک توسیع دے دی گئی ہے۔

کرفیو سے متعلق نئے حکم نامے کے بعد پولیس کی گاڑیاں سری نگر میں رات کو گشت کرتی رہیں اور عوام کو میگا فون کے ذریعے گھروں میں رہنے کی ہدایات کی جاتی رہیں۔

پابندیوں میں اضافہ

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے مارچ میں کورونا وائرس کے سبب مقبوضہ کشمیر میں پابندیاں مزید سخت کردی تھیں جس سے خطے کا سماجی و معاشی بحران مزید بگڑ گیا تھا۔

جس کے بعد کچھ پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی تاہم مقبوضہ کشمیر میں سیکڑوں چیک پوائنٹس اور انٹرنیٹ کی سروس انتہائی سست ہونے کی وجہ سے زندگی اب بھی مشکل ہے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ بچے کے سامنے بزرگ کے قتل پر احتجاج، آزادی کے نعرے

کشمیر چیمبر آف کامرس کے مطابق وادی میں معاشی حالات بھی دگردوں ہیں اور 2019 کے اختتام تک 5 لاکھ کشمیری اپنی ملازمتوں سے محروم ہوچکے تھے۔

دوسری جانب بھارتی حکام نے یکم اگست سے ہی وادی کشمیر میں عائد پابندیوں کو مزید سخت کرنا شروع کردیا تھا۔

اس سلسلے میں پیر کی صبح شہر کی مرکزی شاہراہوں کو بند کرنے کے لیے نئی خاردار تاریں اور لوہے کی رکاوٹیں لگائی گئیں۔

دیگر شہروں اور قصبوں کے رہائشیوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ پولیس نے انہیں جمعرات تک اپنے گھروں سے باہر نہ نکلنے کا حکم دیا ہے۔

یہ کرفیو بالکل اسی طرز کا کرفیو ہے جو بھارتی حکام نے گزشتہ برس 5 اگست کو کشمیر کی خصوصی نیم خودمختار حیثیت کے خاتمے سے قبل نافذ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا نیا ڈومیسائل قانون مسترد کردیا

اس دوران ہر قسم کا مواصلاتی رابطہ بند کردیا تھا فون اور انٹرنیٹ لائنز منقطع کردی گئی تھیں اور دنیا کے سب سے فوج زدہ علاقے میں مزید فوجی دستے بھیج دیے گئے تھے۔

اس کے ساتھ کشمیری حریت پسندوں کے خلاف سیکیورٹی آپریشنز میں بھی اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ کچھ برسوں میں ہونے والے مسلح مقابلوں میں 2020 خونی سالوں میں سے ایک ثابت ہوا۔

مقبوضہ کشمیر کی مسلمان اکثریتی آبادی میں بھارت کی ہندو قوم پرست حکومت کے خلاف گزشتہ برس سے شدید غصہ پایا جاتا ہے بالخصوصی کشمیریوں کے مخصوص حقوق دوسروں کو دینے پر کہ جس سے وادی سے باہر کے لوگ یہاں زمین خرید سکیں گے۔

ناقدین کا کہنا تھا کہ یہ خطے کی آبادی کا تناسب بگاڑنے کی سوچی سمھجھی کوشش ہے۔

یہاں یہ بات بھی مدِ نظر رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت حکومت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف 3 دہائیوں سے مسلح جدوجہد جاری ہے جس میں ہزاروں کشمیری شہید ہوچکے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ

یاد رہے کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 5 اگست 2019 کو ایک صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا تھا، جس کے بعد مقبوضہ علاقہ ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی بن گئی تھی۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم دنیا کو دکھانے والے فوٹوگرافرز نے ایوارڈ جیت لیا

بھارتی آئین کی دفعہ 35 'اے' کے تحت وادی سے باہر سے تعلق رکھنے والے بھارتی نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے تھے اور نہ ہی سرکاری ملازمت حاصل کرسکتے تھے، یہ دونوں معاملات بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف تھے۔

بی جے پی حکومت نے اس غاصبانہ اقدام سے قبل ہی وادی میں کرفیو نافذ کردیا تھا جس کے بعد سے اب تک وادی میں معمولات زندگی مکمل بحال نہیں ہوسکے۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات بھی سخت کشیدگی کا شکار ہیں۔

پاکستان میں 5 اگست کے اقدام کو یومِ استحصال کے طور پر منایا جائے گا اور اس موقع پر خصوصی تقاریب منعقد کی جائیں گی۔