موٹروے گینگ ریپ: شہباز شریف نے 'نامناسب' الفاظ پر معذرت کرلی

اپ ڈیٹ 15 ستمبر 2020

ای میل

شہباز شریف نے اپنے بیان پر معذرت کرلی—فائل/فوٹو:اے ایف پی
شہباز شریف نے اپنے بیان پر معذرت کرلی—فائل/فوٹو:اے ایف پی

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے سوشل میڈیا میں شدید تنقید کے بعد قومی اسمبلی میں لاہور-سیالکوٹ موٹروے گینگ ریپ واقعے پر تقریر کے دوران کہے ہوئے اپنے الفاظ پر معذرت کرلی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ 'قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران اپنے الفاظ کو مناسب پیرائے میں بیان نہیں کرسکا اور یہ ناگوار گزرا' ۔

مزید پڑھیں:موٹروے گینگ ریپ جیسے واقعات پر وزیراعظم غائب ہوجاتے ہیں، شہباز شریف

شہباز شریف نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ 'میرا ایسا مطلب ہر گز نہیں تھا اور اس پر میں مخلصانہ طور پر معذرت خواہ ہوں'۔

انہوں نے کہا کہ 'میں اس بدقسمت واقعے پر آپ سب کی طرح مضطرب تھا'۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ 'امید ہے کہ اب حکومت شہریوں کی حفاظت کے لیے سیالکوٹ موٹروے پر سیکیورٹی فراہم کرے گی'۔

خیال رہے کہ شہباز شریف نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر پیش آنے والے گینگ ریپ واقعے پر تقریر کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت پر تنقید کی تھی جبکہ مسلم لیگ (ن) کو موٹروے بنانے کا کریڈٹ دیا تھا۔

شہباز شریف نے واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'یہ کہنا نامناسب نہیں ہوگا کہ یہ موٹروے نواز شریف کی سربراہی میں مسلم لیگ (ن) نے بنایا، یہ لاکھ تختیاں لگاتے پھریں مگر پوری قوم جانتی ہے کہ یہ عوامی خدمت کے عظیم منصوبے کس دور میں لگائے گئے'۔

موٹروے کی تعمیر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ 'اللہ کا فضل ہے کہ اس کا پورا کریڈٹ نواز شریف کی حکومت، ان کی ٹیم اور مسلم لیگ (ن) کو جاتا ہے'۔

بعد ازاں سوشل میڈیا میں ان کی تقریر مختصر حصہ وائرل ہوا اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے تنقید کرتے ہوئے نامناسب قرار دیا بلکہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے بیان سے بھی بدتر قرار دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:موٹروے ریپ کیس: ملزم شفقت 14 روزہ ریمانڈ پر جیل منتقل

معروف صحافی عاصمہ شیرازی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ 'انتہائی غیر ضروری اور ناقابل قبول بیان ہے، خاتون سے زیادتی کے ذکر کے دوران موٹروے کی تعریف سمجھ سے بالاتر ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سیاسی راہنماؤں کی اکثریت ان واقعات کی حساسیت ہی نہیں رکھتی، شہباز شریف صاحب کا یہ بیان مزید تکلیف کا سبب بنا ہے'۔

اینکر ماریہ میمن نے شہبازشریف کی تقریر پر کہا کہ 'کیا حقیقت ہے اوریہ کیا کہنا چاہ رہے ہیں، خواجہ آصف بھی اس نامناسب بیان کی توثیق کررہے ہیں'۔

ایک صارف نے کہا کہ 'شہباز شریف صاحب سے اتنے بھیانک سانحے پر اس قسم کا کریڈٹ لینے کے فضول بیان کی توقع نہ تھی'۔

اقرار الحسن نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ 'ایک بار نہیں دو بار سُن لیا، سی سی پی او کی کہی ہوئی بات جیسے نامناسب کے ساتھ ساتھ غلط وقت پر کی گئی تھی، شہباز شریف صاحب کی بات اُس سے زیادہ نامناسب اور بے وقت ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'اس لیے کہ وہ زیادہ ذمہ دار عہدے پر رہے ہیں، تالیاں بجانے والوں کی خوشامد کا بھی الگ ہی لیول ہے، بہت گِرا ہوا'۔

شہباز شریف کی جانب سے اپنے بیان پر معذرت کے بعد سینئر صحافیوں نے اس عمل کو سراہا۔

سینیئر صحافی حامد میر نے اپنے ٹوئٹ میں معذرت کرنے پر شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔