ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

اپ ڈیٹ 27 ستمبر 2020

ای میل

درخواست گزار نے کہا کہ 70 فیصد ادویات جن کی قیمتوں میں 200 فیصد تک کا اضافہ کیا گیا ہے وہ ملٹی نیشنل کمپنیاں بناتی ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
درخواست گزار نے کہا کہ 70 فیصد ادویات جن کی قیمتوں میں 200 فیصد تک کا اضافہ کیا گیا ہے وہ ملٹی نیشنل کمپنیاں بناتی ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

لاہور: ایک وکیل نے ادویات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی جس میں استدعا کی گئی ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر دوا ساز کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایڈووکیٹ ندیم سرور نے اپنی پٹیشن میں کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) کی جانب سے ادویات کی قیمتوں میں 8 سے 15 فیصد اضافے کا دعویٰ کیا گیا لیکن 90 فیصد سے زائد ادویات کی قیمتیں 100 سے 200 فیصد بڑھائی گئیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 70 فیصد ادویات جن کی قیمتوں میں 200 فیصد تک کا اضافہ کیا گیا ہے وہ ملٹی نیشنل کمپنیاں بناتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے زندگی بچانے والی 94 ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی

درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ غیر ارادی طور پر ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے غریب مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں کیوں کہ ادویات کی عدم دستیابی یا مہنگے داموں میں دستیابی کی صورت میں وہ ان کی قوت خرید سے باہر ہوں گی۔

درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ دوا ساز کمپنیوں نے حکومت کی باضابطہ منظوری کے بغیر غیر قانونی اور غیر مجاز طریقے سے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے اربوں روپے کمائے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دوا ساز کمپنیوں سے غیر قانونی طور پر کمائی گئی رقم نکلوا کر قومی خزانے میں جمع کروائی جائے۔

مزید پڑھیں: حکومت نے جان بچانے والی ادویات کی کمی کا نوٹس لے لیا

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ ٖڈریپ کو ادویات کی قیمتوں میں سے دوا ساز کمپنیوں کا کیا گیا غیر مجاز اضافہ منہا کر کے حکومت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کرنے کا حکم دیا جائے۔

پٹیشنر نے عدالت سے یہ بھی درخواست کی کہ اتھارٹی سے ادویات کی قیمتوں کا گزشتہ 3 سال کا ریکارڈ طلب کیا جائے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل وفاقی کابینہ نے زندگی بچانے والی 94 ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی تھی اور اضافہ کی وجہ مارکیٹ میں ادویات کی قیمتوں کی دستیابی یقینی بنانے کو قرار دیا گیا تھا۔

اس حوالے سے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نےکہا تھا کہ 94 ادویات میں سے زیادہ تر کی قیمت ایک دہائی سے نہیں بڑھائی گئیں جس کی وجہ سے مینوفیکچررز نے انہیں بنانا چھوڑ دیا اور مارکیٹ میں ان کی قلت ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں: وزارت صحت کی ادویات کی قیمتوں میں 10 فیصد تک اضافے کی اجازت

معاون خصوصی نے کہا کہ جب یہ ادویات مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہوتیں تو مریض مہنگی اسمگل شدہ ادویات استعمال کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

اس ضمن میں ڈان کی جانب سے ڈاکٹر سلطان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ قیمتوں میں اضافہ ان کی مارکیٹ میں دستیابی کو یقینی بنائے گا؟ تو انہوں نے کہا کہ حکومت طاقت کے ذریعے دوا کی مارکیٹ میں دستیابی یقینی نہیں بنا سکتی کیوں کہ قیمتوں میں کمی کے لیے دباؤ ڈالا جائے تو ادویات بنانے والے پیداوار روکنے کے متعدد طریقے اپنا لیتے ہیں۔