ننکانہ صاحب: بس کے انتظار میں کھڑی خاتون کا ’اغوا کے بعد گینگ ریپ‘

اپ ڈیٹ 01 اکتوبر 2020

ای میل

ملزمان خاتون کو بسدھر پور ڈیرہ میں لے گئے اور اپنے دیگر 4 ساتھیوں کے ساتھ  گینگ ریپ کردیا —فائل فوٹو: کری ایٹو کامنز
ملزمان خاتون کو بسدھر پور ڈیرہ میں لے گئے اور اپنے دیگر 4 ساتھیوں کے ساتھ گینگ ریپ کردیا —فائل فوٹو: کری ایٹو کامنز

صوبہ پنجاب کے ضلع ننکانہ صاحب میں بس کے انتظار میں کھڑی خاتون کو مبینہ طور پر اغوا کے بعد نشہ آور مشروب پلا کر 6 افراد نے گینگ ریپ کا نشانہ بنایا۔

پولیس تھانہ مانگٹانوالہ نے وقوعہ کے 4 روز بعد متاثرہ خاتون کی بہن مسرت بی بی کی درخواست پر 2 نامزد اور 4 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

واقعے کی ابتدائی اطلاعی رپورٹ کے مطابق شیخوپورہ کی رہائشی خاتون ذکیہ بی بی رات 7 بجے مسافر بس کے ذریعے بیگم کوٹ سے جڑانوالہ جارہی تھیں کہ تھانہ مانگٹانوالہ سے کچھ فاصلے پر بس خراب ہوگئی اور مذکورہ خاتون دیگر مسافروں کے ہمراہ دوسری بس کا انتظار کرنے لگیں۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ: 'ریپ' کے ملزمان کی مبینہ بلیک میلنگ پر لڑکی کی خودکشی

شکایت گزار کے مطابق اسی اثنا میں اکمل اور عمران نامی ملزمان سفید رنگ کی کار میں پہنچے اور مسافروں کو موڑ کھنڈا تک چھوڑنے کی پیشکش کی جس پر ان کی بہن کار میں سوار ہوگئیں۔

ایف آئی آر کے مطابق کار سوار افراد نے متاثرہ خاتون کو لفٹ دینے کے بہانے اپنے ساتھ بٹھا لیا اور راستے میں نشہ آور مشروب پلا کر بے ہوش کردیا۔

شکایت گزار کا کہنا تھا کہ بعدازاں دونوں اغوا کار ان کی بہن کو موڑکھنڈا کے قریب بسدھر پور ڈیرہ میں لے گئے اور اپنے دیگر 4 ساتھیوں کے ہمراہ خاتون کو گینگ ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد برہنہ حالت میں قریبی کھیتوں میں پھینک دیا۔

مزید پڑھیں:تونسہ کے گاؤں میں گھر میں خاتون کا 'گینگ ریپ'

مدعیہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے بہن کے نمبر پر متعدد مرتبہ کال کی لیکن جواب نہ مل سکا بعدازاں ملزمان نے اسی فون سے انہیں واپس کال کی اور بتایا کہ ’تہماری بہن کو فصل چری میں پھینک دیا ہے آکر لے جاؤ‘۔

تاہم جب ذکیہ بی بی اپنی بہن کی تلاش میں فصل چری گئیں تو انہیں اپنی بہن نہیں ملیں تاہم صبح گھر پہنچیں اور اپنے ساتھ پیش آئے واقعے کے بارے میں بتایا۔

پولیس کے مطابق مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے تاہم ابھی تک کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے ننکانہ صاحب کے ڈسٹرک پولیس افسر اسمٰعیل کھرک نے کہا کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے 3 تفتیشی ٹیمز تشکیل دے دی ہیں جبکہ متاثرہ خاتون کی میڈیکل رپورٹ کا انتظار ہے۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاتون نے جس بس سے سفر کیا پولیس اس کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ وہ کیوں خراب ہوئی۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا نوٹس

دوسری جانب وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے گینگ ریپ واقعے کا نوٹس لے کر آر پی او کو فوری طور پر ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے جس پر پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پنڈ دادن خان میں لڑکی کا گینگ ریپ کرنے والے تینوں ملزمان گرفتار

ادھر انسپکٹر جنرل پنجاب انعام غنی نے بھی جڑانوالہ روڈ کے قریب خاتون کے مبینہ گینگ ریپ کے واقعے کا نوٹس لے کر آر پی او شیخوپورہ سے رپورٹ طلب کرلی جبکہ ملزمان کو گرفتار کر کے سخت قانونی کارروائی کا حکم دے دیا۔

خیال رہے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ملک میں گینگ ریپ کے واقعات میں خاصہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس سے قبل 20 ستمبر کو شوہر اور بچوں کی موجودگی میں 4 مسلح افراد نے خاتون کا مبینہ طور پر گینگ ریپ کیا اور زیورات کے علاوہ 20 ہزار روپے بھی لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔

قبل ازیں 7 ستمبر کو پنجاب کے گاؤں پنن وال کی رہائشی لڑکی کو اس کے ماموں زاد بھائی نے اپنے دوستوں کے ہمراہ گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا، پولیس نے 13 ستمبر کو ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ریپ کی کوشش پر ملزم کیخلاف کارروائی میں تاخیر، لڑکی نے 'خودکشی' کرلی

11 ستمبر کو تحصیل تونسہ کے گاؤں بستی لاشاری میں ایک شادی شدہ خاتون کا 2 مشتبہ افراد نے گھر میں مبینہ طور پر گینگ ریپ کیا۔

واقعے کی ایف آئی آر کے مطابق 2 بچوں کی والدہ نے بتایا کہ رات 10 بجکر 45 منٹ پر 2 افراد اس وقت گھر کی دیوار پھلانگ کر داخل ہوئے جب اس کے بچے 2 سالہ بیٹا اور 6 ماہ کی بیٹی سورہے تھے اور انہیں زبردستی گھر کے ایک کمرے میں لے جا کر ریپ کا نشانہ بنایا۔

10 ستمبر کو گجرپورہ کے علاقے میں 2 'ڈاکوؤں' نے مبینہ طور پر ایک خاتون کو اس وقت ریپ کا نشانہ بنادیا جب وہ موٹروے پر اپنی گاڑی میں کچھ خرابی کے بعد مدد کا انتظار کر رہی تھیں۔

واقعے کی تفصیل سے متعلق پولیس عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ 2 مسلح افراد نے خاتون کو اکیلا دیکھا اور اسلحے کے زور پر خاتون اور بچوں کو قریبی کھیت میں لے گئے اور وہاں خاتون کا گینگ ریپ کیا۔