کوے ہماری توقعات سے بھی زیادہ سیانے ثابت

01 اکتوبر 2020

ای میل

یہ انکشاف ایک تحقیق میں سامنے آیا —  اے پی فوٹو
یہ انکشاف ایک تحقیق میں سامنے آیا — اے پی فوٹو

ذہانت کی بات ہو تو صدیوں سے سائنسدان پرندوں کو احمق سمجھتے تھے مگر ایک پرندہ جو انہیں ہمیشہ سے حیران کرتا آرہا ہے وہ کوا ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران سائنس نے جانا کہ کوے چیزیں بنانے، ذخیرہ کرنے اور ٹولز کی نگہداشت کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ گنتی بھی کرسکتے ہیں اور نفس پر ضبط کی مشق بھی کرسکتے ہیں، وہ کھیلنا پسند کرتے ہیں اور اپنے اندر بہت زیادہ کینہ بھی رکھتے ہیں۔

درحقیقت جس کسی کو کبھی کوے کا سامنا ہوا ہے وہ جانتا ہے کہ یہ پرندہ کافی ذہین ہوتا ہے جب ہی تو اسے سیانا کوا بھی کہا جاتا ہے۔

مگر اب ایک نئی تحقیق میں ثابت کیا گیا ہے کہ یہ ہمارے اندازوں سے بھی زیادہ اسمارٹ یا ذہین ہے۔

تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا کہ کوے بھی شعور رکھتے ہیں یعنی اپنے ارگرد کی دنیا کے حوالے سے کافی باخبر ہوتے ہیں، یہ بہت زیادہ حیران کن ہے کیونکہ اب تک مانا جاتا ہے کہ صرف انسان اور چند ممالیہ جانداروں میں ہی یہ صلاحیت پائی جاتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے سائنس میں شائع ہوئے جس کے لیے جرمن ماہرین نے کام کیا تھا۔

ٹوبینن یونیورسٹی کے جانوروں کے ماہر اینڈریاز نایڈر نے بتایا کہ تحقیق کے نتائج سے ہمیں شعور اور اس کے دماغی اثرات کے ارتقا کے بارے میں جاننے کا موقع مل سکے گا۔

جانوروں میں شعور کی نشاندہی مشکل ہوتی ہے کیونکہ وہ بات نہیں کرسکتے، جس سے یہ معلوم کرنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ اپنے ارگرد کی دنیا کا شعور رکھنا، یہ فہم رکھنا کہ آپ کیا جانتے ہیں اور اپنے علم کے بارے میں سوچنا، اس سے مسائل حل کرنے اور فیصلہ سازی میں مدد ملتی ہے، اور ان دونوں میں کوے مہارت رکھتے ہیں۔

طبی زبان میں اس کے لیے پرائمری کونشئس نیس کہا جاتا ہے جو شعور کی سب سے بنیادی قسم ہے یعنی حال ، مستقبل قریب و ماضی کا شعور، جس کا تعلق سیربل کورٹیکس سے ہوتا ہے جو ممالیہ جانداروں کے دماغ کا ایک پیچیدہ حصہ ہوتا ہے۔

مگر پرندوں کی دماغی ساخت بالکل مختلف ہوتی ہے، ممالیہ جانداروں کے دماغوں میں جہاں تہیں ہوتی ہیں، وہاں پرندوں کے دماغ بالکل ہموار ہوتے ہیں اور ایسا کوؤں کے دماغ میں بھی ہے۔

مگر کوے بہت اسمارٹ ہوتے ہیں اور ان میں ممالیہ جانداروں جیسی ذہنی صلاحیتیں بھی پائی جاتی ہیں اور اسی لیے ماہرین یہ جاننے کی کوشش کررہے تھے کہ کیا ان کے اندر شعور پایا جاتا ہے یا نہیں۔

اس کو جاننے کے لیے جرمن محققین نے 2 کوے لیے اور ان پر مختلف تجربات کیے۔

سب سے پہلے انہیں بصری تحرک کے ردعمل کی تربیت فراہم کی گئی جس میں انہیں اسکرینوں پر روشنی دکھائی گئی اور دریافت ہوا کہ وہ انہیں دیکھ سکتے ہیں۔

مگر کچھ روشنیوں کو دیکھنا بہت مشکل تھا اور ان میں کئی بار وہ کوے دیکھنے کا سگنل دیتے، کئی بار نہیں دیتے۔

ہر کوے نے درجنوں سیشنز کے دوران 2 ہزار سگنلز دیئے جبکہ اس دوران الیکٹروڈز ان کے دماغ میں نصب تھے تاکہ دماغی سرگرمیوں کو ریکارڈ کیا جاسکے۔

محققین نے بتایا کہ تجربات سے معلوم ہوا کہ کوے کے دماغ میں اعصابی خلیاات بہت زیادہ پراسیسنگ کی سطح رکھتے ہیں جو کہ شعور کا اثر ہوتا ہے۔

تحقیق کے نتائج سے تصدیق ہوئی کہ اس طرح کا شعور صرف انسانوں یا چند ممالیہ جانداروں تک محدود نہیں اور اس قسم کے شعور کے لیے ممالیہ دماغ جیسی پیچیدہ تہہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔

جرمنی کے روہر یونیورسٹی کی ایک الگ تحقیق میں بھی کبوتروں اور الوؤں پر مختلف تجربات کے دوران دریافت کیا گیا کہ دونوں پرندوں کی دماغی ساخت حیران کن حد تک ممالیہ جانداروں کی سیربل ساخت سے ملتی جلتی ہے۔

اس ٹیم کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ قدیم مائیکرو سرکٹ ارتقائی مراحل سے گزرا ہو، جس سے پرندوں اور ممالیہ جانداروں کے دماغ جزو طور پر بدلے ہوں۔

پہلی تحقیق کے ماہرین نے بھی اس امکان سے اتقاق کیا۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اس قسم کا بنیادی شعور پرندوں اور ممالیہ جانداروں میں ہماری توقعات سے بھی زیادہ عام ہو۔

اگر اس کو درست ثابت کیا گیا تو اگلا سوال یہ ہوا گا کہ کیا ان جانداروں میں سیکنڈری کونشئس نیس کی موجودگی کا امکان بھی ہے یا نہیں۔

اس طرح کے شعور میں لوگوں کو اپنی تاریخ اور منصوبوں تک رسائی حاصل ہوتی ہے اور صرف حال سے آگاہی تک ہی محدود نہیں رہتے۔