وی پی این پر ٹک ٹاک کو بند کروانے کیلئے عدالتی کارروائی

اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2020

ای میل

پاکستان میں ٹک ٹاک کو 9 اکتوبر کو بند کردیا گیا تھا—فائل فوٹو: رائٹرز
پاکستان میں ٹک ٹاک کو 9 اکتوبر کو بند کردیا گیا تھا—فائل فوٹو: رائٹرز

شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ’ٹک ٹاک‘ کو پاکستان میں ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی این) پر بند کروانے کے لیے دائر درخواست پر لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔

لاہور ہائی کورٹ کے سنگل رکنی بینچ نے لاہور کے شہری کی جانب سے وکیل ندیم سرور کے توسط سے دائر کردہ درخواست پر سماعت کی۔

ندیم سرور نے 12 اکتوبر کو ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ٹک ٹاک کو وی پی این پر بھی بند کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

درخواست میں ٹک ٹاک کو فحاشی پھیلانے والی ایپ قرار دے کر کہا گیا تھا کہ ٹک ٹاک پر مشہوری کے لیے لڑکے اور لڑکیاں فحش ویڈیوز بناکر انہیں دوسری ایپس پر بھی شیئر کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وی پی این پر ’ٹک ٹاک‘ کو بند کرانے کے لیے عدالت میں درخواست دائر

درخواست میں لاہور میں ہی ٹک ٹاکر دوست کی جانب سے گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی لڑکی کے واقعے کو بھی بیان کیا گیا اور عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ مذکورہ ایپ کے ذریعے فحش مواد کو پھیلایا جا رہا ہے۔

درخواست میں عدالت کو بتایا گیا کہ پی ٹی اے کی جانب سے ٹک ٹاک پر پابندی لگائے جانے کے بعد لوگوں نے اسے وی پی این کے ذریعے چلانا شروع کیا ہے اور عدالت سافٹ ویئرز کے ذریعے بھی مذکورہ ایپ کو بند کرنے کے احکامات جاری کرے۔

سنگل رکنی بینچ کی جانب سے کی گئی سماعت کے دوران شیئرنگ ایپ پر پابندی لگوانے کی درخواست دائر کرنے والے شہری کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی اے نے قوانین کے مطابق ٹک ٹاک پر پابندی لگائی ہے، تاہم لوگ اسے وی پی این کے ذریعے استعمال کر رہے ہیں۔

شہری کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ وی پی این کے ذریعے ٹک ٹاک چلانے پر بھی پابندی کا حکم دے۔

سماعت کرنے والے معزز جج نے عدالتی دفتر کو ہدایات جاری کیں کہ ٹک ٹاک سے متعلق متفرق درخواستوں کو باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

عدالت نے ہدایات جاری کیں کہ ٹک ٹاک سے متعلق متفرق درخواستوں پر سماعت جلد سے جلد مقرر کی جائے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد

واضح رہے کہ حکومت پاکستان نے گزشتہ ہفتے ہی ٹک ٹاک کو غیر اخلاقی، فحش اور نامناسب مواد کو نہ ہٹائے جانے پر بند کردیا تھا۔

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ٹک ٹاک کو ملک بھر میں 9 اکتوبر کو بند کردیا تھا، جس کے بعد کئی لوگوں نے مذکورہ ایپ چلانے کے لیے وی پی این کا استعمال شروع کیا۔

وی پی این کے ذریعے نہ صرف عام صارفین متنازع اور ملک میں پابندی کے شکار انٹرنیٹ مواد تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں بلکہ ایسے سافٹ ویئرز کو کاروباری ادارے اور خصوصی طور پر بینک بھی استعمال کرتے ہیں۔

تاہم اب وی پی این کے ذریعے بھی ٹک ٹاک چلانے پر پابندی کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا ہے، عدالت میں مذکورہ درخواست سے قبل بھی ٹک ٹاک کے خلاف متفرق درخواستیں دائر کی جا چکی ہیں، جن پر اب عدالت نے جلد سماعت مقرر کرنے کے احکامات جاری کردیے۔