سعودی وزیر خارجہ کا قطر سے تنازع ختم ہونے کا عندیہ

اپ ڈیٹ 16 اکتوبر 2020

ای میل

پومپیو سے ملاقات کے بعد فیصل بن فرحان نے قطر سے تعلقات کا عندیہ دیا—فائل/فوٹو:اے پی
پومپیو سے ملاقات کے بعد فیصل بن فرحان نے قطر سے تعلقات کا عندیہ دیا—فائل/فوٹو:اے پی

سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے عندیہ دیا ہے کہ قطر کے ساتھ تین برس سے جاری تنازع کے خاتمے کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے ملاقات کے بعد اپنے بیان میں فیصل بن فرحان نے کہا کہ قطر کے ساتھ دیگر ممالک کے تنازع حل کرنے کے لیے پیش رفت جاری ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے 2017 میں قطر پر دہشت گردوں سے تعاون کا الزام عائد کرتے ہوئے تعلقات ختم کردیے تھے۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب سمیت 6 ممالک نے قطر سے سفارتی تعلقات ختم کردیئے

سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے گزشتہ روز واشنگٹن کے انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی نامی تھنک ٹینک سے ورچوئل خطاب میں کہا تھا کہ 'ہم تنازع کا حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم اپنے قطری بھائیوں کے ساتھ تعلقات کے خواہش مند ہیں اور ہمیں امید ہے کہ وہ بھی اسی طرح پرعزم ہوں گے'۔

فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ 'ہمیں سیکیورٹی سے متعلق تحفظات کو ختم کرنا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کے لیے ایک راستہ موجود ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اگر ہم سیکیورٹی خدشات دور کرنے کے لیے راستہ نکالنے میں کامیاب ہوئے تو ہم فیصلہ کرپائیں گے اور یہ خطے کے لیے اچھی خبر ہوگی'۔

سعودی عرب کے اتحادیوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو قطر کی جانب سے مسلسل مسترد کیا جاتا رہا ہے اور ان پر ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کا بھی الزام ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے قطر اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کے اختلافات ختم کرنے اور ایران کے خلاف خلیج میں اتحاد قائم کرنے کے لیے متعدد اور سنجیدہ کوششیں کی جاچکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:قطر اور سعودی عرب کے تعلقات میں برف پگھلنے لگی

قطر کی جانب سے سعودی عرب اور دیگر ممالک کے مطالبات مسترد ہونے پر امریکی کوششیں بار آور ثابت نہ ہو سکیں۔

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کہہ چکے ہیں کہ ان کی ریاست سفارتی بحران حل کرنے کے لیے مذاکرات کرنے کو تیار ہے، لیکن ان کی خود مختاری کا احترام ہونا چاہیے۔

رواں برس جون میں کویت نے خلیجی ممالک کے تنازع ختم کرنے کی کوشش کی تھی اور امید ظاہر کی تھی کہ تنازع حل ہونے کی طرف جارہا ہے۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے بعد خطے میں معاملات نیا رخ اختیار کر گئے اور سعودی اتحادیوں پر تنقید کی گئی۔

واضح رہے کہ دو روز قبل ہی امریکا کے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے سعودی عرب کو ترغیب دی تھی کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کریں جس سے دیگر خلیجی ممالک کو اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے میں آسانی ہوگی۔

پومپیو کا کہنا تھا کہ ہمارا مشترکہ مقصد خطے میں امن و سلامتی ہے۔

انہوں نے سعودی عرب کے حوالے سے کہا تھا کہ ‘وہ خطے کے بدلتے حالات کا موجب ہیں اور یہ ممالک ایران کے اثر و رسوخ کو روکنے اور علاقائی تعاون کی ضرورت کو صحیح سمجھتے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں امید ہے کہ سعودی عرب بھی تعلقات قائم کرنے پر سوچے گا، ابراہم معاہدے (متحدہ عرب امارات اور بحرین کا اسرائیل سے معاہدے) کی کامیابی کے لیے ان کی اب تک کی گئی کوششوں پر شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں’۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک سے سفارتی تعلقات بحال نہیں ہوسکے، قطر

اس سے قبل گزشتہ ماہ بحرین نے متحدہ عرب امارات کے ہمراہ وائٹ ہاوس میں اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

فلسطین، ایران اور ترکی سمیت دیگر ممالک نے اس معاہدے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کو اسرائیل کو قانونی جواز فراہم کرنے کا موقع قرار دیا تھا۔

اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے معاہدے کے بعد سعودی عرب پر خطے میں تنقید کا سامنا ہے اور قطر کے ساتھ تنازع بھی مزید گھمبیر ہوتا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی اتحاد کا قطر سے فٹ بال ڈپلومیسی کے ذریعے تعلقات بحالی کا عندیہ

یاد رہے کہ سعودی عرب کے اتحادی ملکوں نے جون 2017 میں قطر پر دہشت گردوں کی معاونت اور ایران سے تعلقات کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کے مکمل طور پر بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا اور مصر سمیت ان تینوں ممالک نے قطر سے زمینی، سمندری اور فضائی روابط معطل کردیے تھے۔

قطر نے تمام الزامات کو مسترد کردیا تھا لیکن سعودی اتحادیوں نے اس سے ہر قسم کی تجارت سمیت تعلقات کو معطل رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔