کووڈ سے سیاہ رنگت کا شکار ہونے والا ڈاکٹر کئی ماہ بعد ٹھیک ہوگیا

29 اکتوبر 2020

ای میل

— اے ایف پ فائل فوٹو
— اے ایف پ فائل فوٹو

نئے کورونا وائرس کی وبا گزشتہ سال دسمبر میں چین کے شہر ووہان سے پھیلنا شروع ہوئی تھی، جہاں اب صورتحال معمول پر آچکی ہے۔

ووہان کے ایک ڈاکٹر اس وبا کے آغاز میں کورونا وائرس کا شکار ہوئے تھے اور اس کے نتیجے میں ان کے جلد کی رنگت سیاہ ہوگئی تھی جو پہلے گندمی تھی۔

یہ اپنی نوعیت کا منفرد کیس تھا کیونکہ ایسے مزید کیسز بعد میں سامنے نہیں آئے اور طبی ماہرین اب تک اس کی کوئی وجہ بیان نہیں کرسکے۔

یائی فان اور ان کے ساتھی ہو وائی فینگ اس وبا کے آغاز میں اس وقت دنیا بھر میں شہہ سرخیوں کا حصہ بنے تھے جب ہسپتال میں زیرعلاج ان کی فوٹیج وائرل ہوئی، جس میں ان کی رنگت اس بیماری کے نتیجے میں سیاہ دکھائی گئی۔

یائی فان تو اپنی بیماری کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئے مگر ہو وائی فینگ جون میں انتقال کرگئے۔

نیوز ویک کی رپورٹ کے مطابق اب ان کی نئی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ اپپنا علاج کرنے والے ایک ڈاکٹر کا شکریہ ادا کرنے ہسپتال آئے اور وہاں اپنی صحتیابی پر تبادلہ خیال کیا۔

یائی فان میں کووڈ 19 کی تشخیص جنوری میں ہوئی تھی اور سنگین حد تک بیمار ہوکر ہسپتال میں زیرعلاج رہے۔

علاج کے دوران یائی فان اور ان کے ساتھی کی رنگت گندمی سے سیاہ ہوگئی۔

رنگت میں تبدیلی کی وجہ تو معلوم نہیں مگر کچھ رپورٹس میں عندیہ دیا گیا کہ ایسا کووڈ سے جگر کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے ہوا جبکہ دیگر کا کہنا تھا کہ یہ علاج کے آغاز میں کسی اینٹی بائیوٹک کا اثر ہے۔

فوٹو بشکریہ گلوبل ٹائمز
فوٹو بشکریہ گلوبل ٹائمز

جب ان کی رنگت بدل گئی تو ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ بیماری سے صحتیاب ہونے کے بعد معمول پر آجائے گی۔

یائی کی حالت میں بہتری نہ آنے پر مارچ میں ان کے جسم میں مصنوعی پھیپھڑے کے ذریعے خون کی گردش کا انتظام کیا گیا اور بتدریج بہتری آنے پر مئی میں انہیں ہسپتال سے ڈسچارج کیا گیا۔

چین کے نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی سے اپریل میں بات کرتے ہوئے یائی فان نے کہا تھا کہ وہ ریکور ہوچکے ہیں اور خود سانس لے پارہے ہیں، مگر اب بھی ان کے چلنا بہت مشکل ہوچکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب وہ ہسپتال سے باہر جائیں تو وہ بیجنگ جاکر ان لوگوں کا شکریہ ادا کریں گے جن کی وجہ سے وہ بچ سکے۔

ان کے ساتھی ہو وائی فینگ کو بھی یہی علاج فراہم کیا گیا تھا مگر وہ سنبھل نہیں سکے اور 2 جون کو انتقال کرگئے۔