• KHI: Zuhr 12:29pm Asr 5:10pm
  • LHR: Zuhr 12:00pm Asr 4:53pm
  • ISB: Zuhr 12:05pm Asr 5:02pm
  • KHI: Zuhr 12:29pm Asr 5:10pm
  • LHR: Zuhr 12:00pm Asr 4:53pm
  • ISB: Zuhr 12:05pm Asr 5:02pm

ہم حکومت نہیں ملک بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، شبلی فراز

شائع December 8, 2020
شبلی فراز نے اپوزیشن پر شدید تنقید کی—فوٹو: ڈان نیوز
شبلی فراز نے اپوزیشن پر شدید تنقید کی—فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری حکومت کو تلخ فیصلے کرنے پڑے لیکن ہم اس وقت حکومت کو نہیں بلکہ ملک کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پشاور واقعے کے بعد صوبوں کو آکسیجن گیس کے حوالے سے ہدایات دی گئی ہیں کہ اپنا ذخیرہ رکھیں تاکہ کمی کی صورت پر اس کو فراہم کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات کسی حد تک کیسز کو کنٹرول کر سکتے ہیں، اگر اجتماعی غیر ذمہ داری کا ثبوت ہوتو پھر 22 کروڑ کے عوام میں ایک فیصد بھی متاثر ہوں تو زیادہ نقصان ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: پی ڈی ایم حکومت کو گھر بھیج کر دم لے گی، مریم نواز

انہوں نے کہا کہ عوام سے سنجیدہ طریقے سے درخواست ہے کہ اس کو آسان نہ لیں اور جتنی بھی احتیاطی تدابیر پر عمل اور بنیادی طور پر ماسک پہننا لازمی ہے۔

شبلی فراز نے کہا کہ ایسے موقع پر اپوزیشن ایک ناٹک رچانے جارہی ہے، اپوزیشن جس غیر ذمہ داری اور بے حسی کا ثبوت دینے جارہی ہے جو نہ ملک کے مفاد میں ہے اور نہ ہی عوام کے مفاد میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جن کا عوام کے لیے کوئی ایجنڈا نہیں ہے اور پچھلے 11 سال سے مسلسل حکمرانی کر رہے تھے اور آج نتائج ان کی مرضی کے نہیں ہوئے اور انتخابات ہار گئے تو غیر منطقی طور پر دو سال خاموش رہے اور اب خیال آیا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی۔

'اپوزیشن چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق دیکھنا چاہتی ہے'

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق دیکھنا چاہتی ہے، وہ دیکھتی ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن ہار جائیں تو وہ انتخاب دھاندلی زدہ تھا اور ان کا بیٹا جیت جائے تو وہ ٹھیک تھا، شاہد خاقان عباسی اپنے حلقے میں ہار جائیں تو دھاندلی جبکہ دوسری جگہ سے جیت جائے تو وہ ٹھیک تھا۔

شبلی فراز نے کہا کہ اسی طرح حکومت سندھ کے لیے وہاں انتخابات ٹھیک تھے کیونکہ وہاں ان کی حکومت ہے، اپوزیشن اپنی تقریروں میں کہتی ہے کہ حکومت کو گھر بھیجنا ہے، اپوزیشن وہ ہوتی ہے جو جمہوریت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اپنی حکمت عملی بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور، ملتان میں پی ڈی ایم جلسوں کے بعد کورونا کیسز میں اضافہ ہورہاہے، شبلی فراز

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن والے ہوتے کون ہیں جو کہیں کہ اس حکومت کو گھر جانا چاہیے، اس لیے کہ آپ کے لوٹ مار کا دور ختم ہوا اور اپنی من مانی سے اپنے لوگوں کو اداروں کا سربراہ بنایا اور ایسے کلچر کو فروغ دیا جس میں پیسے کی بنیاد پر لوگوں کی قدر ہوتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے اپنے دور میں اقربا پروری کی بنیاد پر نوکریاں دیں جس کے نتیجے میں وہ لوگ جن کے پاس یہ چیزیں نہیں تھیں، انہوں نے ملک کو چھوڑ دیا۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ لائق اور اہل لوگ دوسرے ملکوں میں خدمات دیتے ہیں اور یہاں کئی اداروں کے لیے لوگ ڈھونڈے سے نہیں ملتے جو اہل ہوں اور وہ کام بھی کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سطحی چیزیں کر کے گئے ہیں، جو مصنوعی چیزیں ہوتی تھیں وہ دکھاوے کے لیے ہوتی تھی اور مشکل چیزیں قالین کے نیچے ڈال دیتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو ہمیں یہ تلخ فیصلے کرنے پڑے، جس کی ہمیں قیمت بھی اٹھانی پڑ رہی ہے لیکن ہم اس وقت حکومت کو بچانے کی کوشش نہیں کررہے ہیں بلکہ ملک کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے جو بھی اقدامات ہیں وہ اسی پر لگے ہیں ملک کو اس اشرافیہ سے چھٹکارا دلایا جائے، جو حکمران طبقے نے اپنی حکومت کو دوام دینے لیے بنائے تھے۔

وزیراطلاعات نے کہا کہ اپوزیشن نے ایک دوسرے کے خلاف کیسز بنائے اور ایک دوسرے کی پیٹھ پر چھرا گھونپتے رہے۔

'مریم نواز ہمیں دھمکیاں دے رہی ہیں'

انہوں نے کہا کہ مفرور ملزم کی صاحبزادی ہمیں لیکچر اور دھمکیاں دے رہی ہے، پیپلزپارٹی والے کم ازکم جمہوری بات کرتے تھے لیکن قمر زمان قائرہ کہتے ہیں جھنڈے بھی ڈنڈے بھی۔

شبلی فراز نے کہا کہ مریم نواز کہتی ہے کہ جو استعفے نہیں دیں گے ان کے گھروں کا گھیراؤ کریں گے، یہ کوئی جمہوری طریقہ کار ہے؟ ملک کی جمہوری فورسز، جو ہماری حق میں نہیں ہیں، وہ بھی بتائیں کہ اس قسم کا بیانیہ لے کر چل رہے ہیں جس میں تشدد ہے۔

مزید پڑھیں: استعفے دیے تو یہ بھول جائیں کہ ضمنی انتخابات ہوں گے، پی ڈی ایم رہنما

ان کا کہنا تھا کہ مولانا نے ابھی پوری سیاست میں کشمیر کی کیا خدمت کی، کشمیر کمیٹی کے 30 سال یا پتا نہیں کتنے عرصے تک چیئرمین بنے رہے اور کشمیر کے مسئلے کو کس طرح انہوں نے اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ آج کشمیر کا مسئلہ پھر عالمی سطح پر اجاگر ہوا ہے، او آئی سی کے 57 ممالک نے کشمیر کے مسئلے پر قرار داد لائی گئی، بھارت کو نہیں بلایا گیا جبکہ پچھلی مرتبہ بلایا گیا تھا لیکن اس مرتبہ ہماری کوششوں کی وجہ سے اس کو دعوت نہیں دی گئی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اقوام متحدہ میں ہم نے وہ قرار داد منظور کروائی اور بنیادی طور پر فلپائن نے ہماری تائید کی، ہم عالمی سطح پر ملک کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور معاشی اشاریے بھی مثبت ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ غیر منتخب لوگ ہمیں کہہ رہے ہیں کہ استعفیٰ دو اور ہماری عوام سے درخواست ہو گی کہ ان کی باتوں میں نہ آئیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف، زرداری، پیپلز پارٹی ذاتی مسائل کی وجہ سے نیب کو مانتے ہی نہیں، یہ خیال ان کو دوسال پہلے کیوں نہیں آیا جب ان کے خلاف تحقیقات شروع ہوئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ 'پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹ میں اٹھائے جانے والے ایجنڈے میں حکومتی سینیٹر حصہ نہیں بنیں گے، یہ ایوان زیریں ہے، 1974 سے اب تک کی رولنگز کو چیئرمین سینیٹ دیکھ رہے ہیں اس لیے ایسی چیز کی ہرگز حمایت نہیں کریں گے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'سابق حکومتوں نے ریاستی اداروں میں خلاف ضابطہ بھرتیاں کر کے اداروں کو بٹھا دیا جبکہ ہماری کوشش ہے کہ پی ٹی وی کو اسی عظمتوں پر لے کر جائیں گے جو ماضی میں تھی، پی ٹی وی کی قابل فخر بحالی ہوگی'۔

شبلی فراز نے کہا کہ 'پی آئی اے میں تبادلے معمول کی بات ہے تاہم کسی کو جبری طور پر نہیں نکال رہے لیکن جس کی جہاں ضرورت ہوگی اسے وہاں لے جایا جائے گا اور رضاکارانہ ریٹائرمنٹ پر انہیں طے شدہ مراعات ملیں گی'۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ استعفیٰ دینا بہت آسان ہے اور انتخابات میں حصہ لینا بہت مشکل ہے، جو الیکشن لڑتے ہیں صرف وہی جانتے ہیں کہ انتخابات لڑنا اور جیتنا کتنا مشکل ہے، اس لیے ان کے اندر اتنی مخالفت ہے اور اس معاملے پر تقسیم ہیں جو منتخب ہو کر آئے ہیں وہ مولانا فضل الرحمٰن اور مریم نواز کے کہنے پر استعفے دیں گے عملی بات نہیں ہوگی'۔

کارٹون

کارٹون : 26 مئی 2024
کارٹون : 24 مئی 2024