اندرون لاہور کے 13 علاقے 'کورونا کیسز میں اضافے' پر سیل کردیے گئے

اپ ڈیٹ 13 دسمبر 2020
پولیس کو ان علاقوں کو 2 ہفتوں کے لیے سیل کرنے کی سختی سے ہدایت کی گئی ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
پولیس کو ان علاقوں کو 2 ہفتوں کے لیے سیل کرنے کی سختی سے ہدایت کی گئی ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

لاہور: حکومتِ پنجاب نے اندرون لاہور کے 13 علاقوں کے کورونا وائرس کے انفیکشن میں اضافے کی وجہ سے وبا کا گڑھ بننے کی اطلاعات پر ان علاقوں کو 'اسمارٹ لاک ڈاؤن' نافذ کر کے سیل کردیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وہ علاقے ہیں جن کی سڑکیں اور گلیاں مینار پاکستان پر نکلتی ہیں جہاں آج (13 دسمبر کو) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) جلسے کا انعقاد کررہی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پولیس کو سختی سے ان علاقوں کو 2 ہفتوں کے لیے سیل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کیسز میں اضافہ: لاہور کے 55 مقامات پر اسمارٹ لاک ڈاؤن

پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈپارٹمنٹ پنجاب کے سیکریٹری کیپٹن (ر) محمد عثمان کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ گزشتہ 2 ہفتوں سے کووِڈ 19 کے مثبت کیسز کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو صحت عامہ کے لیے سنگین خطرہ ہے، لہٰذا بیماری کی روک تھام کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانا ضروری ہیں۔

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ حکومت نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے اجازت لینے کے بعد علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا۔

ساتھ ہی سیکریٹری نے دیگر متعلقہ حکام کو اندرونِ لاہور کے 13 علاقوں میں '25 دسمبر تک داخلے اور اخراج کو روک کر انہیں سیل کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی'۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ماسوائے چند علاقوں میں فی سوار ایک گاڑی کی محدود نقل و حرکت کے مذکورہ علاقوں میں سرکاری اور ذاتی گاڑیوں کے ذریعے آمد و رفت پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔

مزید پڑھیں: پنجاب کے 6 شہروں کے مختلف علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ

سیکریٹری صحت نے کہا کہ 'ان تمام علاقوں میں کسی سرکاری یا نجی مقام پر سماجی، مذہبی یا کسی بھی مقصد کے اجتماع پر پابندی ہوگی'۔

اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے جو علاقے سیل کیے ان میں رنگ محل، شیراں والا گیٹ، موچی گیٹ، بھاٹی گیٹ، اسلامیہ پارک کا چوہان روڈ، بادامی باغ، داتا نگر اور اقبال پارک شامل ہے۔

نوٹفکیشن میں کہا گیا کہ ان علاقوں میں تمام مارکیٹس، شاپنگ مالز، ریسٹورنٹس، دفاتر (نجی و سرکاری) بند رہیں گے اور صرف متعلقہ محکموں سے نوٹیفائیڈ سرکاری افسران کو نقل و حمل کی اجازت ہوگی۔

اس کے علاوہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ہیلتھ سروسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وہ شخص جسے طبی امداد کی ضرورت ہو اسے 2 تیمارداروں کے ہمراہ ان علاقوں میں نقل و حمل کی اجازت ہوگی جہاں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کے دوبارہ پھیلاؤ کا خطرہ، پنجاب کے 36 اضلاع میں مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ

یاد رہے کہ اس سے قبل 8 دسمبر کو بھی حکام نے وائرس کے پھیلاؤ میں اضافے پر لاہور کے داتا گنج بخش ٹاؤن، شالیمار ٹاؤن، سمن آباد، عزیز بھٹی ٹاؤن اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 55 مقامات پر 21 دسمبر تک اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرتے ہوئے ’داخلی اور خارجی راستوں کو محدود‘ کردیا تھا۔

خیال رہے کہ صوبہ پنجاب میں گزشتہ روز کورونا وائرس کے مزید 686 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 31 مریض انتقال کر گئے۔

صوبے میں وبا کے پھیلاؤ سے اب تک ایک لاکھ 27 ہزار 212 افراد اس کا شکار بن چکے ہیں جس میں ایک لاکھ 14 ہزار 910 صحتیاب ہوئے جبکہ 3 ہزار 351 مریض انتقال کر گئے۔

تبصرے (0) بند ہیں