فارن فنڈنگ کیس: اکبر ایس بابر کا اسکروٹنی کمیٹی پر عدم اعتماد کا اظہار

اپ ڈیٹ 20 جنوری 2021

ای میل

اکبر ایس بابر نے کہا کہ ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ یہ کمیٹی ناکام ہوچکی ہے — فوٹو: ڈان نیوز
اکبر ایس بابر نے کہا کہ ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ یہ کمیٹی ناکام ہوچکی ہے — فوٹو: ڈان نیوز

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں درخواست گزار اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا۔

اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہا کہ 'آج اسکروٹنی کمیٹی کے اجلاس میں جب ہم نے اپنے اعتراضات اور تشویش سامنے رکھی ہم نے مارچ 2020 میں اسی کمیٹی کو تحریری طور پر کہا تھا کہ آپ صاف و شفاف اسکروٹنی نہیں کر رہے اور ہم سے توقع کر رہے ہیں کہ پی ٹی آئی نے جو جعلی دستاویزات جمع کروائی ہیں ہم ان کی تصدیق کریں، تو ہم اس جعلی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 13 اگست میں جب کمیٹی نے ہمارے سامنے ایک جعلی دستاویز رکھی جس کا ہم نے جائزہ لیا تو ہم نے سوال اٹھایا کہ اسٹیٹ بینک کے ذریعے جو 23 بینک اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں وہ آپ ہمارے سامنے کیوں نہیں رکھتے، اس سے انکار کیا گیا جس کے بعد ہم نے دوبارہ تفصیلی طور پر اپنے اعتراضات ریکارڈ کرائے۔

اکبر ایس بابر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہمارے اعتراضات کی تصدیق 27 اگست 2020 کو اس وقت کردی جب اس نے تحریری طور پر کمیٹی کی رپورٹ کو ناکارہ قرار دیا اور کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی نے 28 ماہ میں ثبوتوں کی تصدیق تک نہیں کی اور ہمارے احکامات پر عمل نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ڈی ایم کا الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج، فارن فنڈنگ کیس نمٹانے کا مطالبہ

انہوں نے کہا کہ جب الیکشن کمیشن نے کمیٹی کو دوبارہ ذمہ داری سونپی ہم احتجاج کے باوجود اس کا حصہ بنے، تاکہ معاملہ مزید طول نہ پکڑے اور کوئی حتمی فیصلہ ہو، لیکن حتمی فیصلے اور جانچ پڑتال کی بنیادی شرط یہ ہے کہ جو دستاویزات سامنے رکھی جائیں وہ تصدیق شدہ ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسکروٹنی کمیٹی نے پچھلی سماعت میں لکھ کر کہا کہ ہم امریکا کی حد تک دستاویزات کی تصدیق یا تردید کا فیصلہ دیں گے، لیکن آج کمیٹی نے دوبارہ کہا کہ یہ فیصلہ وہ نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کرے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان جعلی دستاویزات پر مزید کارروائی کریں گے اور فیصلہ الیکشن کمیشن پر چھوڑ دیں گے۔

پی ٹی آئی کے بانی رکن نے کہا کہ اس لیے ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ یہ کمیٹی ناکام ہوچکی ہے اور الیکشن کمیشن تمام ریکارڈ منگوا کر سماعت کرے اور حقائق سامنے لاکر فیصلہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کمیٹی پر صرف تحفظات کا اظہار کیا ہے جس کا الیکشن کمیشن خود اظہار کر چکا ہے، ہمارے آج عدم اعتماد کے اظہار کے بعد کمیٹی نے سماعت سے عملاً واک آؤٹ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی کمیٹی نے خود اعتراف کیا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے زیر دباؤ ہے، اس نے آرڈر شیٹ میں کہا ہے کہ وہ اکاؤنٹس کی دستاویزات اس لیے ہمارے حوالے نہیں کر رہی کیونکہ اس پر پی ٹی آئی کو اعتراض ہے، جس پارٹی کی فنڈنگ کی اسکروٹنی ہونی ہے اگر وہ اتنی اثر انداز ہورہی ہے تو تحقیقات شفاف کیسے ہوسکتی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام ریکارڈ الیکشن کمیشن کے حوالے کیا جائے اور وہ روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے جس میں عوام، سول سوسائٹی اور میڈیا کے نمائندے موجود ہوں، تمام عمل کو کیوں خفیہ رکھا جارہا ہے، یہ عوامی مسئلہ ہے کہ ایک سیاسی جماعت جو اب حکمراں جماعت بھی ہے، اس کی اتنے بڑے پیمانے پر غیر قانونی فنڈنگ ہوئی ہے، بینک اکاؤنٹس اور فارن ایجنٹس کی تفصیلات کو چھپایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: عمران خان کو اسرائیل اور بھارت سے پیسہ آیا، مریم نواز

پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور موجودہ وزیراعظم عمران خان سے پارٹی میں مبینہ اندرونی کرپشن اور سیاسی فنڈنگ سے متعلق قوانین کے غلط استعمال پر اختلاف کے بعد پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اور درخواست گزار اکبر ایس بابر نے 2014 میں ای سی پی میں غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق کیس دائر کیا تھا۔

کیس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے 'ہنڈی' کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔

ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔

بعد ازاں ایک سال سے زائد عرصے تک اس کیس کی سماعت ای سی پی میں تاخیر کا شکار رہی تھی کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اکتوبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال سے ای سی پی کو روکا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس پر ایک نظر

جس کے بعد فروری 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار پر جائزہ لینے کے لیے کیس کو دوبارہ ای سی پی کو بھیج دیا تھا اور اسی برس ستمبر میں ایک حکم جاری کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو غیر ملکی فنڈنگ کے ذرائع الیکشن کمیشن کو فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔

بعدازاں 12 مارچ 2018 کو الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے غیر ملکی فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔

3 اپریل 2018 کو الیکشن کمیشن کی نئی اسکروٹنی کمیٹی عمل میں آئی جسے ایک ماہ میں تمام امور نمٹانے کی ہدایت کی گئی تھی تاہم جلد ہی اس کے مینڈیٹ میں غیر معینہ مدت تک کے لیے توسیع کردی گئی تھی اور کمیٹی اب تک فارن فنڈنگ کی تحقیقات کررہی ہے۔