نیب کا نجی لیب سے کورونا ویکسین خریدنے کا ریکارڈ طلب کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 23 فروری 2021

ای میل

20 ڈالر میں ویکسین خریدنے اور اسے 20 ہزار (125 ڈالر) میں فروخت کرنے کے منصوبے کے بارے میں لیبارٹری سے ریکارڈ طلب کیا گیا، رپورٹ - فائل فوٹو:رائٹرز
20 ڈالر میں ویکسین خریدنے اور اسے 20 ہزار (125 ڈالر) میں فروخت کرنے کے منصوبے کے بارے میں لیبارٹری سے ریکارڈ طلب کیا گیا، رپورٹ - فائل فوٹو:رائٹرز

لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) نے روس سے کورونا ویکسین کی خریداری اور 100 ڈالر سے زائد (فی کس) اس کی قیمت وصول کرنے کے منصوبے کے بارے میں ایک مشہور نجی لیبارٹری سے ریکارڈ طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیب لاہور نے اس شکایت کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے کہ نجی لیبارٹری روس سے خریداری کے بعد کووڈ 19 ویکسین کے لیے ہر شخص سے 100 ڈالر سے زیادہ منافع وصول کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ایک سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ 'نیب نے روس سے 20 ڈالر (دو خوراکوں) پر کورونا ویکسین کی خریداری اور اس کے فی شخص 125 ڈالر وصول کرنے کے مجوزہ منصوبے کے بارے میں لیبارٹری سے ریکارڈ طلب کرلیا ہے'۔

مزید پڑھیں: 'ویکسین کے سائیڈ ایفیکٹس ہوتے ہیں، ہر شخص اپنی ذمہ داری پر لگوائے گا'

ان کا کہنا تھا کہ 'روسی سوویرین ویلتھ فنڈ جس نے سپٹنک کووڈ ویکسین تیار کرنے میں سرمایہ کاری کی ہے، نے کہا ہے کہ وہ اسے فی خوراک 10 ڈالر (دو خوراکوں کے لیے 20 ڈالر) میں فروخت کریں گے جبکہ لیبارٹری (یہاں) دو خوراکوں پر 20 ہزار روپے (125 ڈالر) میں فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور حکومت کو ضرورت سے زیادہ منافع کمانے یا عوام کو پہنچنے والے نقصان کی جانچ نیب آرڈیننس کے سیکشن 33 سی اور 27 کے مطابق کی جانی چاہیے'۔

انہوں نے کہا کہ بیورو یہ دیکھے گا کہ کس کو کتنا فائدہ ملے گا اور کتنے لاکھ خوراکیں خریدی جائیں گی اور فروخت ہوں گی۔

حکومت نے نجی کمپنیوں کو کورونا وائرس کی ویکسینز درآمد کرنے کی اجازت دی ہے اور مبینہ طور پر اس طرح کی درآمد کو پرائز کیپس سے مستثنیٰ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا کورونا ویکسین کے استعمال کے بعد بھی فیس ماسک پہننا ضروری ہوگا؟

پاکستان ابھی تک کسی بھی کمپنی سے ویکسین کی بڑی مقدار محفوظ نہیں کرسکا ہے اور رواں ماہ اس نے چین کی جانب سے عطیہ کردہ سائنوفارم ویکسین کی 5 لاکھ خوراکوں کے ساتھ ایک ویکسینیشن مہم کا آغاز کیا تھا۔

ان ویکسین کو پہلے ترجیحی بنیادوں پر فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو دیا جارہا ہے۔

نجی لیبارٹری کے ایک عہدیدار سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ڈان کو بتایا کہ وہ اس معاملے سے آگاہ نہیں ہیں۔