کراچی: زہریلی چیز کھانے سے 3 بچوں کی ہلاکت، مقدمے میں والدہ نامزد

11 اپريل 2021
— فائل فوٹو: رائٹرز
— فائل فوٹو: رائٹرز

کراچی پولیس نے گلستان جوہر میں 3 بچوں کی ہلاکت کے مقدمے میں والد کی شکایت پر متوفی بچوں کی والدہ کو نامزد کردیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز 3 بچے (دو بھائی اور ایک بہن) کسی زہریلی چیز کے کھانے سے ہلاک ہوگئے تھے اور پولیس نے اس وقت واقعے کا نوٹس لیا جب متوفی کے والد ان کی لاشیں لینے کے لیے لاہور سے کراچی پہنچے تاکہ ان کی لاہور میں تدفین کی جاسکے۔

مزید پڑھیں: مضر صحت کھانے سے بچوں کی ہلاکت: متاثرہ والدین نے ملزمان کو معاف کردیا

شاہراہ فیصل تھانے کی پولیس کے مطابق زہریلی چیز کھانے کے باعث طبیعت بگڑنے پر 10 سالہ عیشال، ان کے دو بھائیوں 8 سالہ ذیدان اور 6 سالہ ارشان کو گلشن اقبال میں قائم ایک نجی ہسپتال میں لایا گیا تھا جہاں ڈاکٹرز نے انہیں مردہ قرار دیا تھا۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ بظاہر تینوں بچے گلستان جوہر کے بلاک 19 میں قائم ایک فلیٹ میں ہونے والی کیڑے مار دوا کے اسپرے کے باعث ہلاک ہوئے۔

بعد ازاں متوفی کے والد محمد عمران نے بچوں کے قتل کا مقدمہ والدہ محمد نورین کے خلاف درج کروادیا۔

پولیس کے سینئر افسر کے مطابق دونوں کے درمیان کافی عرصے سے چپقلش جاری تھی۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق شکایت گزار کا کہنا تھا کہ وہ لاہور کی ایک نجی فرم میں کام کرتے ہیں اور انہوں نے نورین سے 2010 میں شادی کی تھی اور ان کے 3 بچے ہیں۔

شکایت گزار کا کہنا تھا کہ میاں، بیوی کے درمیان ہونے والی باہمی مشاورت کے بعد ان کی اہلیہ نے بچوں کے ساتھ کراچی پہنچ کر اپنے والدین کے ساتھ رہائش اختیار کرلی تھی۔

درخواست گزار نے مزید بتایا کہ وہ بچوں کی پرورش اور دیگر اخراجات کی مد میں ماہانہ رقم بھجواتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ 4 روز قبل ان کی اہلیہ سے فون پر بات ہوئی تو ان کی بیوی نے ماہانہ خرچ پر ان سے سخت جملے کہے اور سنگین نتائج سے خبردار کیا۔

متوفی بچوں کے والد کا کہنا تھا کہ ہفتے کے روز دوپہر تین بجے کے قریب اہلیہ کے بھائی شعیب نے ان کے بھائی جاوید کو تینوں بچوں کی ہلاکت سے متعلق بتایا، ان کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی نے فون پر انہیں شام 6 بجے واقعے سے متعلق آگاہ کیا اور بتایا کہ ان کی اہلیہ نورین بچوں کی تدفین کرنا چاہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: مکان میں آتشزدگی، ماں اور 7 بچے جاں بحق

شکایت گزار کا کہنا تھا کہ جس پر انہوں نے اپنی اہلیہ سے فون پر بات کی اور فلائٹ کے ذریعے کچھ گھنٹے میں کراچی پہنچ گئے اور سہراب گوٹھ کے عیدی سرد خانے میں رات 12 بجے اپنے بچوں کی لاشیں دیکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر انہیں بتایا گیا کہ بچوں نے جمعہ کی رات میں آلو کے پراٹھے کھائے تھے جس کے بعد ہفتے کو ان کی حالت بگڑ گئی اور انہیں ہسپتال لے جایا گیا۔

شکایت گزار کا کہنا تھا کہ کیوں کہ 4 روز قبل ہی ان کی اہلیہ نے انہیں سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی اس لیے انہیں شک تھا کہ اس نے بچوں کو کھانے میں کوئی زہریلی چیز ملا کر دی ہے جس کی وجہ سے بچے ہلاک ہوگئے۔

بعد ازاں متوفی بچوں کے والد نے پولیس سے رجوع کیا اور بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ ان کے بچوں کو زہریلی چیز کھلائی گئی ہے اور ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ بچوں کے قتل میں ان کی اہلیہ ملوث ہیں۔

تاہم شکایت گزار نے پولیس کو بتایا کہ وہ بچوں کا پوسٹ مارٹم نہیں کروانا چاہتے اور وہ ان کی لاشیں لاہور میں لے جا رہے ہیں جہاں ان کی تدفین کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں