• KHI: Fajr 4:31am Sunrise 5:56am
  • LHR: Fajr 3:40am Sunrise 5:14am
  • ISB: Fajr 3:37am Sunrise 5:14am
  • KHI: Fajr 4:31am Sunrise 5:56am
  • LHR: Fajr 3:40am Sunrise 5:14am
  • ISB: Fajr 3:37am Sunrise 5:14am

’گیٹ نمبر 4نہیں کھٹکھٹاؤں گا، وزیراعظم کو نکالنے کیلئے جمہوری طریقہ اپناؤں گا‘

شائع March 23, 2022
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ملاکنڈ میں جلسہ عام سے خطاب کررہے ہیں— فوٹو بشکریہ ٹوئٹر
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ملاکنڈ میں جلسہ عام سے خطاب کررہے ہیں— فوٹو بشکریہ ٹوئٹر

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم امپائر کی انگلی کا علاج انگوٹھے سے کریں گے، ہم ووٹ اور جمہوریت سے کریں گے، میں گیٹ نمبر 4 نہیں کھٹکھٹاؤں گا، اگر ہمیں وزیراعظم کو اسے نکالنا ہی ہے تو میں جمہوری طریقہ اپناؤں گا، میں احتجاج کروں گا اور عوام کی طاقت سے ہم اس کٹھ پتلی کو بھگائیں گے۔

ملاکنڈ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم تین نسلوں سے یہاں کے عوام کی خدمت کررہے ہیں، اگر دراگئی میں گھی مل اور بتاخیل میں وُل اسپننگ مل موجود ہے تو اس کی بنیاد قائد عوام نے رکھی تھی۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن کا ڈٹ کر مقابلہ کروں گا، کسی صورت استعفیٰ نہیں دوں گا، وزیر اعظم

انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے یہاں گھر گھر گیس پہنچائی، وہ یہاں گھر گھر تک بجلی پہنچانا چاہتی تھیں، قائد عوام نے روزگار دلوایا تو شہید بی بی نے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی رقوزگار کے مواقع فراہم کیے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کو این ایف سی سمیت دیگر وسائل صدر آصف زرداری نے دلوائے، آپ کو 18ویں ترمیم دی، آئینی حقوق بھی دیے اور یہاں کے عوام کو دہشت گردی سے آزادی دلوائی تھی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہم نے ناصرف دہشت گردوں کو شکست دی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ 25لاکھ آئی ڈی پیز کا خیال بھی رکھا، تین مہینے میں صدر زرداری نے ان آئی ڈی پیز کو واپس گھر بھیجا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم وقت کے ظالم اور وقت کے فرعون کا مقابلہ کررہے ہیں، آج کے یزید کا مقابلہ کررہے ہیں، ہم اس کٹھ پتلی کا مقابلہ پہلے دن سے کررہے ہیں، یہ جیالے اس کٹھ پتلی کا مقابلہ کررہے ہیں اور پہلے دن سے میں یہی کہہ رہا ہوں کہ ہم اس غیرجموہری شخص کا مقابلہ جمہوریت سے کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک پیش ہونے کے 14 روز میں اجلاس نہ بلانا آئین شکنی ہے، عدالت جائیں گے، بلاول بھٹو

ان کا کہنا تھا کہ امپائر کی انگلی کا علاج ہم انگوٹھے سے کریں گے، ہم ووٹ سے کریں گے، ہم جمہوریت سے کریں گے، اگر ہمیں اسے نکالنا ہی ہے تو میں جمہوری طریقہ اپناؤں گا، میں احتجاج کروں گا، اس کے ہر مخالف سے گلے ملوں گا لیکن کوئی غیرجمہوری ہتھیار استعمال نہیں کر سکتا، میں کسی ادارے پر حملہ نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ میں کالا کوٹ پہن کر عدالت نہیں جاؤں گا، میں گیٹ نمبر 4 پر نہیں کھٹکھٹاؤں گا، قائد عوام نے ہمیں سکھایا ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں تو اسی عوام کی طاقت سے ہم کٹھ پتلی کو بھگائیں گے۔

بلاول نے کہا کہ میں آج پاکستان کے عوام اور پیپلز پارٹی کے جیالوں کو مبارکباد دیتا ہوں کہ آپ کامیاب ہو چکے ہیں، عمران اپنی اکثریت کھو چکے ہیں، عمران کی حکومت ختم ہو چکی ہے، عمران سابق وزیراعظم بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 8مارچ کو ہم نے تحریک عدم اعتماد جمع کرائی، ہم نے ریکویزیشن جمع کرائی تو آئین کہتا ہے کہ 14 دن کے اندر اندر سیشن بلانا پڑتا ہے لیکن بزدل پہلے پارلیمنٹ کے لاجز پر حملہ کرتا ہے، پھر سندھ ہاؤس پر حملہ کرتا ہے اور سیشن سے بھاگنے کے لیے یہ بزدل اب آئین توڑ بیٹھا ہے اور اسپیکر کو آرٹیکل6 میں پھنسا رہا ہے۔

وزیراعظم پر اپوزیشن کی تنقید کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف جو زبان استعمال کی جاتی ہے، وہ وزیراعظم کے منہ سے تو اچھی نہیں لگتی، اگر نظریاتی اختلاف ہے تو اس پر آپ بات کر سکتے ہیں لیکن اگر آپ صرف گالی دے سکتے ہیں تو یہ ایک ہارے ہوئے شخص کی نشانی ہے۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پیر تک پیش نہ کرنے پر دھرنے، او آئی سی اجلاس میں رکاوٹ ڈالنے کی دھمکی

انہوں نے کہا کہ جس زبان سے آپ مدینہ کی ریاست کا درس دیتے ہیں اسی زبان سے آپ گالی دیتے ہیں، مدینہ کی ریاست عدل و انصاف پر مبنی تھی جبکہ آپ کی ریاست گالی پر مبنی ہے، آپ کی ریاست جادو پر چل رہی ہے، یہ عوام دشمن ریاست ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ میں اس سے پوچھتا ہوں کہ یہ ملاکنڈ آ کر کیسے کہہ سکتا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی کامیاب ہے، وزیراعظم پاکستان ہوتے ہوئے آپ نے یہ بیان کیسے دیا، انہوں نے یہ بیان اس لیے دیا کیونکہ ان کی خارجہ اور سیاسی پالیسی بھارت کی خارجہ اور سیاسی پالیسی سے ملتی جلتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس شخص نے سی پیک کو سبوتاژ کیا، اپنے وزرا سے سی پیک کے خلاف بیان دیا، اسے کرپٹ منصوبہ قرار دے دیا گیا اور آج تک آہستہ آہستہ چل رہا ہے، اگر یہ بھارت کا سازش ہے تو عمران کا بھی سازش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے آئی ایم ایف کے سامنے جھک کر پاکستان کی معیشت کو کمزور کیا، پاکستان میں مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے سمندر میں عوام کو ڈبو دیا، یہ عمران کی سازش ہے جو سب سے خطرناک سازش ہے جس کی وجہ سے ہر پاکستانی پریشان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: او آئی سی اجلاس: ذمہ داروں کا ایک فون آیا اور اپوزیشن لیٹ گئی، شیخ رشید

بلاول نے کہا کہ میں پاکستان کے عوام کو امید دلانا چاہتا ہوں کہ ہم جلد اس عذاب سے نکلنے والے ہیں اور ہم یہ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ آپ کے لیے کررہے ہیں، میں ابھی ملک کو بچانے اور اس نظام کا خاتمہ کرنے کے لیے آیا ہوں، میں دوبارہ آپ کے پاس آؤں گا اور اس الیکشن میں اپنے لیے ووٹ مانگوں گا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنی شکست دیکھتے ہوئے اب اداروں پر حملے کی کوشش کی ہے، یہ ہر ادارے کو اپنی ٹائیگر فورس بنانا چاہ رہا ہے لیکن ہم اس کو نہیں بنانے دیں گے، یہ چاہتا ہے کہ میڈیا ہو تو میری اپنی ٹائیگر فورس جیسا ہو ، نیب ہو تو ٹائیگر فورس جیسا ہو، عدلیہ ہو مگر میری ٹائیگر فورس جیسی ہو، یہ چاہتے ہیں کہ ہر ادارہ ٹائیگر فورس بن کر ان کا کام کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران کو معلوم ہے کہ صاف و شفاف الیکشن میں اس کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا اور اب یہ چاہتے ہیں کہ اگر اس کو نہیں کھیلنے دیں گے تو یہ کسی اور کو بھی کھیلنے نہیں دے گا، یہ ملک کسی ایک فرد یا جماعت کا نہیں پاکستان کے عوام کا ہے، پاکستان کے عوام صاف اور شفاف الیکشن چاہتے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں اپنا نمائندہ منتخب کریں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ یہ آج تک نہیں بتا سکے کہ یہ کس کو جانور کہہ رہے تھے، اپکستان کے عوام اس بات کا جواب چاہتے ہیں، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا وزیراعظم جانور ہے، یہ جنگل کا قانون چاہتا ہے لیکن ہم آئین اور جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: نیوٹرل ہونا آئین کی پاسداری ہے، آپ گیم ہار چکے ہیں، مریم نواز

ان کا کہنا تھا کہ آنے والے انتخابات صاف و شفاف ہوں گے اور ہم اس میں دھاندلی کی اجازت نہیں دیں گے، یہ عدم اعتماد ہماری جمہوریت کا امتحان ہے، غیرجانبداری کے لیے امتحان ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا آئینی عمل جمہوری طریقے سے اس امتحان کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہماری عدم اعتماد جمہوری طریقے سے مکمل کی جائے مگر ہم جیسے عام انتخابات میں دھاندلی برداشت نہیں کر سکتے بالکل اسی طرح عدم اعتماد میں کوئی دھاندلی برداشت نہیں کریں گے۔

تبصرے (1) بند ہیں

جنید طاہر Mar 23, 2022 08:17pm
بھائی جان ! گیٹ کے ان کھڑے ہو گے دروازہ کھٹکھٹایا نہیں جاتا

کارٹون

کارٹون : 23 جولائی 2024
کارٹون : 22 جولائی 2024