کراچی : نظارت میں آتشزدگی، 440 موٹرسائیکلیں، درجنوں گاڑیاں نذرِ آتش، وزیر اعلیٰ کا تحقیقات کا حکم

اپ ڈیٹ 13 جون 2022
فائر بریگیڈ نے جائے وقوع پر بروقت پہنچ کر آگ پر قابو پالیا — فوٹو: ڈان نیوز
فائر بریگیڈ نے جائے وقوع پر بروقت پہنچ کر آگ پر قابو پالیا — فوٹو: ڈان نیوز

کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں قائم نظارت میں آگ لگنے سے 4 سو 40 موٹرسائیکلیں، کاریں، ایک بس، رکشے جل کر خاکستر ہوگئیں۔

ڈپٹی کمشنر ایسٹ راجا طارق حسین کے مطابق نظارت کے اندر جھاڑیوں میں 9 بج کر 50 منٹ پر آگ بھڑک اٹھی، فائر بریگیڈ، پولیس، مختیار کار اور اسسٹنٹ کمشنر 15 منٹ کے اندر پہنچ گیے۔

وزیر اعلیٰ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق متعدد موٹرسائیکل اور گاڑیوں کا نقصان پہنچا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور کولنگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

ترجمان وزیراعلیٰ ہاؤس نے ڈپٹی کمشنر ایسٹ کا حوالہ دیا کہ کولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد گاڑیوں کے نقصان کی رپورٹ پیش کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: کوآپریٹیو مارکیٹ میں آتشزدگی کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل

سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ڈپٹی کمشنر ایسٹ کی جانب سے گاڑیوں کے نقصان کے تخمینے کے حوالے سے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 4 سو موٹرسائیکلیں، 40 کاریں، ایک بس اور دو رکشے جل کر خاکستر ہوئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کا تحقیقات کا حکم

سندھ کے چیف سیکریٹری ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے ڈان کو بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ہدایات پر آگ کی وجہ اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے جاری نوٹی فیکیشن کے مطابق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے 20 گریڈ کے افسر محمد حنیف چنا کو گلشن اقبال میں نظارت میں آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کے تفتیشی افسر مقرر کیا گیا ہے۔

نوٹی فیکیشن میں بتایا گیا ہے کہ تحقیقات کے 'ٹرمز آف ریفرنسز' میں آگ لگنے کی وجہ کا پتا لگانا، اداروں یا انفرادی لوگوں کی لاپرواہی یا عوامی املاک کو جان بوجھ کرآگ لگانے کے لیے ذمہ داروں کا تعین کرنا شامل ہے۔

تفتیشی افسر کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہیں کہ وہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچنے کے لیے سفارشات بھی پیش کریں۔

تفتیشی افسر کو 7 دن میں رپورٹ جمع کروانی ہے۔

مزید پڑھیں: تین روز کے وقفے سے کراچی کی ایک اور بڑی مارکیٹ میں آتشزدگی

کے ایم سی فائر بریگیڈ کے چیف فائر آفسر مبین احمد نے ڈان کو بتایا کہ 6 فائر ٹینڈرز نے تین گھنٹے کے اندر آگ پر قابو پایا۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ گاڑیاں لوگوں کی امانت تھیں جو اسکریپ یارڈ میں نہیں نظارت میں رکھی گئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 3، 4 مہینے کے وقفے کے بعد یہاں پر اکثر آگ لگ جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی باؤنڈی وال نہیں ہے، یہاں پر سیکیورٹی کے انتظامات نہیں ہیں، کروڑوں روپے کی گاڑیوں کے پاس کوئی گارڈ بھی تعنیات نہیں ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہاں پر فائر سیفٹی کا نظام بھی موجود نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گاڑیوں بے ترتیبی سے رکھا جاتا ہے، جیسے یہ 'کباڑ گاہ' اور محض 'اسکریپ' کے لیے ہوں جبکہ یہاں پر جھاڑیاں بھی ہیں۔

پولیس نے ابتدائی تحقیقات میں تخریب کاری کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔

ایس ایس پی ایسٹ سید عبدالرحیم شیرازی نے بتایا کہ فائر مین اور عینی شاہدین کے مطابق ہائی ٹینشن تار سے نکلنے والی چنگاری کے سبب آگ بھڑک اٹھی، تاہم فائرمین کی طرف سے فائنل رپورٹ کا انتظار ہے۔

رہائشیوں کا نظارت کو ہٹانے کا مطالبہ

متعدد رہائشیوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے نظارت کو ختم یا پھر ہائی وے پر رہائشی علاقوں سے دور منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں کسی حادثے سے بچا جاسکے۔

رہائشی عرفان امین نے میڈیا کو بتایا کہ وہ یہاں پر پچھلے 8 سالوں سے رہائش پذیر ہیں، اگر آگ پر فوری قابو نہیں پایا جاتا تو یہ رہائشی عمارتوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں آتشزدگی کے واقعات کی روک تھام کیسے ہو؟

انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ گاڑیوں کو ہٹا کر جھاڑیوں کو کاٹا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے 9 بجے کے قریب دھماکے کی آواز سنی اور دیکھا کہ گاڑیوں میں آگ لگ گئی ہے۔

رہائشیوں نے بتایا کہ انہوں نے کے الیکٹرک کو بتایا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم نے متعلقہ حکام کو آگ کے واقعات سے بچنے کے لیے جھاڑیاں ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔

ایک خاتون رہائشی نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکے کی آواز سے ان کی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ایک ٹینکر میں آگ لگی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پچھلے سات سالوں سے متعدد بار گاڑیوں میں آگ بھڑکتے ہوئے دیکھا ہے کہ آج کی آتشتزدگی سب سے زیادہ شدید تھی۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو کہا کہ خدا کے واسطے رہائشی علاقے سے نظارت کو ختم کریں۔

مزید پڑھیں: کراچی: کوآپریٹیو مارکیٹ میں آتشزدگی کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل

خاتون نے حکومت سندھ سے پوچھا کہ کیا انسانی زندگی زیادہ اہم ہے یا یہ زنگ آلود گاڑیاں؟

ایک اور رہائشی نے حکومت پر زور دیا کہ گاڑیوں کے قبرستان کو ختم کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں پر 24 فلیٹس میں لوگ رہ رہے ہیں جن کی زندگیوں کو مسلسل خطرات ہیں کیونکہ گاڑیوں میں گیس سلنڈر اور پیٹرول ہونے کے سبب کچھ مہینے بعد آگ بھڑک اٹھتی ہے۔

فائر بریگیڈ کے حکام نے میڈیا کو بتایا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے ڈیڑھ گھنٹہ گزرنے کے بعد پانی کے دو ٹینکر بھیجے۔

تاہم انہوں نے چھ فائر اسٹیشنز سے فائر ٹینڈرز اور ناظم آباد سے ایک 'واٹر باؤزر' منگوایا تھا جس کی وجہ سے آگ پر کم سے کم وقت میں قابو پا لیا گیا۔

فائر مین نے بتایا کہ پانی کا ہائیڈرنٹ قریب واقع ہے، آگ پر فوری طور پر قابو پا کر اسے رہائشی علاقے میں پھیلنے سے روک لیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: کورنگی کی فیکٹری میں آتشزدگی، 16 افراد جاں بحق

واضح رہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں کراچی میں آتشزدگی کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں، رواں ماہ کے آغاز میں کراچی میں نجی سپر اسٹور میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص جاں بحق ہو گیا تھا۔

جیل چورنگی پر واقع نجی سپر اسٹور کے تہہ خانے میں غیر قانونی طور پر بنائے گئے گودام میں بھڑکنے والی اس آگ پر کئی روز گزرنے کے بعد بالآخر قابو پالیا گیا تھا۔

اس سے قبل کراچی کے علاقے پاک کالونی کے قریب لاشاری محلے میں فوم کے گودام میں خوفناک آتشزدگی کے دوران بھاری مالیت کا سامان جل کر خاکستر ہوگیا تھا۔

فوم بنانے والی فیکٹری میں لگنے والی آگ پر ایک درجن سے زائد فائر انجنز نے کئی گھنٹوں کی مسلسل کوششوں کے بعد قابو پایا۔

قبل ازیں رواں سال کے آغاز میں صبا سینما کے قریب نیو کراچی انڈسٹریل ایریا میں ایک تولیہ فیکٹری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

تبصرے (1) بند ہیں

Bilal Iqbal Jun 12, 2022 06:49pm
That may be to eliminate some old records