نیب ترامیم کیس: معیشت تباہی کے دہانے پر ہے، چیف جسٹس

اپ ڈیٹ 05 اگست 2022
<p>چیف جسٹس نے کہا کہ کیس کا فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کریں گے— فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ</p>

چیف جسٹس نے کہا کہ کیس کا فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کریں گے— فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نیب ترامیم سے متعلق کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ اچھی طرز حکمرانی اور احتساب بنیادی حقوق میں شامل ہیں، ہماری معیشت اس وقت تباہی کے دہانے پر ہے، عدالت عظمیٰ نے مفاد عامہ کو بھی دیکھنا ہے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے نیب ترامیم کےخلاف سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ نیب قوانین میں کیا گزشتہ روز کوئی مزید ترمیم کی گئی ہے جس پر درخواست گزار کے وکیل خواجہ حارث نے بتایا کہ میری اطلاعات کے مطابق مزید ترامیم کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اداروں کی پشت پر کھڑے تھے، کسی ادارے کے کام میں مداخلت نہیں کی، چیف جسٹس

اس پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ خواجہ حارث ان ترامیم سے متعلق مزید تفصیلات عدالت میں جمع کرائیں، شاید پہلے 50 کروڑ والی بات نہیں تھی لیکن اب شامل کی جاچکی ہے؟ کیا یہ ترامیم جو کی گئی ہیں وہ صدر مملکت کے پاس منظوری کے لیے بھیجی گئی ہیں؟

چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس کی سماعت میں آپ کو ہم مزید وقت دیں گے، دوسری طرف سے بھی عدالت کو بہتر معاونت ملے گی، عدالت میں تفصیلی تحریری معروضات جمع کرائیں۔

وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ نیب قانون میں کل ہونے والی ترامیم بھی چیلنج کریں گے، یہ ترامیم آئین کے اہم خدوخال پر قبضے کے مترادف ہیں، موجودہ ترامیم آئینی مینڈیٹ کی خلاف ورزی ہیں۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا نیب ترامیم سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اس معاملے میں اسلامی نکتہ نظر بھی دیکھنا ہوگا، اس معاملے پر نیب پراسیکیوٹر جنرل دلائل دیں تو کیا مناسب نہیں ہوگا۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت آئینی ترمیم کو بنیادی اصولوں سے متصادم ہونے پر کالعدم کر سکتی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ آزاد عدلیہ آئین کے بنیادی ڈھانچے میں شامل ہے، نیب ترامیم سے عدلیہ کا کونسا اختیار کم کیا گیا، یہاں مقدمہ قانون میں متعارف ترامیم کا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ کیا احتساب پارلیمانی جمہوریت کا حصہ ہے، آپ کا مؤقف ہے کہ نیب ترامیم سے احتساب کے اختیارات کو کم کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سابق وزیر اعظم عمران خان نے نیب قانون میں ترامیم سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس احتساب کے لیے ضروری ہے، چھوٹی چھوٹی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں لوگ ایک دو پلاٹوں کے کیس میں گرفتار ہوئے، پہلے ہر مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جاتا تھا، سپریم کورٹ نے فیصلہ دے کر انسداد دہشت گردی عدالت سے بوجھ کم کیا۔

دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ کوئی منصوبہ ناکام ہونے پر مجاز افسران گرفتار ہوجاتے تھے، اسی طرح سے گرفتاریاں ہوتی رہیں تو کونسا افسر ملک کے لیے کوئی فیصلہ کرے گا، نیب ترامیم کے بعد فیصلہ سازی پر گرفتاری نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہا کہ نیب ترامیم سے کوئی جرم بھی ختم نہیں ہوا، ترامیم کسی آئینی شق سے متاثر نظر نہیں آرہیں، آپ کے مطابق نیب ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچے کے ایک حصے یعنی احتساب کے خلاف ہیں، آئین کا بنیادی ڈھانچہ ہونے کے مؤقف سے متفق نہیں ہوں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اچھا طرز حکمرانی اور احتساب بنیادی حقوق میں شامل ہیں، انتخابات خود احتساب کا ایک ذریعہ ہیں، انتخابات ایک سیاسی احتساب ہوتا ہے جہاں ووٹر اپنے نمائندوں کا احتساب کرتا ہے، کیس کا فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کریں گے۔

پارلیمنٹ عوام کی منشا کی عکاس ہے، جسٹس منصور علی شاہ

انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت اس وقت تباہی کے دہانے پر ہے، عدالت عظمیٰ نے مفاد عامہ کو بھی دیکھنا ہے۔

مزید پڑھیں: سینیٹ میں الیکشن ایکٹ اور نیب ترمیمی بلز اتفاق رائے سے منظور

ایڈووکیٹ خواجہ حارث نے مؤقف اپنایا کہ نیب قانون بنا کر زیادتی ہوئی ہے، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ محض زیادتی پر قانون کو اڑایا نہیں جاسکتا، پارلیمنٹ عوام کی منشا کی عکاس ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم نہیں ہے، جس پر جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ درست بات ہے، پارلیمنٹ آئین کے تابع ہے، آپ کی دلیل ہے کہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے متصادم ترامیم نہیں ہو سکتیں، میں ذاتی طور پر اس دلیل سے متفق نہیں ہوں، یہ بھی بتائیں کہ نیب نے ملکی معیشت میں کیا حصہ ڈالا؟

وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ نیب قانون میں نئی ترامیم پر جواب نہیں دوں گا، ابھی نیب قانون میں نئی ترمیم محض مفروضہ ہے، جب تک نیب قانون میں نئی ترمیم ایکٹ آف پارلیمنٹ نہ بن جائے اسے چیلنج نہیں کیا جاسکتا، صدر مملکت نے اگر نئی ترمیم پر دستخط نہ کیے تو معاملہ مشترکہ اجلاس میں جائے گا، مشترکہ اجلاس میں نیب قانون میں حالیہ ترمیم منظور ہوتی ہے یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو پارلیمنٹ کے تیسرے چیمبر میں تبدیل کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے، نیب کے کئی کیسز لڑے ہیں، معزز ججز کو معلوم ہے کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں کیا ہوتا ہے، کیا یہ سمجھیں کہ 1999 سے پہلے ملک کرپشن میں ڈوبا ہوا تھا اور کوئی ترقی نہیں ہو رہی تھی، آج سرمایہ کار سرمایہ کاری نہیں کر رہے، معیشت مشکل میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان نیب ترامیم چیلنج کرنے سے قبل اپنے اسٹے آرڈرز ختم کروائیں، شرجیل میمن

مخدوم علی خان نے مزید کہا کہ صدر مملکت نے نیب ترامیم کی منظوری دینے کے بجائے اپنی طرف سے ترامیم کی تجویز کا خط وزیر اعظم کو لکھا، صدر مملکت کا وزیر اعظم کو لکھا گیا خفیہ خط بھی عمران خان کی درخواست کا حصہ ہے، عمران خان سے پوچھا جائے کہ پہلے ان نیب ترامیم کے حق میں کیوں تھے اور اب مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟ اگر عمران خان کی یہ سیاسی حکمت عملی ہے تو اس کے لیے عدالت کے بجائے کسی اور فورم کا استعمال کریں۔

جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ سال 2022 میں ہونے والی ترامیم کا اطلاق 1985 سے کیا گیا، ماضی سے اطلاق ہوا تو سزائیں بھی ختم ہوں گی اور جرمانے بھی واپس ہوں گے، اس طرح تو پلی بارگین کی رقم بھی واپس کرنا پڑیں گی، کیا پارلیمان اپنے یا مخصوص افراد کے فائدے کے لیے قانون سازی کر سکتی ہے؟

انہوں نے کہا کہ کیا قانون بنا کر مخصوص افراد کو ایمنسٹی دی جاسکتی ہے، یہ نہیں دیکھ رہے کہ کس نے نیب ترامیم کیں، صرف بنیادی حقوق کی خلاف ورزی دیکھیں گے۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 19 اگست تک ملتوی کردی۔

تبصرے (0) بند ہیں