بلوچستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری، کوئٹہ کا ملک کے دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع

اپ ڈیٹ 17 اگست 2022
<p>موسیٰ خیل میں بارش  کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 12 افراد جاں بحق ہو چکے —فوٹو:ڈان</p>

موسیٰ خیل میں بارش کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 12 افراد جاں بحق ہو چکے —فوٹو:ڈان

بارش کے باعث تباہ ہونے والی شہر کی مرکزی ریلوے لائن اور شاہراہ کی عدم مرمت کے باعث بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کا ملک کے دیگر علاقوں سے عملی طور پر رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پیر کے روز ٹریک زیر آب آنے کے باعث ریلوے سروس معطل ہوگئی، کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر بھی ٹریفک 4 روز سے معطل ہے جب کہ ہائی وے پر پانی بدستور بہہ رہا ہے۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے سبی کے ڈپٹی کمشنر منصور قاضی نے ان خبروں کی تردید کی کہ ٹریک کئی مقامات سے بہہ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: مختلف علاقوں میں تیز بارش، کرنٹ لگنے سے ایک شہری جاں بحق

انہوں نے واضح کیا کہ ٹریک زیر آب آگیا ہے، علاقے سے پانی نکال کر کوئٹہ اور ملک کے دیگر علاقوں کے درمیان ریلوے سروس بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

منصور قاضی کا کہنا تھا کہ سیلاب کی وجہ سے کوئٹہ-سبی-سکھر شاہراہ بند ہو گئی ہے۔

دوسری جانب، بولان کے ڈپٹی کمشنر نے بھی عوام پر زور دیا کہ وہ کوئٹہ کراچی شاہراہ پر سفر سے گریز کریں جب کہ سیلاب کی وجہ سے تباہ ہونے کے بعد ابھی تک اس سڑک کو ٹریفک کے لیے کھولا نہیں گیا ہے۔

ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افسوسناک حادثے کے دوران شادی کی تقریب میں شریک 5 افراد سیلاب میں بہہ کر جاں بحق ہوگئے۔

مزید پڑھیں: کراچی: بارش سے متاثرہ علاقوں میں شہریوں کی مشکلات برقرار، مزید 10 افراد جاں بحق

جاں بحق افراد جن میں 3 خواتین اور 2 بچے شامل تھے، وہ خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ سر کر رہے تھے کہ تیز رفتار بہتے پانی میں پھنس گئے۔

حکام نے بتایا کہ خواتین اور بچوں سمیت مزید 11 افراد کو خاندان کے دیگر افراد نے بچا لیا جو دوسری گاڑیوں میں سفر کر رہے تھے۔

بعد ازاں ریسکیو اہلکاروں نے ڈوبنے والے پانچوں شہریوں کی لاشیں پانی سے نکال لیں۔

دیگر اضلاع میں بھی حالات تاحال بہتر نہیں ہوئے جب کہ موسی خیل، ژوب، پشین، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، نصیر آباد اور لسبیلہ میں گزشتہ 2 روز سے موسلادھار بارش جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دریائے راوی میں سیلاب کا خدشہ، ساہیوال میں 20 ریلیف کیمپ قائم

حکام کے مطابق بارش کے باعث قلعہ سیف اللہ، مسلم باغ، موسیٰ خیل، کوہلو، ڈیرہ بگٹی اور دیگر علاقوں میں سیکڑوں کچے مکانات کو نقصان پہنچا۔

موسیٰ خیل میں مسلسل بارش سے برساتی ندی نالوں میں طغیانی ک باعث متعدد افراد محصور ہوگئے۔

فوج، فرنٹیئر کانسٹیبلری، لیویز اور مقامی انتظامیہ سمیت دیگر ریسکیو اداروں کی ٹیمیں ضلع کے دور دراز علاقوں میں لوگوں کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، ان دور دراز علاقوں کا رابطہ سڑکیں اور پل بہہ جانے کی وجہ سے ملک کے دیگر حصوں سے رابطہ منقطع ہیں۔

ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ 3 لاپتا افراد جو موسیٰ خیل میں ڈیم میں شگاف پڑنے سے بہہ گئے تھے، وہ زخمی حالت میں پائے گئے جنہیں طبی امداد کی فراہمی کےلیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں طوفانی بارشوں، سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 196 ہوگئی

مقامی انتظامیہ کے سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ موسیٰ خیل میں بارش کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 12 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

ضلع سبی میں لہری ریور نے نصیر آباد میں کچے مکانات کو نقصان پہنچایا جس سے سیکڑوں افراد محصور ہوگئے۔

اسی دوران، پاکستان اور ایران کے درمیان ٹرین سروس 11 روز بعد بحال کر دی گئی، کوئٹہ تفتان ریلوے لائن 6 مقامات پر بہہ جانے کے بعد سروس معطل کردی گئی تھی۔

صوبے میں رواں مون سون سیزن میں اب تک 196 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

گلگت بلتستان میں مزید تباہی

گلگت بلتستان کے کئی علاقوں میں منگل کے روز سیلاب نے تباہی مچانے کا سلسلہ جاری رکھا، درجنوں مکانات، پل اور سڑکیں بہہ گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: شدید بارشوں اور سیلاب سے تباہی کا سلسلہ جاری، مزید 6 افراد جاں بحق

ندی اور برساتی نالوں میں سیلاب سے متعدد افراد بے گھر ہو گئے جب کہ فصلیں، زرعی زمینیں، درخت، فش فارمز، آبپاشی کا نظام، ہائیڈرو الیکٹرک پاور اسٹیشن اور ٹرانسمیشن انفرااسٹرکچر تباہ ہو گیا۔

بابوسر کے راستے ملک کے دیگر علاقوں سے گلگت بلتستان جانے والی ٹریفک معطل کردی دی گئی ہے جب کہ خیبرپختونخوا میں اپر کوہستان کے علاقے اچھر نالہ کے مقام پر شاہراہ قراقرم کو بھی بند کردیا گیا ہے۔

وادی نیلم میں کلاؤڈ برسٹ ہوگئے

ابتدائی اطلاعات کے مطابق وادی نیلم کے واٹر چینل میں کلاؤڈ برسٹ سے آنے والا سیلاب کم از کم 3 مکانات اور کئی گاڑیوں کو بہا لے گیا۔

اسٹیٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے سینیئر عہدیدار سعید قریشی نے ڈان کو بتایا کہ سیلاب رتی گلی جھیل میں آیا تھا جو معروف سیاحتی مقام ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں