اسٹیٹ بینک کے زر مبادلہ کے ذخائر 2 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

اپ ڈیٹ 02 ستمبر 2022
<p>جولائی میں زرمبادلہ کے ذخائر 8ارب 38 کروڑ اور جون میں  9ارب 82 کروڑ ڈالر تھے—فائل فوٹو: رائٹرز</p>

جولائی میں زرمبادلہ کے ذخائر 8ارب 38 کروڑ اور جون میں 9ارب 82 کروڑ ڈالر تھے—فائل فوٹو: رائٹرز

توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) سے ایک ارب 16 کروڑ ڈالر ملنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے زرمبادلہ کے ذخائر 8 ارب 86 کروڑ ڈالر کے ساتھ 2 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایس بی پی کا کہنا ہے کہ اسے ای ایف ایف کے تحت ایک ارب 16 کروڑ ڈالر موصول ہو گئے ہیں جو 2 ستمر کو ختم ہونے والے ہفتے کے ایس بی پی فارن ایکسچینج ریروز میں شامل کرلیے جائیں گے۔

مرکزی بینک کا مزید کہنا ہے کہ 26 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اس کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 11 کروڑ 30 ڈالر کی مزید کمی واقع ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 5 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

30 جون کو ختم ہونے والے پورے گزشتہ مالی سال کے دوران گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ بنے رہے۔

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 61.6 فیصد کی کمی ہوئی کیونکہ اسے گزشتہ 12 ماہ کے دوران 12 ارب 38 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔

اگست 2021 میں، اسٹیٹ بینک کے ذخائر 20 ارب 73 لاکھ ڈالر تھے جو اس سال اگست میں کم ہو کر 7 ارب 70 کروڑ ڈالر رہ گئے۔

زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے نتیجے میں شرح مبادلہ انتہائی عدم استحکام کا شکار ہوئی اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں مقامی کرنسی کی قدر میں 31 فیصد کمی واقع ہوئی۔

قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عدم استحکام کے باعث 28 جولائی کو ڈالر 239روپے 5 پیسے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

مزید پڑھیں: زرِ مبادلہ کے ذخائر میں 2.9 ارب ڈالر کی کمی، روپے کی قدر تاریخ کی کم ترین سطح پر

آئی ایم ایف کی جانب ایک ارب 16 کروڑ ڈالر ملنے کے بعد یکم ستمبر کو اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 8 ارب 86 کروڑ ڈالر کے ساتھ 2 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔

جولائی میں ملکی ذر مبادلہ کے ذخائر 8ارب 38 کروڑ ڈالر تھے جب کہ جون میں یہ 9ارب 82 کروڑ ڈالر تھے۔

مالی سال 22 میں 17 ارب 40 کروڑ ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ریکارڈ کیا تھا، اس لیے ملک کو مالی سال 23 کے دوران قرضو کی ادائیگی اور عالمی واجبات سے منسلک دیگر ادائیگیوں کے لیے تقریباً ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں