سندھ کے بیشتر علاقوں سے نقل مکانی کا عمل جاری ہے جہاں متعلقہ حکام نارا نہر میں شگاف کو بند کرنے کی کاوشوں میں مصروف ہیں تاکہ سیلابی پانی کو دادو شہر میں داخل ہونے سے روکا جائے۔

نارا نہر میں آر ڈی-10 کے قریب گزشتہ روز شگاف پڑا تھا جہاں ابتدائی طور پر اس بات کا اندازہ لگایا گیا تھا کہ نہر سے پانی کا اخراج کرنے سے دادو اور جامشورو اضلاع کو سیلاب کا خدشہ کم ہوگا۔

تاہم صورتحال اس سے مختلف ثابت ہوئی جب علاقے سے یہ رپورٹس سامنے آئیں کہ دادو شہر کی طرف پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ کےسیکریٹری جنرل کا آئندہ ہفتے پاکستان کا دورہ کرنے کا اعلان

دادو کے حلقہ 85 سے منتخب پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی پیر مجیب الحق نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ ’نہر میں شگاف کے باعث دادو شہر کی طرف پانی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔‘

ڈپٹی کمشنر دادو مرتضیٰ علی شاہ نے کہا کہ شگاف کو بند کرنے کے لیے اضافی مشینری تعینات کردی گئی ہے جبکہ شہر کو بچانے کے لیے مختلف طریقوں سے کام جاری ہے۔

بعد ازاں اس سے متعلق تازہ صورتحال کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ 90 فیصد شگاف بند کیا گیا ہے جبکہ صورتحال پر 2 گھنٹوں کے اندر قابو پالیا جائے گا۔

حالیہ دنوں منچھر جھیل سے سیلابی پانی کا دباؤ کم کرنے کے لیے پانی کا رُخ کم آبادی والے علاقوں کے طرف موڑنے اور کثیر آبادی والے شہروں بھان سید آباد اور سیہون کو سیلاب سے بچانے کے لیے جھیل کے حفاظتی بند پر دو کٹ لگائے گئے تھے۔

بدھ کو غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ملک میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل خطرںاک طریقے سے اپنے بندوں کو ٹوڑنے کے قریب ہے حالانکہ پانی کی سطح کم کرنے کے لیے منظم طریقے سے جھیل کے حفاظتی بند کو کنٹرولڈ کٹ لگایا گیا جس سے ایک لاکھ کے قریب لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے 103 ارب روپے کی امداد منظور

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ خطرہ برقرار ہے یہاں تک کہ جھیل میں پانی کی سطح معمولی کم کے باوجود بھی جھیل کے پانی سے صوبے کے کچھ حصے زیر آب آچکے ہیں۔

جامشور کے حلقے 233 سے منتخب پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سکندر علی راہوپوٹو نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ جھیل کے پانی سے ضلع کی تین یونین کونسلز میں 100 گاؤں زیر آب آگئے ہیں۔

جامشورو کے ڈپٹی کمشنر فرید الدین مصطفیٰ نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ منچھر جھیل کا پانی یونین کونسل ٹاٹلی اور کٹوہر کے طرف بڑھ رہا ہے اور اب بھان سید آباد سمیت مختلف علاقے ڈوبنے کے خطرے کے پیش نظر متعدد خاندانوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا گیا ہے۔

سکندر علی راہوپوٹو کے مطابق اس وقت تک علاقے سے سیکڑوں افراد کو منتقل کیا گیا ہے۔

اس سے قبل منچھر جھیل کے دو حفاظتی بند آر ڈی-14 اور آر ڈی 52- کو کٹ لگانے کے بعد سیہون شہر کی پانچ یونین کونسلز زیر آب آگئی ہیں۔

ایک اور کٹ لگانے کی منصوبہ بندی

وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ منچھر جھیل کے قریب دریائے سندھ میں پانی کی سطح 120 فٹ رڈیوسڈ لیول (آر ایل) پر ہے۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ کی پاکستان میں سیلاب متاثرین کیلئے16کروڑ ڈالر کی ہنگامی امداد کی اپیل

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یہ توقع کی جارہی ہے کہ آئندہ آٹھ سے دس گھنٹوں کے اندر پانی کی سطح میں مزید 8 سے 10 فٹ تک کمی آسکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک بار پانی کی سطح کم ہونے کے بعد دریائے سندھ کے قریب ایک اور کٹ لگایا جائے گا تاکہ منچھر جھیل کا پانی دریائے سندھ میں جائے اور جب پانی کا اخراج ہوگا تو 10 سے 15 دن میں پانی ختم ہو جائے گا۔

تاہم سیلاب کی پیش گوئی کرنے والے ڈویژن کی ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ کوٹری بیراج کے قریب بڑے پیمانے پر سیلاب ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ کا اس وقت مکمل دھیان منچھر جھیل اور دریائے سندھ پر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کشمور اور جیکب آباد میں حالات بہتر ہو رہے ہیں جبکہ قمبر میں سیلابی پانی کی سطح میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے اس لیے وہاں بھی حالات بہتر ہونے میں کچھ وقت درکار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: منچھر جھیل میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی

شرجیل میمن نے کہا کہ اب گھنٹوں میں صورتحال تبدیل ہوگی جبکہ آج اجلاس میں صوبائی حکام نے سیلاب متاثرین کے انخلا کے منصوبے کو بہتر بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

کوششوں کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی نے بچوں کے لیے غذائی اجزا کی خریداری کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پانی کے اخراج، امدادی سرگرمیوں، انخلا کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے سیلاب پر بنے ٹاسک فورس کی ملاقاتیں اب روزانہ کی بنیاد پر ہوں گی۔

سیلاب سے مزید 12 ہلاکتیں: سربراہ اقوام متحدہ کا دورہ پاکستان

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 12 افراد سیلاب کی وجہ سے جاں بحق ہوئے جبکہ 14 جون سے اب تک اموت کی تعداد 1355 ہوگئی ہے۔

اندازے کے مطابق 22 کروڑ کی آبادی میں سے 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد اس تباہی میں متاثر ہوئے ہیں جو کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہوئی جس نے لاکھوں افراد کو بے گھر کردیا ہے اور کم از کم 10 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔

تاہم بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی اور ملک کے محدود وسائل نے صحت کا بحران پیدا کرنے کا خوف پیدا کردیا ہے۔

اس حوالے سے اقوام متحدہ (یو این) نے 16 کروڑ ڈالر امداد کی اپیل کی ہے تاکہ اس سے نمٹنے میں مدد کی جاسکے جسے انہوں نے ’غیر معمولی موسمیاتی تباہی‘ قرار دیا ہے، جہاں اقوام مزید مدد کے وعدوں کے ساتھ مالی اور اخلاقی مدد کر رہی ہیں۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق اقوام متحدہ کےسیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس ملک بھر میں شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہ کن موسمیاتی تباہی سے نمٹنے کے لیے پاکستانی حکومت اور عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے 9 سے 10 ستمبر تک دو روزہ دورے پر پاکستان آرہے ہیں۔

انتونیو گوتریس قومی و علاقائی سطح پر سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا کرنے کے لیے پاکستانی قیادت اور سینئر عہدیداروں سے ملاقات کے دوران تبادلہ خیال کریں گے۔

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے سیکریٹری جنرل موسمیاتی تباہی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کا سفر کریں گے اور بے گھر خاندانوں اور میدان پر موجود عملے کے ساتھ بات چیت کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: دادو کے قریب دباؤ سے بند ٹوٹنے پر مین نارا ویلی ڈرین سے پانی کا اخراج

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سربراہ اقوام متحدہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں حکومت کی امدادی و ریسکیو سرگرمیوں کی مدد کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کا جائزہ بھی لیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سیکریٹری جنرل مسلسل موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے ساتھ ایسی مشکلات پر زور دیتے رہے ہیں اور عالمی برادری کو ہمارے سیارے کو لاحق خطرات سے بھی خبردار کرتے رہتے ہیں۔

دفتر خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انتونیو گوتریس دورے میں سیلاب زدہ علاقوں میں بحالی اور تعمیر نو کے مرحلے اور مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی سے منسلک خطرات کے خلاف لچک پیدا کرنے کے لیے پاکستان کے لیے پائیدار بین الاقوامی حمایت کی اہمیت کو بھی اجاگر کریں گے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں