پی ایس ایل کے زیادہ تر میچز کے دوران معین علی ایکشن میں نظر نہیں آئیں گے

اپ ڈیٹ 08 فروری 2023
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے مایہ ناز انگلش آل راؤنڈر کی عدم دستیابی کے حوالے سے مطلع کیا — فائل فوٹو بشکریہ انگلینڈ کرکٹ
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے مایہ ناز انگلش آل راؤنڈر کی عدم دستیابی کے حوالے سے مطلع کیا — فائل فوٹو بشکریہ انگلینڈ کرکٹ

انگلینڈ کے مایہ ناز آل راؤنڈر اور اسٹار کھلاڑی معین علی قومی ٹیم کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ کی وجہ سے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے آٹھویں ایڈیشن کے زیادہ تر میچز میں حصہ نہیں لیں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے مایہ ناز انگلش آل راؤنڈر کی عدم دستیابی کے حوالے سے مطلع کیا۔

معین علی کو ابتدائی ڈرافٹ کے دوران پی ایس ایل کی 2 مرتبہ کی فاتح فرنچائز اسلام آباد یونائیٹڈ نے منتخب کیا تھا۔

وہ بنگلہ دیش کے دورے کے لیے اعلان کردہ انگلینڈ کے اسکواڈ کا حصہ ہیں، اس دورے کے دوران تین ایک روزہ اور 3 ٹی 20 میچز کھیلے جائیں گے، انگلش ٹیم کا یہ دورہ یکم سے 14 مارچ تک جاری رہے گا۔

معین علی بنگلہ دیش کے خلاف ہونے والی سیریز کے بعد اپنی فرنچائز کو دستیاب ہوں گے لیکن اگر اسلام آباد 15 مارچ سے شروع ہونے والے پلے آف مرحلے میں جگہ بنانے میں ناکام رہی تو اس صورت میں وہ مکمل طور پر پی ایس ایل میں دستیاب نہیں ہو سکیں گے۔

بائیں ہاتھ کے کھلاڑی کی جگہ جنوبی افریقی بلے باز راسی وین ڈیر ڈوسن نے لی ہے، معین علی کے ہم وطن جیمز ونس جو کہ بنگلہ دیش کے خلاف صرف ایک روزہ میچوں کی سیریز کے اسکواڈ کا حصہ ہیں، وہ کراچی کنگز کے لیے پی ایس ایل کے 3 میچوں کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے جب کہ کراچی کنگز نے ایک اور انگلش کھلاڑی ایڈم روسنگٹن کا بھی انتخاب کیا ہے۔

دوسری جانب پشاور زلمی نے افغانستان کے اسپنر مجیب الرحمٰن جو 19 فروری کے بعد دستیاب ہوں گے ان کے متبادل کے طور پر آسٹریلوی لیگ اسپنر پیٹر ہیٹ زوگلو کو اپنے اسکواڈ میں شامل کیا ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے آٹھویں ایڈیشن کے میچز 13 فروری سے 19 مارچ تک چار شہروں کراچی، لاہور، راولپنڈی اور ملتان میں منعقد ہوں گے۔

لیگ کے 34 میچوں میں سے 14 میچز کراچی اور ملتان میں منعقد ہوں گے جب کہ دوسرے مرحلے میں لاہور اور راولپنڈی 20 میچوں کی میزبانی کریں گے۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں