پناہ کے متلاشی 2 ہزار افغان شہری متحدہ عرب امارات کی ’حراست‘ میں ہیں، ہیومن رائٹس واچ

اپ ڈیٹ 16 مارچ 2023
<p>ابوظہبی میں موجود مرکز سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رہائشی صورتحال بہت خراب ہے— فائل فوٹو: طلوع نیوز</p>

ابوظہبی میں موجود مرکز سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رہائشی صورتحال بہت خراب ہے— فائل فوٹو: طلوع نیوز

ہیومن رائٹس واچ نے اماراتی حکام پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے 15 ماہ سے زیادہ عرصے سے 27 سو افغان شہریوں کو ’من مانی حراست‘ میں لے رکھا ہے جن کے پاس پناہ گزین ہونے یا دوسری جگہ آباد ہونے کا کوئی قانونی راستہ نہیں ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان افغان شہریوں میں سے ایمریٹس ہیومینٹیرین سٹی میں مقیم بہت سے لوگ ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی امراض میں مبتلا ہیں، انہیں لیگل کونسل تک رسائی حاصل نہیں ہے اور ان کے بچوں کے لیے تعلیمی سہولیات ناکافی ہیں۔

ابو ظبی میں موجود مرکز سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رہائشی صورتحال بہت خراب ہو گئی ہے، قیدیوں نے گنجائش سے زیادہ لوگوں کی تعداد، انفراسٹرکچر کی خرابی اور کیڑوں کی موجودگی کی شکایات کیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہیومن رائٹس واچ کو متحدہ عرب امارات کی وزارت داخلہ اور خارجہ سے معاملے پر رد عمل دینے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں ملا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانوں کی نقل مکانی کو دیکھنے والے مریکی محکمہ خارجہ کے دفتر نے ایک خط میں گروپ کو بتایا کہ اہل افغان شہریوں کو آباد کرنے کے لیے امریکا کا عزم غیر متزلزل ہے۔

اماراتی حکام نے پہلے کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے اگست 2021 میں کابل پر طالبان کے اقتدار کے بعد بے دخل ہونے والے ہزاروں افغان مہاجرین کی عارضی طور پر میزبانی کرنے کی پیشکش کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات افغان انخلا کو تحفظ، سلامتی اور وقار کے ساتھ رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور ابوظہبی امریکی سفارت خانے کے ساتھ مل کر انہیں دوبارہ آباد کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

انخلا کرنے والے افغان شہریوں کو ایمریٹس ہیومینٹیرین سٹی اور تسمیم ورکرز سٹی میں رکھا گیا، اپارٹمنٹ کمپلیکسز کو پناہ گزینوں کی رہائش میں تبدیل کر دیا گیا اور بہت سے لوگوں کو امریکا، کینیڈا اور دیگر ممالک میں دوبارہ آباد ہونے کے لیے کلیئر کر دیا گیا تھا، تاہم 25 سو 27 سو کے درمیان افغان باشندے کسی اور ملک میں آباد ہونے کے لیے اہل نہیں تھے اور جنوری تک انہیں وہیں رکھا گیا جسے رپورٹ میں ’من مانی حراست‘ کہا گیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اماراتی حکام پناہ کے متلاشی اور تارکین وطن سے نمٹنے کے لیے عالمی قانون اور اقوام متحدہ کے رہنما اصولوں کی پابندی نہیں کر رہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات اقوام متحدہ کے پناہ گزین کنونشن کا دستخط کنندہ نہیں ہے، ہیومن رائٹس واچ نے متحدہ عرب امارات سے افغان شہریوں کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں