اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت میں توشہ خانہ کیس میں دفعہ 342 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ یہ بات درست نہیں کہ میں نے جھوٹا بیان اور ڈیکلریشن جمع کروایا ہے۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کارروائی کے کیس پر سماعت کی۔

عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشنز جج ہمایوں دلاور نے کی جہاں پی ٹی آئی چیئرمین بھی پیش ہوئے۔

دوران سماعت جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ میں سوالات سنا رہا ہوں، جوابات دینا چاہیں تو دیں۔ عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کو روسٹرم پر پیش کرنے کا حکم دیا۔

جج ہمایوں دلاور نے پی ٹی آئی چیئرمین سے استفسار کیا کہ عدالت سوالات آپ کو پڑھ کر سنائے گی، باقی آپ کی مرضی، کیا آپ نے شکایت کنندہ کے الزامات پڑھے ہیں؟

اس پر عمران خان نے جواب دیا کہ میں نے شکایت کنندہ کے بیانات نہیں سنے کیونکہ میری موجودگی میں ریکارڈ نہیں ہوئے، میری موجودگی میں فردِ جرم عائد نہیں کی گئی، مجھے فرد جرم پڑھ کر نہیں سنائی گئی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ میرے وکلا نے سیشن عدالت کی جانب سے نمائندہ مقرر کرنے کی مخالفت بھی کی، توشہ خانہ کیس میں ملزم صرف ایک ہے، سیشن عدالت خود سے میرا نمائندہ مقرر نہیں کرسکتی۔

انہوں نے کہا کہ گواہان کے بیانات قلم بند کرتے وقت اومنی بس فیصلہ جاری نہیں کیا گیا، مجھے گواہان کے بیانات قلم بند کرتے وقت ہر سماعت پر استثنیٰ دیا گیا۔

عمران خان نے کہا کہ سیشن عدالت کے فیصلے کے مطابق میرے مقرر نمائندے کا مؤقف ٹھیک طرح نہیں لکھا گیا، عاشورہ کی چھٹیوں کے دوران گواہان کے بیانات مجھے فراہم کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ 17 جولائی کو مجھے گواہان کے بیانات کی کاپی فراہم کی گئی، 31 جولائی کو مکمل دن میں عدالت میں رہا اور گواہان کے بیانات پڑھے، میں نے اس کیس میں کسی کو نمائندہ مقرر کیا ہی نہیں بلکہ سیشن عدالت نے خود ہی میرا نمائندہ مقرر کردیا۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے شکایت دائر کرنے کے لیے کسی کو نامزد نہیں کیا، الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر شکایت 120 دنوں کے بعد دائر کی گئی، میں نے 18-2017 کے اپنے اثاثہ جات الیکشن کمیشن میں جمع کروائے تھے۔

انہوں نے عدالت کے سامنے کہا کہ میں نے 19-2018 اور 20-2019 کے اپنے اثاثہ جات الیکشن کمیشن میں جمع کروائے تھے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ میں نے 21-2020 کے اپنے اثاثہ جات الیکشن کمیشن میں جمع کروائے تھے، اسپیکر قومی اسمبلی نے ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجا جو بدنیتی پر مبنی تھا، اسپیکر قومی اسمبلی کے بھیجے گئے ریفرنس میں قانون کو غلط طریقہ کار سے سمجھا گیا تھا، مجھ پر ریفرنس میں 18-2017 اور 19 -2018 کے اثاثہ جات کا ذکر کیا گیا، الیکشن کمیشن نے اگلے برسوں کے بھی اثاثہ جات تک رسائی حاصل کی جو موجودہ حکومت کی بدنیتی ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 19-2018 میں دائر جواب میں نہیں کہا کہ 5 کروڑ 80 لاکھ روپے نجی بینک میں جمع کروائے، قانون میں نہیں لکھا کہ تحائف کے نام جمع کروائے جائیں۔

عمران خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فارم بی میں تحائف کے نام لکھنے کا کالم موجود ہی نہیں، لسٹ بناتے وقت تحائف کی تفصیلات نہیں بنائی گئیں، لسٹ بناتے وقت کسی نے تحائف کی مالیت کی تفصیلات بھی نہیں بنائیں، گواہان نے تحائف کی مالیت کا چالان بھی عدالت میں جمع نہیں کروایا، مجھ سے تحائف کے حوالے سے دستاویزات بناتے وقت رابطہ نہیں کیا گیا، صرف اتنا کہوں گا کہ تحائف کے حوالے سے دستاویزات کو سوالنامے میں نہیں لکھا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ تحائف کے حوالے سے دستاویزات فراہم کرنے والا بطور گواہ عدالت پیش نہیں ہوا، تحائف کے حوالے سے دستاویزات کو نہ تصدیق کیا گیا نہ اس کی شہادت لی گئی، کسی فرد نے تحائف کے حوالے سے دستاویزات کا بطور گواہ اقرار نہیں کیا، کابینہ ڈویژن سے کسی گواہ کو پیش نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ تحائف کی مالیت سے متعلق بھی استغاثہ نے کوئی گواہ پیش نہیں کیا، استغاثہ نے ان دستاویزات میں سے کسی ایک کا گواہ پیش نہیں کیا، میں نے جواب میں نہیں کہا کہ 5 کروڑ 80 لاکھ کی رقم بینک میں وصول کی۔

سابق وزیر اعظم نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں درج تحائف کے حوالے سے دستاویزات کا کبھی مجھ سے پوچھا ہی نہیں گیا، کابینہ ڈویژن کی جانب سے کوئی گواہ شکایت کنندہ عدالت میں نہیں لایا، دستاویزات 160 صفحات پر مشتمل ہیں لیکن شکایت کنندہ اس حوالے سے کوئی گواہ سامنے نہیں لایا۔

انہوں نے کہا کہ شکایت کنندہ نہ کوئی ایسا گواہ سامنے لایا جس کے سامنے تحائف کے حوالے سے دستاویزات تشکیل دیے گئے ہوں، تحائف کے حوالے سے دستاویزات کو بطور ثبوت عدالت میں شامل نہیں کیا جا سکتا، بینک ریکارڈ قابل قبول شہادت نہیں، بینک ریکارڈ وصول کرنے والے کسی گواہ کو پیش نہیں کیا گیا، جس افسر نے ریکارڈ تیار کیا اسے بھی گواہ نہیں بنایا گیا۔

عمران خان نے کہا کہ استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ یہ کمپیوٹر جنریٹڈ دستاویزات ہے، بینک اسٹیٹمنٹ کا ریکارڈ میری غیر موجودگی میں الیکشن کمیشن نے طلب کیا، الیکشن کمیشن نے فیصلہ جاری کرنے کے بعد بینک اسٹیٹمنٹ کا ریکارڈ مانگا، بینک اسٹیٹمنٹ کا ریکارڈ لینے اور جمع کروانے والا فرد بطور گواہ پیش نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھ سے 19-2018 میں چار تحائف کا پوچھنا درست نہیں کیونکہ میرے پاس اسی سال یہ تحائف موجود نہیں تھے، شکایت کنندہ نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ 19-2018 میں چار تحائف میرے پاس ہی تھے یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ استغاثہ کا پیش کیا گیا بینک ریکارڈ قانون کے مطابق تصدیق شدہ نہیں، یہ درست نہیں کہ میں نے جھوٹا بیان اور ڈیکلریشن جمع کروایا، استغاثہ نے ایسا کوئی گواہ پیش نہیں کیا جس نے بتایا ہو کہ تحائف میں نے رکھے ہوں، الزام ہے آپ نے پانچ تحائف گوشواروں میں ظاہر نہیں کیے، استغاثہ کا یہ الزام درست نہیں مین نے یہ تحائف اپنے ٹیکس گوشواروں کے فارم بی میں لکھے تھے۔

عمران خان نے کہا کہ میں نے 19-2018 میں غلط اثاثہ جات الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کروائے، 20-2019 میں تین تحائف کا پوچھنا درست نہیں کیونکہ میرے پاس تحائف موجود نہیں تھے، شکایت کنندہ نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ 20-2019 میں تینوں تحائف میرے پاس تھے یا نہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ میں نے 20-2019 میں غلط اثاثہ جات الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کروائے، میں نے 21 -2020 میں اپنے ظاہر اثاثہ جات میں قیمتی تحائف کا ذکر کیا جس کے لیے 11 ملین روپے ادا کیے، میرے ٹیکس کنسلٹنٹ نے قیمتی تحائف کا ذکر الیکشن کمیشن میں دائر اثاثہ جات میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ تحائف ذاتی استعمال کے لیے تھے جن کا ذکر میرے ٹیکس کنسلٹنٹ نے دائر اثاثہ جات میں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 21 -2020 میں جمع کروائے گئے چالان توشہ خانہ، کابینہ ڈویژن اور الیکشن کمیشن میں بھی جمع ہیں، سوچنا عجیب ہے کہ الیکشن کمیشن نے پانچ تحائف پر کیسے اخذ کرلیا کہ میں نے جمع نہیں کروائے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے الیکشن کمیشن میں 21-2020 کے ٹیکس ریٹرنز بھی ظاہر کیے، 21 -2020 میں ٹیکس ریٹرن اور اثاثہ جات میں نے الیکشن کمیشن میں جمع کروائے تھے۔

عمران خان نے کہا کہ میرا اکاؤنٹنٹ چالیس سال سے کام کر رہا ہے، اسے اثاثہ جات جمع کروانے کے حوالے سے معلوم ہے، یہ بات جھوٹ ہے کہ 21 -2020 میں اثاثہ جات کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں غلط بیان ریکارڈ کیا گیا، الیکشن کمیشن میں دائر 21 -2020 کا ایک بھی میرا بیان جھوٹا نہیں جس کا الزام شکایت کنندہ نے مجھ پر لگایا۔

عمران خان نے کہا کہ ستر سال کی تاریخ میں الیکشن کمیشن یا نیب نے توشہ خانہ ریکارڈ کبھی مانگا، مجھ سے تحائف کا کیا اس لیے صرف پوچھا جا رہا ہے تاکہ مجھے نااہل کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے خلاف فوجداری کی شکایت دائر کی گئی، شکایت کنندہ پر لازم ہے کہ وہ ثابت کرے کہ تحائف میرے پاس تھے جو اس نے ثابت نہیں کیے، میں نے تحائف ذاتی طور پر نہیں بیچے، میں نے بریگیڈیئر وسیم چیمہ کے ذریعے تحائف بیچے جن کو عدالت بطور گواہ نوٹس جاری کرسکتی ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 20-2019 کے حوالے سے کبھی خریداروں کے نام نہیں پوچھے، الیکشن کمیشن نے آج تک کسی سے توشہ خانہ تحائف کے خریداروں کے نام نہیں پوچھے، فوجداری کارروائی میں شکایت کنندہ کو ثابت کرنا ہے کہ تحائف میرے پاس تھے جو میں نے ظاہر نہیں کیے، تحائف پاس ہونے کے باوجود ظاہر نہ کرنے کے الزام پر شکایت کنندہ کے پاس نہ ثبوت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوری 2019 میں کوئی توشہ خانہ کا چالان میں نے جمع نہیں کروایا، 22 جنوری 2019 سے 30 جون 2019 کے دستاویزات شکایت کنندہ نے جمع نہیں کروائے، دستاویزات سے 3 کروڑ روپے کا ڈپازٹ ظاہر ہوتا ہے جو شکایت کنندہ نے بطور ثبوت پیش نہیں کیا۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے خود ہی بینک اکاؤنٹ کے دستاویزات کو اخذ کرلیا اور مجھ سے تصدیق بھی نہیں کی 19-2018 میں 5 کروڑ 80 لاکھ روپے کی رقم بینک میں جمع نہ کرنے کی بات الیکشن کمیشن نے خود سے اخذ کرلی۔

انہوں نے کہا کہ تحائف بیچنے کے بعد میرے پاس وصول رقم صرف 2 کروڑ 80 لاکھ روپے رہ گئی تھی۔

عمران خان نے کہا کہ 20-2019 میں وصول کردہ تحائف اثاثہ جات میں ظاہر کرنا ضروری نہیں تھا کیونکہ سال ختم ہونے سے قبل ان کو اگلے تحفے میں دے دیا گیا تھا، تحائف بیچنے کے بعد وصول کردہ رقم اثاثہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ میرا اسسٹنٹ فیصلہ کرتا ہے کہ اثاثہ جات کی کون سی تفصیلات مہیا کرنی ہیں یا نہیں، میرے کنسلٹنٹ نے توشہ خانہ کے تحائف کو ایک گروپ کی شکل میں شامل کیا تھا، میں نے توشہ خانہ تحائف اپنے پاس پچاس فیصد قیمت پر رکھے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ پہلے تحائف رکھنے کی قیمت 20 فیصد ہوا کرتی تھی جو پی ٹی آئی حکومت نے 50 فیصد کردی تھی، کابینہ ڈویژن کو توشہ خانہ تحائف کا بتایا جن کو الیکشن کمیشن میں ظاہر کیا گیا ہے، ذاتی استعمال کے لیے تحائف کا ذکر فارم بی میں کہیں نہیں، الیکشن کے لیے امیدوار کو اپنے اثاثہ جات ظاہر کرنا ضروری ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شکایت کنندہ نے مجھ پر الزام سیاسی بنیادوں پر لگایا جو جھوٹا ہے، شکایت کنندہ نے جھوٹا الزام لگایا کہ میں نے اثاثہ جات کے حوالے سے جھوٹا بیان الیکشن کمیشن میں دائر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ شکایت کنندہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ گواہ مصدق انور اثاثہ جات کے ریکارڈ کا محافظ ہے، دورانِ جرح گواہ مصدق انور نے اثاثہ جات کا محافظ ہونے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، توشہ خانہ کیس سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے، پی ڈی ایم حکومت کے کہنے پر میرے خلاف کیس بنایا گیا، دونوں گواہان سرکاری ہیں، جن کو میرے خلاف استعمال کیا گیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اتھارٹی لیٹر میں شکایت کنندہ کا نام ہی نہیں، شکایت کنندہ کو میرے خلاف شکایت دائر کرنے کی ڈائریکشن نہیں دی گئی، گواہ مصدق انور کا عہدہ بھی نہیں لکھا گیا، گواہان کو آخری لمحے پر میرے خلاف بطور گواہ سامنے لایا گیا، گواہان کو میرے خلاف جھوٹا بیان دینے کے لیے لایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ گواہان میرے خلاف جھوٹا بیان دیں، 14 ماہ سے پی ڈی ایم حکومت مجھے انتخابات سے باہر کرنا چاہتی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ توشہ خانہ بشمول 180 دیگر کیسز اور دو قاتلانہ حملے میرے خلاف کروایا گیا، 9 مئی کے واقعات پر میرے 10 ہزار سے زائد کارکنان اور رہنما جیلوں میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دیگر کارکنان اور رہنماؤں کو زبردستی انڈر گراؤنڈ کیا گیا، 37 میں سے 30 ضمنی انتخابات تحریک انصاف نے جیتے، 75 فیصد سے زیادہ ووٹرز تحریک انصاف کے ہیں، کم نہیں ہوسکتے، پی ڈی ایم حکومت چاہتی ہے کہ تحریک انصاف انتخابات میں حصہ نہ لے سکے، شکایت کنندہ میرے خلاف کوئی بھی ثبوت سامنے لانے پر ناکام رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی طرف سے گواہان کو عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا۔

سابق وزیر اعظم کا 35 سوالات پر مبنی 342 کا بیان عدالت میں ریکارڈ کرلیا گیا۔

عدالت نے عمران خان نے استفسار کیا کہ کیا آپ اپنے حق میں دفاع پیش کریں گے جس پر انہوں نے کہا کہ میں اپنی صفائی میں شواہد پیش کروں گا، یہ سیاسی بنیادوں پر دائر کیا گیا کیس ہے، استغاثہ کے دونوں گواہ وفاقی حکومت کی کٹھ پتلی تھے۔

انہوں نے کہا کہ 14 ماہ سے پی ڈی ایم حکومت مجھے الیکشن کی دوڑ سے باہر کرنا چاہتی ہے، اس کیس سمیت 180 کیس بنائے گئے ہیں، دو بار قاتلانہ حملہ کیا گیا، 9 مئی کے واقعات کے بعد لیڈرشپ اور ہزاروں کارکنان جیلوں میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی الیکشن میں حصہ نہ لے سکے، 37 ضمنی انتخابات میں سے 30 انتخابات پی ٹی آئی نے جیتے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ سروے کے مطابق پی ٹی آئی کی 70 فیصد عوام میں مقبولیت ہے۔

عدالت نے سوال کیا کہ کیا آپ خود بطور گواہ پیش ہونا چاہتے ہیں، جس پر عمران خان نے کہا کہ استغاثہ میرے خلاف شواہد لانے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔

عدالت نے 35 سوالات کے جوابات پر دوبارہ نظر دوہرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت میں وقفہ کردیا اور چیئرمین پی ٹی آئی کمرہ عدالت میں اپنے وکلا کے ہمراہ بیٹھ گئے۔

دوبارہ سماعت شروع ہونے کے بعد عمران خان نے حلف پر بیان دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی طرف سے شواہد عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا۔

چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کی قانونی ٹیم نے 342 کے دیے گئے بیان پر نظرثانی کرلی۔

جج ہمایوں دلاور نے عمران خان سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے جو جوابات دیے اس سے مطمئن ہیں، اس پر انہوں نے کہا کہ جی میں سوالات کے دیے گئے اپنے جوابات سے مطمئن ہوں۔

جج ہمایوں دلاور نے وکیل خواجہ حارث سے مکالمہ کیا کہ لگتا ہے آپ رات گئے جاگتے رہے ہیں، جس پر چیئرمین پی ٹی آئی نے جج ہمایوں دلاور سے مکالمہ کیا کہ ہم سب کا ہی آج کل یہ حال ہے سر۔

بعد ازاں سابق وزیر اعظم نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیے اور اپنی قانونی ٹیم کے ہمراہ کمرہ عدالت سے روانہ ہوگئے۔

عمران خان کے وکیل بیرسٹر گوہر نے کہا کہ گواہان کو پیش کرنا ہے تو تھوڑا سا وقت دیا جائے جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو نہیں پتا کہ کس کس کو بلانا ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ابھی لسٹ تیار نہیں کی گئی لسٹ تیار کرنے ہے اسی لیے ٹائم چاہیے، متعلقہ گواہان جن کا تعلق بنتا ہے ان کو بلائیں گے، دو دن کا وقت دیا جائے، 3 اگست کا وقت دے دیں ہم گواہان کی لسٹ دے دیں گے۔ تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے اس کی مخالفت کی گئی۔

الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ گواہان دو اقسام کے ہیں، ایک سرکاری اور ایک پرائیویٹ گواہ ہوتے ہیں، جس پر جج نے کہا کہ کل ایسا کریں کہ پرائیویٹ گواہان کی لسٹ فراہم کر دیں۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت کل صبح ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کردی۔

توشہ خانہ ریفرنس

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ سنانے کے بعد کے ان کے خلاف فوجداری کارروائی کا ریفرنس عدالت کو بھیج دیا تھا جس میں عدم پیشی کے باعث ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے ہیں۔

گزشتہ برس اگست میں حکمراں اتحاد کے 5 ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر اسپیکر قومی اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے توشہ خانہ ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔

ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف فروخت کرکے جو آمدن حاصل کی اسے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔

آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنس میں آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کے تحت عمران خان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس کے سلسلے میں 7 ستمبر کو الیکشن کمیشن میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا، جواب کے مطابق یکم اگست 2018 سے 31 دسمبر 2021 کے دوران وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے۔

بتایا گیا کہ یہ تحائف زیادہ تر پھولوں کے گلدان، میز پوش، آرائشی سامان، دیوار کی آرائش کا سامان، چھوٹے قالین، بٹوے، پرفیوم، تسبیح، خطاطی، فریم، پیپر ویٹ اور پین ہولڈرز پر مشتمل تھے البتہ ان میں گھڑی، قلم، کفلنگز، انگوٹھی، بریسلیٹ/لاکٹس بھی شامل تھے۔

جواب میں بتایا کہ ان سب تحائف میں صرف 14 چیزیں ایسی تھیں جن کی مالیت 30 ہزار روپے سے زائد تھی جسے انہوں نے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت رقم کی ادا کر کے خریدا۔

اپنے جواب میں عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم اپنے دور میں 4 تحائف فروخت کیے تھے۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2 کروڑ 16 لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد سرکاری خزانے سے تحائف کی فروخت سے تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ روپے حاصل کیے، ان تحائف میں ایک گھڑی، کفلنگز، ایک مہنگا قلم اور ایک انگوٹھی شامل تھی جبکہ دیگر 3 تحائف میں 4 رولیکس گھڑیاں شامل تھیں۔

چنانچہ 21 اکتوبر 2022 کو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے خلاف دائر کردہ توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں نااہل قرار دے دیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے عمران خان کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 63 کی شق ’ایک‘ کی ذیلی شق ’پی‘ کے تحت نااہل کیا جبکہ آئین کے مذکورہ آرٹیکل کے تحت ان کی نااہلی کی مدت موجودہ اسمبلی کے اختتام تک برقرار رہے گی۔

فیصلے کے تحت عمران خان کو قومی اسمبلی سے ڈی سیٹ بھی کردیا گیا تھا۔

احتساب عدالت: نیب مقدمات میں عمران خان، بشریٰ بی بی کی 4 اگست تک ضمانت

دوسری جانب اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل اور توشہ خانہ سمیت نیب مقدمات میں 4 اگست تک عبوری ضمانت منظور کرلی۔

عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وکیل خواجہ حارث کے ساتھ جوڈیشل کمپلیکس قائم عدالت میں پیش ہوئے، جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

احتساب عدالت میں 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل، توشہ خانہ مقدمات میں عبوری ضمانت پر سماعت شروع ہوئی تو خواجہ حارث نے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کو بتایا کہ ہم سیشن عدالت میں تھے، ہمیں مسلسل وہاں جانا پڑتا ہے۔

انہوں نے جج سے کہا کہ 12 اگست کے بعد کی کوئی تاریخ رکھ دیں، عدالت میں مصروفیت کی وجہ سے اپنے اہل خانہ کو بھی وقت نہیں دے پاتا، 23 کو میرا بیٹا آیا ہے اب تک ان سے ملاقات بھی نہیں ہوئی۔

جج محمد بشیر نے خواجہ حارث سے کہا کہ حتمی دلائل کے لیے جمعے کا دن رکھ لیتے ہیں، جس پر نیب کے وکیل سردار مظفر نے کہا کہ ہر تاریخ پر یہ نئی تاریخ دیتے ہیں، جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ پھر آج بحث کرلیں کوئی تو بات ٹھیک کیا کریں۔

جج محمد بشیر نے کہا کہ وقت بہت زیادہ ہوگیا ہے، ٹائم تو دیکھیں، جس کے بعد عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں 9 اگست تک توسیع کردی تاہم نیب نے اعتراض کردیا۔

نیب کی استدعا پر عدالت نے تاریخ تبدیل کرتے ہوئے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں 4 اگست تک توسیع کردی۔

نیب عدالت نے سابق وزیر اعظم اور بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت کی مزید سماعت 4 اگست تک ملتوی کردی۔

احتساب عدالت میں سماعت کے دوران نیب نے عمران خان کا حراست کے دوران لیا گیا موبائل بھی واپس کر دیا، جس پر جج محمد بشیر نے اللہ اکبر کہا، جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ موبائل بگ کر دیا ہوگا۔

تبصرے (0) بند ہیں