سندھ اسمبلی کا اجلاس آ ج صبح 11 بجے ہوگا جہاں نومنتخب اراکین حلف اٹھائیں گے۔

ڈان نیوز کے مطابق ملک میں انتخابات کے انعقاد کے بعد سندھ اسمبلی کا پہلا اجلاس آج ہو رہا ہے جس میں نومنتخب اراکین حلف اُٹھائیں گے۔

پیپلزپارٹی کی جانب سے مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ نامزد کیا گیا ہے جبکہ سید اویس شاہ کو اسپیکر سندھ اسمبلی اور نوید انتھونی کو ڈپٹی اسپیکر نامزد کیا گیا ہے۔

انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف سندھ کی اپوزیشن جماعتیں اسمبلی کے باہر احتجاج کریں گی جبکہ اپوزیشن اراکین حلف بھی نہیں اٹھائیں گے۔

اس کےعلاوہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے رات گئے ڈی آئی جی ساتھ آفس میں ملاقات کی۔

سندھ اسمبلی کے ایوان میں ممبران کی کل تعداد 168ہے، 163حلف اٹھائیں گے، سندھ اسمبلی میں128منتخب اور 35 مخصوص نشستوں کے ممبران حلف اٹھائیں گے۔

سندھ اسمبلی کے 4 ممبران کے معاملات مختلف وجوہات کی بنا پر مؤخر ہیں۔

پیپلز پارٹی کے 114، ایم کیو ایم کے36، سنی اتحاد کونسل کے9ارکان حلف لیں گے، مخصوص نشستوں پر پیپلز پارٹی کی 20خواتین اور 6 اقلیتی ارکان حلف لیں گے۔

مخصوص نشستوں پر ایم کیو ایم کی 6خواتین اور اقلیت کے دو ارکان حلف اٹھائیں گے۔

مخصوص نشست پر جی ڈی اے کی ایک خاتون رکن حلف لیں گے، دوسری جانب پی ایس 129 سے حافظ نعیم کی نشست کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا جبکہ پی ایس 80 سے پیپلز پارٹی کے منتخب رکن عبدالعزیز جونیجو انتقال کرچکے ہیں۔

سنی اتحاد کونسل کی 9نشستوں پر مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا تھا۔

سندھ اسمبلی میں حلف برداری کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں، کراچی ریڈ زون میں ایک ماہ کے لئے دفعہ 144 نافذ کردی ہے، آئندہ 30روز تک ساؤتھ زون میں دفعہ 144 نافذ رہے گی۔

ڈی آئی جی ساؤتھ زون اسد رضا کا کہنا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے باعث سندھ اسمبلی پر جلوس، احتجاجی مظاہروں پر پابندی ہے، کسی بھی قسم کی شرپسندی کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی۔

ڈی آئی جی ساؤتھ کا کہنا تھا کہ اسمبلی اجلاس میں ممبران کو روکنے کی کوشش پر کارروائی ہوگی،احتجاج یا کسی نقصان پر تمام ذمہ داری سیاسی رہنماؤں پر ہوگی، سیاسی جماعتیں عوام کی بھلائی کے لیے غیر قانونی روش ترک کریں۔

انہوں نے کہا کہ ریڈ زون میں پولیس کی نفری تعینات کردی گئی۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں