پاناما لیکس: وزیراعظم سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری

اپ ڈیٹ 20 اکتوبر 2016

ای میل

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم کے خلاف دائر درخواستوں پر وزیراعظم نواز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز، داماد کیپٹن (ر) صفدر، بیٹوں حسن نواز، حسین نواز، ڈی جی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف،جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی اور طارق اسد ایڈووکیٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کی تھی جس پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے اعتراضات لگا کر یہ درخواستیں واپس کردی تھیں، بعدازاں گذشتہ ماہ 27 ستمبر کو عدالت عظمیٰ نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے درخواستیں سماعت کے لیے منظور کرلی تھیں۔

مزید پڑھیں:پاناما لیکس پر وزیراعظم کی نااہلی: درخواستوں پر اعتراضات ختم

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پاناما لیکس پر وزیراعظم کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔

اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان، پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور دیگر رہنما کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

دوسری جانب حکومتی وزراء خواجہ آصف اور سعد رفیق اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما دانیال عزیز بھی سماعت کے موقع پر عدالت میں موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں:پاناما لیکس: تحریک انصاف کی وزیراعظم کے خلاف درخواست

سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے دلائل دیئے، جس کے بعد عدالت عظمیٰ نے وزیراعظم نواز شریف، اسحاق ڈار، مریم نواز، کیپٹن (ر) صفدر، حسن نواز، حسین نواز، ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین ایف بی آر اور اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔

بعدازاں کیس کی سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔

آج 'تاریخی دن' ہے، عمران خان

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سپریم کورٹ میں نااہلی کیس کی سماعت شروع ہونے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج تاریخی دن ہے۔

عمران خان نے کہا کہ نیب سمیت تمام اداروں کی خاموشی کے بعد عدالت سے رجوع کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو طلب کیا، قانونی راستہ ڈھونڈنا ہماراحق ہے، لیکن جب انصاف نہیں ملتا تو احتجاج کرنا بھی سیاسی جماعت کا حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’بادشاہ کو قانون کے نیچے لانے کی جانب یہ پہلا قدم ہے‘۔

مزید پڑھیں:پاناما لیکس: 'سپریم کورٹ کیلئے تحقیقات کروانا مشکل ہوگا'

عمران خان نے کہا کہ سماعت شروع ہونے سے چیزیں عوام کے سامنے آئیں گی، سپریم کورٹ نے اچھا فیصلہ کیا لیکن پارلیمنٹ نے اپنا کردار نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ نیب اور ایف بی آر سمیت دیگر اداروں کو فعال ہونا چاہیے اور اب پوری قوم کی نظریں عدالت عظمیٰ پر لگی ہیں۔

دوسری جانب عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ عوام کی خواہش ہے کہ نواز شریف کو نااہل قرار دیا جائے۔

اس موقع پر جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا کہنا تھا کہ جن کے نام پاناما لیکس میں آئے ہیں ان کا احتساب ہونا چاہیئے۔

پاناما انکشافات

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں آف شور کمپنیوں کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لاء فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقتور اور سیاسی شخصیات کے مالی معاملات عیاں ہوئے تھے۔

ان دستاویزات میں روس کے صدر ولادی میر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سمیت درجنوں حکمرانوں کے نام شامل تھے۔

یہاں پڑھیں: شریف خاندان کی 'آف شور' کمپنیوں کا انکشاف

پاناما انکشافات کے بعد اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تعلقات کشیدہ صورت حال اختیار کرگئے تھے اور وزیراعظم کے بچوں کے نام پاناما لیکس میں سامنے آنے پر اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا۔

بعد ازاں جوڈیشل انکوائری پر اتفاق کیا گیا جس کے لیے وزیر اعظم نواز شریف نے 22 اپریل کو قوم سے اپنے خطاب میں کیے گئے اعلان کے مطابق سپریم کورٹ کو کمیشن کے قیام کے لیے خط ارسال کیا تاہم چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی نے کمیشن بنانے سے متعلق حکومتی خط کو اعتراضات لگا کر واپس کر دیا تھا۔

حکومت کو جوابی خط میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے لکھا تھا کہ جب تک فریقین مناسب ضوابط کار پر متفق نہیں ہوجاتے، کمیشن تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔ حکومتی ضوابط کار بہت وسیع ہیں، اس کے تحت تحقیقات میں برسوں لگ جائیں گے اور جس خاندان، گروپ، کمپنیوں یا افراد کے خلاف تحقیقات کی جانی ہیں ان کے نام فراہم کرنا بھی ضروری ہیں۔

بعدازاں پاناما لیکس کی تحقیقات کی غرض سے حکومت اور اپوزیشن کی 12 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، حکومت اور اپوزیشن میں اس حوالے سے متعدد اجلاس ہوئے مگر فریقین اس کے ضابطہ کار (ٹی او آرز) پر اب تک متفق نہ ہو سکے۔

تحریک انصاف کا مطالبہ ہے کہ حکومت پاناما لیکس کی آزادانہ تحقیقات کروانے کے لیے اپوزیشن کے ٹرمز آف ریفرنسز (ٹی او آرز) کو تسلیم کرے، دوسری جانب انھوں نے اپنی تحریک احتساب کا بھی آغاز کر رکھا ہے اور اگلے ماہ 2 نومبر کو پی ٹی آئی اسلام آباد میں احتجاج کرنے جارہی ہے۔