گڑھی خدا بخش کی پُراسراریت

27 دسمبر 2016

ای میل

بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کے مزار پر ان کی دعا بھی قبول ہوجاتی ہیں — فائل فوٹو
بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کے مزار پر ان کی دعا بھی قبول ہوجاتی ہیں — فائل فوٹو

گڑھی خدا بخش میں جو کچھ بھی ہے، وہ نہایت منفرد ہے، خاص طور پر اگر کوئی بھٹو خاندان کے مزار کی جانب رات کے وقت سفر کرے۔ رات کی تاریکی میں گڑھی خدابخش کو جاتی ویران سڑک، تاریک پس منظر میں ٹمٹماتے قمقمے کی مانند روشنی سے نہایا ہوا مزار اُبھرتا ہے، جو کسی صوفی کی درگاہ، مغلوں کی یادگار اور سیاسی روداد کا ایک مرکب ہے۔ پیپلزپارٹی کی سیاست کے بارے میں آپ کی جو بھی سوچ ہو، لیکن یہ عمارت سب کے لیے نہایت جاذبِ نظر ہے۔

شاید اس کی وجہ یہ ہوکہ یہاں جو شخصیات مدفون ہیں، انہوں نے قومی سیاست میں اہم کردار ادا کرچکے ہیں، اس یادگار عمارت کے یہی شایانِ شان ہوسکتا ہے، خاص طور پر بھٹو خاندان کی شخصیات کا درجہ اب سندھ میں سیاستدان کے ساتھ ساتھ لوک داستانوں کے ہیروز کی مانند ہوچکا ہے۔

بہرحال، جیساکہ اس مزار پر تعینات ایک حکومتی اہلکارنے مضمون نگار کو بتایا کہ یہاں آنے والے افراد کی بڑی تعداد ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے، جبکہ کچھ لوگ اس لیے آتے ہیں کہ یہاں ان کی دعائیں بھی قبول ہوں گی۔

اس رجحان کی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ دونوں باپ بیٹی نہایت المناک انداز میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ خاص طور پر سندھ میں صوفی بزرگوں کے ساتھ عقیدت و محبت کے تعلق کی ثقافتی جڑیں بہت گہرائی تک چلی گئی ہے۔

لہٰذا یہ حیرت انگیز بات نہیں ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے سیاسی قتل کی وجہ سے سندھ میں ان کی شخصیت کے تصور پر تقریباً صوفیانہ رنگ چڑھ گیا ہے۔دونوں ہی اپنی زندگی کے دوران قابل رہنما تھے، لیکن سیاست کے کرکرے پن اور افراتفری سے دور نہیں تھے۔ موت کی وجہ سے ان کی عزت افزائی ہوئی، خاص طور پر سندھ میں اپنے حمایتوں کی جانب سے۔

چونکہ بے نظیربھٹو کی برسی کی خصوصی تقریب یہاں منعقد ہوتی ہے، اسی لیے بھٹو خاندان کے آبائی شہر لاڑکانہ اور اس کے اطراف میں اب تک اُداسی موجود ہے۔

درحقیقت لاڑکانہ، نوڈیرو اور گڑھی خدابخش کی سڑکوں پر چہل قدمی کرتے اور ڈرائیونگ کرتے ہوئے آپ اس کہیں زیاہ یہ محسوس کریں گے کہ جیسے ایک سیاسی جشن میں شریک ہوں۔

لاڑکانہ میں گڑھی خدابخش جانے والے تمام راستوں پر پیپلزپارٹی نے باقاعدہ استقبالیہ کیمپ لگا رکھے ہیں، جہاں سندھ اور پاکستان بھر سے آنے والے حمایتوں کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔

بھٹو خاندان کی تصاویر کے بینروں کے ہجوم کے ساتھ ہر طرف صوبائی، ضلعی اور مقامی عہدے داروں کی بڑی بڑی تصاویر کے بینرز بھی شہر میں ہرطرف بکھرے ہوئے ہیں۔

اسٹیریو ڈیک پر پیپلزپارٹی کے ترانے ”دلاں تیر بجاں“ سمیت نغمے گونج رہے ہیں، جس کی دھنوں پر پیپلزپارٹی کے جیالے مستانہ وار رقص کررہے ہیں۔ نوڈیرو کی گرد آلود سڑکوں پر نوجوانوں کے دستے پیپلزپارٹی اور سندھ پیپلز اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے پرچم لہراتے اور نعرے لگاتے مارچ کررہے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سیکیورٹی بہت سخت تھی، جیساکہ پولیس اہلکار چاروں اطراف گشت کررہے تھے۔ بے نظیر بھٹو کے مزار کے تمام داخلی راستوں کو جمعرات کی رات کے کسی حصے میں مکمل طور پر بند کردیا گیا تھا۔تاہم مزار کی عمارت کے اندر ایک مختلف ہی دنیا تھی۔ پیپلزپارٹی کے کارکنوں کی ایک واجبی سی تعداد، مجذوب قسم کے دیہاتی اور سیکیورٹی اہلکار باہم گتھم گتھا تھے۔ شاید یہ چھوٹا سا ہجوم سردی کی شدت سے بچنے کے لیے اندر گھس آیا تھا۔

سردی سے مقابلہ کرنے کے لیے پھیری لگانے والے اُبلے ہوئے انڈے، چاٹ، پاپڑ اور بھاپ اُڑاتی ہوئی گرما گرم چائے فروخت کررہے تھے۔ لیکن جیساکہ مزار میں موجود ایک صاحب نے بتایا کہ صبح ہوتے ہی اس ہجوم میں اضافہ ہونا شروع ہوجائے گا۔

ایک متاثر کن تقریب کے لیے اسٹیج بنایا گیا تھا۔ درحقیقت اس طرح کا اسٹیج موسیقی کے کنسرٹ کے لیے تیار کیا جاتا ہے، ٹمٹماتے برقی قمقموں، پیپلزپارٹی کے چمکتے رنگوں اور بے نظیر بھٹو، آصف زرداری، بلاول بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کے پورٹریٹس کے ساتھ اسٹیج تیار کیا گیا ہے۔ جیساکہ ایک ٹیکنیشن نے مضمون نگار کو بتایا کہ ساؤنڈ اور لائٹ اسپیشلسٹ کو کراچی اور لاہور سے بُلایاگیا تھا۔

پھر یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ ستائیس دسمبر اب پیپلزپارٹی کی قوت کے اظہار کے لیے ایک سالانہ شو میں تبدیل ہوچکا ہے، خاص طور پر اس سال جبکہ اسےعام انتخابات میں اپنے قلعے سندھ کو چھوڑ کر ملک بھر میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

نوڈیرو کے ایک مقامی صحافی رشید ابڑو نے بتایا کہ ”اس علاقے میں دوسری سیاسی جماعت حقیقی معنوں میں کوئی وجود نہیں رکھتی۔ لوگوں کا بھٹو خاندان کے ساتھ ایک خصوصی تعلق ہے۔ محترمہ نے لوگوں کو روزگار دیا تھا۔“

مقامی شاعر منظور منگی نے کہا کہ ”انہیں وڈیرہ کہا جاسکتا ہے، لیکن وہ وڈیرہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دل بھی رکھتے تھے۔ وہ عوام میں گھل مل جاتےتھے۔“

سندھ میں بھٹو کی پراسریت کے پیچھے جھوٹ کیا ہے۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی یہ مقبول سیاسی میراث ہے کہ پیپلزپارٹی پر لگائے جانے والے کرپشن اور حکومتی بدانتظامی کے تمام سنگین الزامات، خاص طور پر اس کی آخری مدت اقتدار کے باوجودکوئی بھی دوسری سیاسی جماعت ایسی نہیں جو سندھ کے لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کرے،یہ اس صوبے کے اندر ووٹروں کو اپنی جانب متوجہ کرتی رہے گی۔ حالانکہ اس چمکتی دمکتی عمارت کے بلند وبالا دیواروں سے باہر کی دنیا یعنی بھٹو کے مزار کے اردگرد ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور خستہ حال گھر موجود ہیں۔


یہ تحریر پہی بار 27 دسمبر 2013 کو شائع ہوئی