سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک اور ٹوئٹر نے امریکی جمہوریت کے وسیع تر مفاد میں اپنے پلیٹ فارمز کو بہتر طریقے سے محفوظ بنانے اور غیرملکی مداخلت سے پاک کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

امریکی سینیٹ نے انٹرنیٹ کے بڑے پلیٹ فارمز گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر کو پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا تاکہ وہ اس بات کی وضاحت کر سکیں کہ انہوں نے اپنے پلیٹ فارمز کو خصوصاً اگلے الیکشن کے لیے محفوظ تر بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔

منگل کو امریکی سینیٹ میں فیس بک اور ٹوئٹر کے اعلیٰ سطح کے نمائندے تو شرک ہوئے لیکن گوگل نے اپنے نمائندے کو بھیجنے سے انکار کردیا جس پر ان کے خلاف کارروائی کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: فیس بک پر دہشت گردی کی تشریح ریاستوں کو خاموش رہنے پر مجبور کرتی ہے،اقوام متحدہ

فیس بک کی جانب سے ان کی دوسری اعلیٰ ترین ایگزیکٹو شیرل سینڈبرگ اور ٹوئٹر کی جانب سے ان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیک ڈورسی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔

واضح رہے کہ چند ماہ قبل فیس بک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ بھی اسی سلسلے میں سینیٹ میں پیش ہوئے تھے اور ان کی طرح شیرل سینڈبرگ نے بھی تسلیم کیا کہ 2016 کے امریکی انتخابات اور اس کے بعد فیس بک روس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو امریکی مفادات کے منافی استعمال کیے جانے سے نہیں روک سکا۔

سینڈبرگ نے نئی ٹیکنالوجیز اور افرادی قوت کے حوالے سے درپیش مسائل اور فیس بک کی جانب سے ان مسائل کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی تفصیل پیش کی۔

ٹوئٹر کے نمائندہ ڈورسی نے بھی اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہاکہ جس طرح خیالات کے آزادانہ تبادلے کو غلط طریقے استعمال کرتے ہوئے ہمارے قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی ہمیں اس پر ہرگز خوشی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹوئٹر میں فیس بک جیسے فیچرز کی آزمائش

انہوں نے تسلیم کیا کہ 2016 کے انتخابات کے وقت ہم تیار نہیں تھے اور نہ ہی مسائل کے حل کے لیے ہمارے پاس درکار وسائل موجود تھے۔

ڈیمو کریٹک سینیٹر مارک وارنر نے گوگل کی جانب سے سینیٹ میں نمائندہ نہ بھیجنے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیس بک اور ٹوئٹر نے سنگین غلطیاں کیں اور ان پلیٹ فارمز کو خبردار کیا کہ انہیں نئے قوانین اور ضوابط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

شمالی کیرولینا سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر رچرڈ بر نے کہا کہ ہم جعل سازی کے خلاف متحرک ان دونوں پلیٹ فارمز کی کوششوں کو سراہتے ہیں لیکن ابھی بھی اس سلسلے میں بہت کچھ نہیں کیا گیا۔

اس کے جواب میں ڈورسی نے کہا کہ ہم روس کی مبینہ مداخلت سے منسلک تمام تر تر اکاؤنٹس کو تلاش کر رہے ہیں اور اب تک اس سلسلے میں 3ہزار 843اکاؤنٹس کو منقطع کر چکے ہیں۔

اسی طرح فیس بک نے بھی ایسے کئی پیجز کو بند کیا ہے جن کا مبینہ طور پر تعلق امریکی انتخابات پر اثرانداز ہونے والی روسی ایجنسی سے ہے۔

امریکی ماہرین کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ روس نے ناصرف 2016 کے الیکشن کے دوران ہیکنگ کی جس کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ برسر اقتدار آئے اور ملک کے نئے صدر بنے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی امریکا کے مفادات کے خلاف استعمال کیا۔

ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر الزام ہے کہ روس نے ان پلیٹ فارمز کا امریکی مفاد کے خلاف استعمال کیا اور ان سوشل میڈیا ویب سائٹس نے روس کی اس مذموم سازش کو ناکام بنانے کے لیے کوئی لائحہ عمل یا احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی تھیں۔

امریکا کے اسپیشل کونسل روبرٹ مولر نے 13روسی شہریوں پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے امریکی انتخابات پر اثرانداز ہونے کی فردجرم عائد کی تھی۔

مزید پڑھیں: گوگل کروم 10 سال بعد پہلی بار بدل گیا

فیس اور ٹوئٹر اپنے پلیٹ فارمز کو غلط استعمال سے روکنے کے لیے بہترین ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہیں لیکن مختلف پلیٹ فارم ہونے کی وجہ سے دونوں کی سوچ اور کام کا طریقہ کار بھی الگ ہے البتہ اس سلسلے میں فیس بک کے مقابلے میں ٹوئٹر بہت پیچھے ہے۔

فیس بک جعلی یا غیرتصدیق شدہ اکاؤنٹس کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لاتا ہے جبکہ ٹوئٹر کسی اکاؤنٹ کو جعلی یا غلط تصور کرنے کے لیے اس کی ٹوئٹس کے طریقہ کار اور مواد پر انحصار کرتا ہے۔